افغان رسد پر ٹیکس چوری، فیصلہ محفوظ

آخری وقت اشاعت:  پير 4 مارچ 2013 ,‭ 12:26 GMT 17:26 PST
سپریم کورٹ

سپریم کورٹ نے اس معاملے کا از خود نوٹس لیا تھا

سپریم کورٹ نے افغانستان میں تعینیات انٹرنیشنل اسسٹنٹ فورس (ایساف) کو پاکستان کے راستے بھیجے جانے والے سامانِ رسد میں چون ارب روپے سے زائد کسٹم ڈیوٹی کی چوری سے متعلق از خود نوٹس کا فیصلہ محفوظ کرلیا۔

عدالت کو بتایا گیا کہ اس مد میں ذمہ دار افراد سے صرف 56 لاکھ روپے واپس وصول کیے گئے ہیں۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے چون ارب روپے کی کسٹم ڈیوٹی ادا نہ کرنے سے متعلق از حود نوٹس کی سماعت کی تو فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے وکیل رانا شمیم نے عدالت کو تبایا کہ ذمہ داروں سے کسٹم ڈیوٹی کی ادائیگی اس لیے مشکل ہے کیونکہ اس کے کنٹریکٹرز زیادہ تر افغان ہیں۔

اُنہوں نے کہا کہ نیشنل لاجسٹک سیل بھی اس معاملے میں کنٹریکٹرز میں شامل ہیں جنہوں نے سندھ ہائی کورٹ سے حکم امتناعی حاصل کیا ہوا ہے اس لیے اُن کے خلاف کارروائی نہیں ہوسکی۔

اُنہوں نے کہا کہ فوجداری معاملہ قومی احتساب بیورو کے پاس ہے جبکہ ریکوری کا معاملہ ایف بی آر کے پاس ہے۔ رانا شمیم کا کہنا تھا کہ اُنہوں نے گیارہ ہزار کنٹیرز کے مالکان کو نوٹس جاری کیے تھے لیکن اس پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ ایف بی آر کے وکیل کا کہنا تھا کہ ایساف کے لیے رسد کا سامان افغانستان لے کر جانے کی ساری ذمہ داری این ایل سی کے پاس تھی۔

بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ وقت گُزرنے کے ساتھ ساتھ اس معاملے میں شواہد بھی ختم کیے جا رہے ہیں تاکہ ذمہ داروں کے خلاف کوئی کارروائی نہ ہوسکے۔

ایف بی آر کے وکیل کا کہنا تھا کہ اس معاملے میں فرائض میں غفلت برتنے پر کچھ افسران جیل میں ہیں جبکہ کچھ کو عدالتوں نے ضمانت پر رہا کیا ہوا ہے۔

بینچ میں موجود جسٹس گلزار احمد کا کہنا تھا کہ حکومت کو افغان ٹریڈ معاہدے سے کچھ حاصل نہیں ہو رہا بلکہ اس سے قومی حزانے کو نقصان ہی پہنچ رہا ہے۔

"کسٹم ڈیوٹی کی ادائیگی نہ ہونا ملک کا سب سے بڑا سکینڈل بن سکتا ہے"

چیف جسٹس پاکستان

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ عدالت نے اس معاملے کو ایک سال سے زائد عرصہ پہلے ایف بی آر کو بھیجا تھا تاکہ ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جاسکے لیکن اس عرصے کے دوران کچھ بھی نہیں ہوا۔

اُنہوں نے کہا کہ ایف بی آر کے جو افسر کسٹم ڈیوٹی کی ریکوری پر تعینات تھے اُنہیں تبدیل کردیا گیا۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ایف بی آر کے سابق چیئرمین سلمان صدیقی کے دور میں اس معاملے میں پیش رفت ہوئی تھی لیکن اُس کے بعد عملی اقدامات نہیں کیے گئے۔

بینچ میں موجود جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ ایف بی آر کسی دوسرے ملک کے لیے کام کر رہا ہے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ کسٹم ڈیوٹی کی ادائیگی نہ ہونا ملک کا سب سے بڑا سکینڈل بن سکتا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ اس معاملے کو وفاقی محتسب برائے ٹیکس ڈاکٹر شعیب سڈل کو بھیج دیتے ہیں تاکہ وہ اس معاملے میں ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کریں۔

عدالت نے اس از خود نوٹس پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔ عدالت کا کہنا تھا کہ وہ ایک دو روز میں اس کا فیصلہ سُنائے گی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔