سزائے موت کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 28 فروری 2013 ,‭ 10:08 GMT 15:08 PST

پاکستان کی سپریم کورٹ نے فوجی عدالت کی طرف سے دو سویلین کو موت کی سزا دینے کے خلاف دائر درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔

ان افراد کو سابق فوجی صدر پرویز مشرف پر پچیس دسمبر سنہ دوہزار تین میں راولپنڈی میں جھنڈا چیچی کے مقام پر حملہ کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا

سنہ دوہزار پانچ میں اٹک قلعے میں اس مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے اس واقعہ میں ملوث نو افراد کو سزا سنائی تھی جن میں سے پانچ افراد کو موت کی سزا سنائی گئی تھی۔ موت کی سزا پانے والوں میں فوجی اہلکار محمد ارشد بھی شامل ہے۔

اس مقدمے میں مجرم قرار پانے والے رانا نوید اور عامر سہیل کو بالترتیب عمر قید اور بیس سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

مجرمان کے وکیل حشمت حبیب کی طرف سے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی گئی کہ اس سزا کے خلاف فوج کے رویو بورڈ نے اُن کے موکلوں کو دی گئی سزا کو تبدیل کرکے سزائے موت میں تبدیل کر دیا۔

اُنہوں نے کہا کہ ان افراد نے اپنی سزا کے خلاف کوئی درخواست بھی دائر نہیں کی تھی۔

درخواست گُزار کے وکیل نے الزام عائد کیا کہ فوج کی جیک برانچ نے ملی بھگت کر کے اُن کے موکل کے علم میں لائے بغیر اپنے تئیں درخواست دائر کی تھی۔

حشمت حبیب کا کہنا تھا کہ اس واقعہ میں ملوث افراد کو اکیس جولائی سنہ دوہزار پانچ کو سزا سُنائی گئی تھی جبکہ اس فیصلے کے خلاف درخواست نو دسمبر دو ہزار پانچ میں دائر کی گئی جو کہ زائد المعیاد ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ قانون کے تحت فیصلے کے چالیس روز کے اندر اندر نظرثانی کی درخواست دائر کرنا ہوتی ہے۔

درخواست گزار کے وکیل

درخواست گُزار کے وکیل نے الزام عائد کیا کہ فوج کی جیک برانچ نے ملی بھگت کر کے اُن کے موکل کے علم میں لائے بغیر اپنے تئیں درخواست دائر کی تھی۔

اس موقع پر چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ’ان افراد کے ساتھ تو ایسا ہوا ہے کہ نمازیں بخشوانے گئے تھے کہ روزے گلے پڑ گئے۔‘

درخواست گُزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ اس درخواست کے ساتھ نہ تو جیل کے سپرنٹینڈنٹ کے دستخط تھے اور نہ ہی اُن کے وکیل کے دستخط تھے۔

اُنہوں نے کہا کہ اس سے زیادہ غیر قانونی اور کیا بات ہو سکتی ہے کہ صوبہ پنجاب کے شہر اوکاڑہ میں رویو بورڈ کے سامنے اس درخواست پر کارروائی کے لیے مجرمان کے وکیل کو کوئی نوٹس جاری نہیں کیا گیا۔

فوج کی جیک برانچ کے وکیل مجیب الرحمن کا کہنا تھا کہ نظرثانی کی درخواست وقت گزرنے کے بعد بھی دائر کی جا سکتی ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ آرمی ایکٹ کے سیکشن 133 بی کے تحت اس درخواست پر کارروائی کی گئی ہے۔

عدالت نے فریقین کے دلائل سُننے کے بعد اس درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

رانا نوید زرعی ترقیاتی بینک میں چپڑاسی کا کام کرتے تھے جبکہ عامر سہیل کی منڈی بہاوالدین میں کریانے کی دکان تھی۔

پرویز مشرف پر حملے کے مقدمے میں رانا نوید کی بیوی شازیہ کو بھی گرفتار کیا گیا تھا لیکن عدالت نے اُنہیں رہا کر دیا۔

اس مقدمے میں موت کی سزا پانے والے ساہیوال اور جہلم کی جیلوں میں قید ہیں۔

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔