سکیورٹی اہلکاروں کے کوائف جمع کرنے کی ہدایت

آخری وقت اشاعت:  منگل 5 مارچ 2013 ,‭ 10:40 GMT 15:40 PST

وفاقی حکومت نے قانون نافذ کرنے والے اداروں میں موجود ایسے اہلکاروں سے متعلق کوائف جمع کرنے کے بارے میں کہا ہے جن کا جھکاؤ کسی کالعدم تنظیم کی طرف ہے یا پھر ان تنظیموں کے منشور سے متاثر ہیں۔

ان اداروں میں پولیس کے علاوہ فرنٹیر کانسٹیبلری اور رینجرز شامل ہیں۔

پہلے مرحلے میں ایوان صدر، وزیر اعظم ہاؤس، پارلیمنٹ ہاؤس، پارلیمنٹ لاجز، منسٹرز کالونی، چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ اور گورنرز ہاؤس میں تعینات اہلکاروں کے بارے میں کوائف اکھٹے کیے جائیں گے۔

اس کے علاوہ اہم شخصیات کی حفاظت کے لیے لگائے گئے روٹ پر تعینات اہلکاروں کے بارے میں بھی کوائف جمع کیے جائیں گے۔

دوسرے مرحلے میں سفارت کاروں اور حکومت میں شامل اہم شخصیات کی حفاظت پر مامور اہلکاروں سے متعلق معلومات بھی اکٹھی کی جائیں گی۔

وزارت داخلہ کے ایک اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ ایسے افراد کے خلاف کوائف جمع کرنے کی ذمہ داری انٹیلیجنس بیورو کو دی گئی ہے جبکہ صوبائی حکومتوں سے کہا گیا ہے کہ پولیس کے خفیہ محکمے سی آئی ڈی میں تعینیات افراد ضرورت پڑنے کی صورت میں انٹیلیجنس بیورو کے حکام کی معاونت کریں۔

اہلکار کے مطابق خفیہ اداروں کی طرف سے وزارت داخلہ کو رپورٹس بھیجی تھیں جس میں کہا گیا تھا کہ کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے افراد قانون نافذ کرنے والے اداروں میں موجود اہکاروں کے ساتھ نہ صرف اپنے تعلقات استوار کیے ہوئے ہیں بلکہ اُنہیں اپنے منشور کے بارے میں قائل بھی کر رہے ہیں۔

کالعدم تنظیموں سے تعلقات

اہلکار کے مطابق خفیہ اداروں کی طرف سے وزارت داخلہ کو رپورٹس بھیجی تھیں جس میں کہا گیا تھا کہ کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے افراد قانون نافذ کرنے والے اداروں میں موجود اہکاروں کے ساتھ نہ صرف اپنے تعلقات استوار کیے ہوئے ہیں بلکہ اُنہیں اپنے منشور کے بارے میں قائل بھی کر رہے ہیں۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کے کوائف جمع کرنے سے متعلق ذرائع نے بتایا کہ اُن کے آبائی علاقوں سے رپورٹ اکھٹی کرنے کے ساتھ ساتھ اُن کے کمانڈنگ افسرز سے بھی معلومات اکھٹی کی جائیں گی۔

اہلکار کے مطابق کالعدم تنظیموں کے افراد قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ایسے اہلکاروں تک رسائی اور اُن سے رابطے بڑھانے اور اپنے منشور کے بارے میں قائل کرنے میں آسانی ہے جو دور دراز علاقوں میں تعینات ہیں۔

یاد رہے کہ کچھ عرصہ قبل اسلام آباد پولیس کے سربراہ طارق سلیم لون پولیس اہلکاروں کو راولپنڈی اور دیگر علاقوں میں تبلیغی اجتماع میں شرکت کے لیے احکامات دیتے تھے جس کی وجہ سے بیوروکریسی اور خود پولیس کے محکمے میں تحفظات پائے جاتے تھے۔

اسلام آباد پولیس نے وزارتِ داخلہ کی منظوری کے بعد تین سو سے زائد ریٹائرڈ فوجی اہلکاروں کو کانٹریکٹ پر بھرتی کیا ہوا ہے جن کی مدت ملازمت میں دو ہزار چودہ تک توسیع کردی گئی ہے۔

ان ریٹائرڈ فوجی اہلکاروں کو سفارت خانوں کے علاوہ ملک کی اہم ترین شخصیات کی حفاظت کے لیے لگائے جانے والے روٹ پر تعینات کیا جاتا ہے۔

ان اہلکاروں کے کوائف کی تصدیق کے لیے کوائف اُن کے آبائی علاقوں میں بھجوائے گئے تھے لیکن ابھی تک پولیس کے حکام نے ان افرد کے بارے میں دستاویزات کی تصدیق کر کے واپس نہیں بھجوائے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔