ملک اسحاق کو اسلحہ لائسنس کی تحقیقات

آخری وقت اشاعت:  بدھ 27 فروری 2013 ,‭ 16:04 GMT 21:04 PST
ملک اسحاق

ملک اسحاق کے خلاف بتیس مقدمات درج تھے جن میں سے اکثریت میں وہ ضمانت پر رہا ہوچکے ہیں

پاکستان کے وزیر داخلہ رحمان ملک کا کہنا ہے کہ اُنہوں نے اُن سرکاری افسران کے خلاف مقدمات درج کرنے کا حکم دیا ہے جنہوں نے کالعدم تنظیم لشکر جھنگوی کے سرکردہ رہنما ملک اسحاق کو اسلحہ لائسنس جاری کیے تھے۔

ملک اسحاق کو سندھ اور بلوچستان حکومت نے اسلحہ لائسنس جاری کیے تھے۔ وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ ان صوبوں کے ہوم سیکرٹریز کو اگلے چوبیس گھنٹوں کے دوران ذمہ دار فسران کے خلاف کارروائی کر نے کے بارے میں کہا ہے۔

وزارت داخلہ کے حکام چاروں صوبوں کے ہوم سیکرٹریز سے اُن افراد کے نام دینے کو کہا ہے جن کا تعلق کالعدم تنظیموں سے ہے اور اُنہیں صوبائی حکومتوں نے اسلحہ کے لائسنس جاری کیے گئے تھے۔

میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت نے وزارت داخلہ کو ملک اسحاق کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کرنے کی کبھی درخواست نہیں کی۔

اُنہوں نے کہا کہ دیگر صوبوں کی طرف سے شدت پسندی کے واقعات میں ملوث افراد کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کی سفارش کی گئی تھی، اُ؛س پر عمل درآمد کردیا گیا ہے۔

"وزارت داخلہ کے حکام چاروں صوبوں کے ہوم سیکرٹریز سے اُن افراد کے نام دینے کو کہا ہے جن کا تعلق کالعدم تنظیموں سے ہے اور اُنہیں صوبائی حکومتوں نے اسلحہ کے لائسنس جاری کیے گئے تھے"

رحمان ملک کا کہنا تھا کہ کوئٹہ ملک کے دیگر علاقوں میں شدت پسندی کے واقعات میں کالعدم تنظیم لشکر جھنگوی ملوث ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ملک اسحاق اس تنظیم کا سرغنہ ہے۔

یاد رہے کہ کوئٹہ میں ہزارہ ٹاؤن واقعہ کے بعد ملک اسحاق ان دنوں پنجاب پولیس کی حفاظتی تحویل میں ہیں۔

ملک اسحاق کے خلاف بتیس مقدمات درج تھے جن میں سے اکثریت میں وہ ضمانت پر رہا ہوچکے ہیں اور زیادہ تر مقدمات پنجاب کے جنوبی شہر رحیم یار خان میں درج ہوئے ہیں۔

وفاقی حکومت پنجاب حکومت پر الزام عائد کرتی رہی ہے کہ وہ لشکر جھنگوی سمیت دیگر شدت پسند تنظیموں کی پُشت پناہی کر رہی ہے تاہم صوبائی حکومت اس سے انکار کرتی ہے۔

وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیموں کی لیڈرشپ میں سے 35 افراد قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تحویل میں ہیں جن میں سے اکثریت کا تعلق لشکر جھنگوی سے ہے جن میں اکرم لاہوری، قادری اور نعیم بخاری شامل ہیں۔ یہ افراد ان دنوں کراچی جیل میں قید ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔