خیبر: آپسی لڑائی کے نتیجےمیں نقل مکانی جاری

آخری وقت اشاعت:  پير 4 مارچ 2013 ,‭ 08:09 GMT 13:09 PST
محمد سیعد کا خانوادہ

اس خاندان نے جان بچانے کے لیے پشاور تک کا سفر پیدل طے کیا

خیبر ایجنسی کے محمد سعید اور ممتاز گل ملکی سطح پر نقل مکانی پر مجبور لوگوں (آئی ڈی پیز) کی روز افزوں فہرست میں نئے نام ہیں۔

افسوسناک بات یہ ہے کہ ان کی کہانی بھی بہت سے دوسرے لوگوں کی کہانیوں کی طرح جھنجھوڑ کر رکھ دینے والی ہے۔

وہ تقریباً ان تین ہزار لوگوں میں شامل ہیں جو خیبر ایجنسی سے عسکریت پسندوں کی آپسی لڑائی کے نتیجے میں نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔

اب وہ حکومت سے خوراک اور پناہ حاصل کرنے کے لیے صبر آزما جنگ لڑ رہے ہیں۔

میری ملاقات ان سے جلوزئی میں گھر بار چھوڑ کر آنے والے افراد کے رجسٹریشن مرکز پر ہوئی۔ یہ جگہ صوبائی دارالحکومت پشاور سے 30 کلومیٹر مشرق میں واقع ہے۔

36 سالہ محمد سعید نے کہا: ’یہاں حکام کا کہنا ہے کہ ہم لوگوں کی نقل مکانی کے بارے میں ابھی نوٹس جاری نہیں ہوئے ہیں اس لیے ہمیں امداد نہیں مل سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہماری رجسٹریشن خیبر قبائلی انتظامیہ کرے گی۔ میں کل پشاور میں خیبر کے دفتر میں تھا وہاں انھوں نے کہا کہ رجسٹریشن جلوزئی کیمپ میں کی جائے گی۔‘

دفتری لال فیتے کے چکر میں پھنسے ان لوگوں نے پشاور سے 15 کلومیٹر شمال ایک گاؤں میں تقریباً دو ہزار روپے ماہانہ کرایے پر گھر لے رکھے ہیں تاکہ اپنے کنبوں کو پناہ گاہ فراہم کر سکیں۔

سعید جیسے لوگوں کے لیے یہ دوہری پریشانی کا معاملہ ہے۔ پہلے تو آپ جان کی امان کے لیے سر پر پاؤں رکھ کر بھاگتے ہیں اور پھر دفتروں کے چکر لگا لگا کر جوتیاں چٹخاتے ہیں، یہ جاننے کے لیے کون سا دفتر آپ کی مہاجرت کی سند فراہم کرے گا۔

"میں نے اپنے خاندان کے تیرہ افراد کو اکٹھا کیا جن میں تین خواتین اور آٹھ بچے شامل ہیں اور چار دنوں تک پرپیچ پہاڑوں میں چلتا رہا اور ان میں سے ایک بھی گنوائے بغیر پیشاور پہنچا"

فروری کے پہلے ہفتے میں خیبر کے قدرتی مناظر والے علاقے تیراہ میں تختہ کائی وادی میں جب برفباری شروع ہوئی تو ساتھ ہی ساتھ چار مختلف عسکری گروہوں میں خوفناک جنگ بھی چھڑ گئی۔

اس علاقے کی دفاعی اہمیت ان لوگں کو معلوم ہے جو ان علاقوں سے واقف ہیں۔ یہ علاقے یہاں کے سب سے زیادہ آبادی والے ہیں اور یہیں سے پاکستانی فوج کے لیے شمال میں افغانستان کی سرحد کے لیے سپلائی جاتی ہے۔ اس کے جنوب میں طالبان کے زیرِ اثر اورکزئی ایجنسی کا علاقہ ہے۔

مقامی قبائلیوں نے چار سال تک عسکریت پسندوں کو روکے رکھا، اس وقت تک جب تک تحریکِ طالبان پاکستان نے حریف جماعت لشکر اسلام کے ساتھ ہاتھ ملا کر قبائلی دفاع کو توڑ دیا۔

سعید نے بتایا: ’ایک دن تک وادی میں ادھر سے ادھر بم برستے رہے اور شام تک یہ خبر آئی کی باہری دفاعی چوکی گر چکی ہے اور زیادہ تر مقامی جنگجو مارے جا چکے ہیں۔‘

طالبان کی انتقامی کارروائی کے خوف سے لوگ اپنے گھر بار حتیٰ کہ مویشی تک چھوڑ کر بھاگ نکلے۔

انھوں نے بتایا کہ ’میں نے اپنے خاندان کے 13 افراد کو اکٹھا کیا جن میں تین خواتین اور آٹھ بچے شامل ہیں اور چار دنوں تک پرپیچ پہاڑوں میں چلتا رہا اور ان میں سے ایک بھی گنوائے بغیر پشاور پہنچا۔‘

50 سالہ ممتاز گل نے اپنے خاندان کے 25 افراد کے ساتھ تختہ کائی کو چھوڑا تھا۔ وہ اپنے بچوں کے کھوجانے اور اپنے بوڑھوں کے مر جانے کے بارے میں بتاتے ہیں۔

کیمپ

کیمپوں میں خوراک کی کمی کی عام شکایت ہے

گل نے کہا: ’بھاگنے والے خاندانوں میں ایک خاتون ایسی تھیں جنھیں اپنے 18 ماہ کے بچے کو ٹھیک سے کپڑے پہنانے کا بھی موقع نہیں مل سکا تھا۔ بچے کو نمونیا ہو گیا اور دوسرے روز ہی وہ چل بسا۔ ہم لوگوں نے دو گھنٹے کے لیے ایک جگہ قیام کیا اور بچے کا جنازہ پڑھا اور اسے دفنا دیا۔ ماں تو ٹوٹ چکی تھی۔ اس نے اپنے شال سے بچے کو ڈھکنے کی کوشش کی تھی لیکن وہ تین فٹ برف میں چلتے ہوئے اسے گرم رکھنے میں ناکام رہی۔‘

سعید نے کہا کہ اسی طرح ان کی سالی پھسل گئیں اور ٹخنے میں چوٹ آگئی اور پھر اگلے تین دنوں تک سعید اور ان کے 18 سالہ بھتیجے ان کو اپنی پیٹھ پر باری باری ڈھوتے رہے۔

انھوں نے تختہ کائی سے پیشاور کا سفر پیدل ہی کیا، سوائے دو بار انہیں تھوڑی دیرکے لیے ٹرک پر سواری کا موقع ملا۔

دوسری جانب جلوزئی کیمپ کا یہ حال ہے کہ خوارک کی تقسیم کے مرکز پر لوگ ماہانہ خوراک کے لیے جمع ہیں، دوسری طرف حالیہ دنوں خوراک کی فراہمی میں لگاتار کمی آئی ہے۔

62 سالہ عبدالحمید نے بتایا: ’ہم لوگوں کو جتنا ملتا ہے وہ صرف چار پانچ دنوں کے لیے کافی ہوتا ہے کیونکہ کھانے والے 17 منھ ہیں۔‘

اسلام آباد میں اقوامِ متحدہ کے حکام یہ تسلیم کرتے ہیں کہ راشن میں کٹوتی ہوئی ہے اور عمل تولید سے متعلق صحت اور نوزائیدوں کے لیے امداد تو بالکل ہی بند کر دی گئی ہے۔

"اگر کیمپ میں مزید لوگوں کو لیا گیا تو وسائل کی کمی سے وہاں بدامنی پھیل سکتی ہے، چونکہ یہ معاملہ کئی برسوں سے جاری ہے اس لیے مخیر حضرات میں تھی ایک قسم کی تھکان نظر آ رہی ہے"

اس کی وجہ یہ ہے کہ انہیں 28 کروڑ 90 لاکھ ڈالر کا صرف 76 فی صد فنڈ ہی مل سکا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اگلے سال تک ان خدمات کو جاری رکھنے کے لیے انھیں مزید سات کروڑ ڈالر کی ضرورت ہے۔

خیبر پختونخوا کے صوبائی حکام کا کہنا ہے کہ مالی تنگی کے باوجود انھوں نے نو لاکھ ڈالر کی فنڈنگ کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’اگر کیمپ میں مزید لوگوں کو لیا گیا تو وسائل کی کمی سے وہاں بدامنی پھیل سکتی ہے، چونکہ یہ معاملہ کئی برسوں سے جاری ہے اس لیے مخیر حضرات میں بھی ایک قسم کی تھکان نظر آ رہی ہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ 2008 سے اب تک خیبر پختونخوا حکومت نے دو لاکھ 98 ہزار خاندان کو تعاون فراہم کیا ہے اور ان میں سے ایک لاکھ 63 ہزار ابھی تک اپنے گھروں سے کو لوٹ نہیں سکے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔