سربجیت کے وکیل کو طالبان کی ’دھمکی‘

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 2 مارچ 2013 ,‭ 07:27 GMT 12:27 PST
سربجیت سنگھ کی تصویرکے ساتھ اہل خانہ

سربجیت سنگھ پر لاہور بم دھماکے کا الزام ہے

تحریک طالبان کی جانب سے پاکستان کی جیل میں قید بھارتی شہری سربجیت سنگھ کے وکیل اویس شیخ کا دعویٰ ہے کہ ان کو دھمکی ملی ہے کہ وہ سربجیت کا مقدمہ لڑنا بند کر دیں۔

اویس شیخ نے بی بی سی کے نامہ نگار سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ کوئی ان کے گھر پر یہ خط پھینک کر گیا جو ان کی بیوی کے نام تھا۔

انہوں نے مزید تفصیلات بتاتے ہوئے لکھا کہ کالعدم تنظیم تحریکِ طالبان پاکستان کے ایک نامعلوم رکن کی جانب سے لکھے گئے اس خط میں اویس شیخ کی بیوی کو دھمکی دی گئی ہے کہ وہ اپنے شوہر کو سربجیت سنگھ کا کیس لڑنے سے باز رکھیں۔

اویس شیخ کے مطابق خط میں لکھا گیا ہے کہ ’میرا تعلق تحریکِ طالبان پاکستان سے ہے اور میں فیصل آباد ضلع کا رہنے والا ہوں۔ میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ آپ کے شوہر سربجیت سنگھ کا کیس لڑ رہے ہیں۔ سربجیت سنگھ بم دھماکے میں میرے پورے خاندان کے قتل کا ذمہ دار ہے۔ آپ کے شوہر سربجیت سنگھ کے بارے میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے ہیں۔‘

خط میں لکھا گیا کہ اگر شیخ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہیں تو وہ ان کا آخری دن ہوگا اور خاندان کے ہر رکن کو مار دیا جائے گا۔

"اویس شیخ لاہور کے ایک ایسے علاقے میں رہتے ہیں جو فوجی علاقہ ہی سمجھا جاتا ہے اور بہت محفوظ تصور کیا جاتا ہے۔"

لاہور سے نامہ نگار علی سلمان

خط کے مطابق ’کل صبح تو آپ کے بچوں کی لاشیں آپ کو مل جائیں گی۔ میں آپ کے بچوں کو جانتا ہوں۔ میں ان کا اغوا کر لوں گا اور ان کی لاش بھیج دوں گا۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے بچے زندہ رہیں، تو آپ پریس کانفرنس سے خطاب نہیں کریں۔‘

اویس شیخ سے جب پوچھا گیا کہ کیا انہوں نے پولیس یا متعلقہ حکام کو اس سلسلے میں رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ کل اس بارے میں فیصلہ کریں گے اور متعلقہ حکام کو اس بارے میں لکھیں گے۔

دھمکی۔۔۔

"کل صبح تو آپ کے بچوں کی لاشیں آپ کو مل جائیں گی۔ میں آپ کے بچوں کو جانتا ہوں۔ میں ان کا اغوا کر لوں گا اور ان کی لاش بھیج دوں گا۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے بچے زندہ رہیں، تو آپ پریس کانفرنس سے خطاب نہیں کریں"

اویس شیخ نے کہا کہ انہیں لاہور پریس کلب میں سربجیت سنگھ پر لکھی ان کی کتاب کی اجراء سےروکا گیا۔

پی ٹی آئی کے مطابق انہوں نے کہا کہ ’میرے بیٹے کو ایک گمنام شخص کی طرف سے دھمکی آمیز فون بھی آیا ہے۔ میں پولیس سے اس کی شکایت کروں گا اور تحفظ طلب کروں گا۔‘

شیخ نے کہا کہ ’جب وہ پریس کلب پہنچے تو انہیں بتایا گيا کہ سیکورٹی وجوہات کی بنا پر پریس کانفرنس منعقد نہیں کی جا سکتی۔‘

پاکستان سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر حامد خان، پاکستان انسانی حقوق کمیشن کے ڈائریکٹر آئی اے رحمان اور دوسرے لوگوں نے پریس کلب کے فیصلے کی مخالفت کی ہے۔

واضح رہے کہ سربجیت سنگھ پر 1990 میں پاکستان میں بم دھماکوں میں حصہ لینے کا الزام ہے۔ ان حملوں میں 14 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

لیکن، سربجیت سنگھ کا خاندان ان الزامات سے انکار کرتا ہے۔خاندان کے مطابق دھماکوں میں حصہ لینے والے دوسرے لوگ تھے اور یہ غلط شناخت کا معاملہ ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔