کراچی: ہلاکتیں 48، شہر میں ہڑتال اور سوگ

آخری وقت اشاعت:  پير 4 مارچ 2013 ,‭ 14:55 GMT 19:55 PST

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں اتوار کی شام ہونے والے بم دھماکے میں ہلاک ہونے والوں کی تدفین سے واپس آنے والے افراد پر فائرنگ کے واقعے میں مزید ایک شخص ہلاک اور رینجرز کے پانچ اہلکاروں سمیت تینتیس افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

یہ دھماکا اتوار کی شام کراچی کے شرقی حصے میں ابوالحسن اصفہانی روڈ پر عباس ٹاؤن میں واقع رہائشی کمپلکس اقرا سٹی میں ہوا تھا جس سے دو رہائشی عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا تھا۔

اس دھماکے میں ہلاک شدگان کی تعداد اڑتالیس تک پہنچ گئی ہے جبکہ اس واقعے کے خلاف حکومتی اور عوامی سطح پر پیر کو سوگ منایا جا رہا ہے اور پاکستان کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اس دھماکے کا از خود نوٹس لے لیا ہے۔

فائرنگ کا یہ واقعہ سہراب گوٹھ کے علاقے میں پیر کی شام اس وقت پیش آیا جب لوگ سپر ہائی وے پر واقع وادی حسین قبرستان میں تیس افراد کی اجتماعی تدفین کے بعد واپس شہر کی جانب آ رہے تھے۔

پولیس حکام کے مطابق فائرنگ سے ایک شخص ہلاک ہوگیا جبکہ رینجرز کے پانچ اہلکاروں سمیت تینتیس افراد زخمی ہوئے ہیں جنہیں شہر کے مختلف ہسپتالوں میں لایا گیا ہے۔

فائرنگ کے اس واقعے کے بعد علاقے میں حالات کشیدہ ہوگئے اور مشتعل افراد نے متعدد گاڑیوں کو نذرِ آتش کر دیا۔

شہر میں سوگ

کراچی میں یومِ سوگ کے موقع پر شیعہ تنظیموں نے ہڑتال کی کال بھی دی تھی جس پر شہر میں کاروباری مراکز اور ٹرانسپورٹ کے علاوہ تعلیمی ادارے بھی بند رہے۔ شہر میں زندگی صبح ہی سے مفلوج اور سڑکیں ویران رہیں۔

"میں اپنے ایک رشتے دار کو ڈھونڈ رہی ہوں۔ لوگوں نے بتایا کہ وہ یہاں تھے۔ لیکن اب ان کا کوئی اتا پتا نہیں ہے۔ ملبے میں اب بھی کچھ لاشیں دبی ہوئی ہیں۔"

فرزانہ اظفر

عباس ٹاؤن میں ہونے والے دھماکے میں جن عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا تھا ان کے مکین اور ہلاک ہونے والوں کے لواحقین منگل کو اپنا سامان سمیٹتے نظر آئے۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ دھماکے کے باعث متاثرہ عمارتیں انتہائی مخدوش ہو چکی ہیں اور مرمت کے قابل بھی نہیں رہی ہیں۔

دھماکے میں متاثر ہونے والی ایک خاتون نے روتے ہوئے کہا ’میں کیا بتاؤں، میری امی ہسپتال میں ہیں، میرا بھائی ہسپتال میں ہے، میرے بھتیجے کی دونوں ٹانگیں ٹوٹ گئیں ہیں، میں کیا بتاؤں، میرا تو پورا گھر تباہ ہوگیا ہے ۔۔۔ بس اعلان ہوتے ہیں دس لاکھ دیں گے بیس لاکھ دیں گے ۔۔۔ کوئی نہیں پوچھتا۔‘

خیال رہے کہ وزیرِ اعلیٰ سندھ نے ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کے لیے پندرہ پندرہ لاکھ اور زخمیوں کے لیے دس دس لاکھ روپے کے معاوضے کا اعلان کیا ہے۔

ادھر کراچی کے پولیس سرجن اسلم پیچوہو نے بتایا ہے کہ اس دھماکے میں ہلاک ہونے والے اڑتالیس افراد میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں اور 200 سے زیادہ افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں سے تین کی حالت نازک ہے۔

انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ جناح ہسپتال میں دو خواتین سمیت تینتیس افراد کی لاشیں جبکہ عباسی شہید ہسپتال میں چودہ اور سول ہسپتال میں ایک لاش پہنچائی گئی اور ان تمام ہلاک شدگان کا پوسٹ مارٹم کر لیا گیا ہے۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ جائے وقوع سے ایک سر اور ایک بغیر سر کی لاش بھی ملی ہے جن کی شناخت کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ کیا جا رہا ہے۔

"میں کیا بتاؤں، میری امی ہسپتال میں ہیں، میرا بھائی ہسپتال میں ہے، میرے بھتیجے کی دونوں ٹانگیں ٹوٹ گئیں ہیں، میں کیا بتاؤں، میرا تو پورا گھر تباہ ہوگیا ہے ۔۔۔ بس اعلان ہوتے ہیں دس لاکھ دیں گے بیس لاکھ دیں گے ۔۔۔ کوئی نہیں پوچھتا۔"

متاثرہ خاتون

اسلم پیچوہو نے کہا کہ دھماکے میں زخمی ہونے والے 170 افراد نجی ہسپتالوں میں لائے گئے جبکہ 30 زخمی افراد کو سرکاری ہسپتالوں میں علاج مہیا کیا گیا۔ ان کے بقول جناح ہسپتال میں تین افراد کا آپریشن کیا گیا ہے جن کی حالت اب بھی خطرے سے باہر نہیں ہے۔

چیف جسٹس کا ازخود نوٹس

سپریم کورٹ کی جانب سے صوبہ سندھ کے پراسیکیوٹر جنرل اور سندھ پولیس کے سربراہ کو نوٹس جاری کیے گئے ہیں کہ وہ چھ مارچ کو کراچی میں امن وامان کیس کی سماعت کرنے والے بینچ کے سامنے تفصیلی جواب داخل کروائیں۔

از خود نوٹس میں چیف جسٹس کا یہ بھی کہنا تھا کہ مذکورہ افسران یہ بھی بتائیں کہ حکومت لوگوں کی جان ومال کے تحفظ میں کیوں ناکام رہی تاکہ اس معاملے کی سماعت کے بعد مناسب احکامات جاری کیے جا سکیں۔ چیف جسٹس نے تین مارچ کے واقعہ سہ متعلق اخبارت میں شائع ہونے والی خبروں پراز خود نوٹس لیا ہے۔

سپریم کورٹ کی طرف سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ اخبارات میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے کے اہلکار اور سرکاری حکام کی نجی تقریب میں شرکت کی وجہ سے وہ جائے حادثہ پر تاخیر سے پہنچے جس کی وجہ سے امدادی کارروائیاں بروقت شروع نہ ہو سکیں۔

وزیرِاعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے سی آئی ڈی کے ایڈیشنل آئی جی کی سربراہی میں عباس ٹاؤن دھماکے کی تحقیقات کے لیے ایک چھ رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے جس میں پولیس اور رینجرز کے اعلٰی افسران شامل ہوں گے۔ یہ کمیٹی تین دن میں اپنی رپورٹ سندھ حکومت کو پیش کرے گی۔

کراچی پولیس کے مختلف شعبوں نے دھماکے کے بعد مشترکہ تفتیش شروع کر دی ہے اور دھماکے کے مقام سے شواہد اور ثبوت جمع کیے جا رہے ہیں۔

ایس ایس پی سی آئی ڈی پولیس فیاض خان کا کہنا ہے کہ اس دھماکے میں دو سو کلوگرام سے زیادہ دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا جس میں بال بیئرنگ بھی تھے اور اسی وجہ سے ہلاکتیں بھی زیادہ ہوئیں۔

کراچی میں ہونے والے دہشت گردی کے اس واقعہ میں رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا جو ایک نیا رجحان ہے۔

ایس ایس پی فیاض خان کے مطابق ’جب دہشت گرد دیکھتے ہیں کہ مسجدوں، امام بارگاہوں اور دیگر جگہوں پر سکیورٹی زیادہ ہوگئی ہے تو وہ ’سافٹ ٹارگٹ‘ تلاش کرتے ہیں۔ کوئٹہ میں بھی ایسا ہی ہوا تھا جہاں ایک مخصوص آبادی والے علاقے کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔