ڈرون حملہ:’امریکہ‘ نے نہیں کیا، پاکستان نے بھی’نہیں‘ کیا

آخری وقت اشاعت:  منگل 5 مارچ 2013 ,‭ 14:15 GMT 19:15 PST

چھ فروری کو شمالی وزیرستان کی تحصیل غلام خان میں ایک ڈرون حملہ ہوا تھا

پاکستانی فوج نے امریکی اخبار میں شائع ہونے والی اس خبر کو حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کی کوشش قرار دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ ماہ پاکستانی کے قبائلی علاقے میں ہونے والے دو ڈرون حملے امریکہ نے نہیں کیے تھے۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز میں منگل کو شائع ہونے والی ایک خبر میں کہا گیا ہے کہ امریکہ میں ڈرون پروگرام سے وابستہ اہلکار ایسے کسی حملوں سے لاعلم ہیں۔

اخبار کے مطابق یہ حملے چھ اور آٹھ فروری 2013 کو بالترتیب شمالی اور جنوبی وزیرستان میں کیے گئے تھے لیکن امریکی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ نے حملے نہیں کیے۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’وہ ہمارا کام نہیں تھا۔ ہم نے جنوری کے بعد سے کسی قسم کی کارروائی نہیں کی ہے۔‘

اخبار کے مطابق پاکستان کے اس دور دراز قبائلی علاقے میں درحقیقت کیا ہوا یہ تو واضح نہیں لیکن امریکیوں کا اندازہ ہے کہ یہ حملے پاکستانی فوج کا کام ہیں اور انہیں پاکستانی عوام کے ردعمل سے بچنے کے لیے سی آئی اے کے سر منڈھ دیا گیا ہے۔

اس خبر پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے سربراہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس قسم کا الزام حقائق کو مسخ کرنے کے مترادف اور ڈرون حملوں پر پاکستانی موقف کو کمزور کرنے کی کوشش ہے۔

"اس قسم کا الزام حقائق کو مسخ کرنے کے مترادف اور ڈرون حملوں پر پاکستانی موقف کو کمزور کرنے کی کوشش ہے۔"

آئی ایس پی آر

ترجمان نے تردید کی کہ پاکستانی فوج نے اس علاقے میں ان تاریخوں میں کوئی فوجی آپریشن یا فضائی کارروائی کی ہے جن کا ذکر خبر میں کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ چھ فروری کو شمالی وزیرستان کے صدر مقام میران شاہ سے پچیس کلومیٹر دور افغان سرحد کے قریب تحصیل غلام خان میں ایک ڈرون حملہ ہوا تھا جس میں ایک مکان کو دو میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا تھا اور اس میں ایک غیر ملکی شدت پسند ہلاک ہوا تھا۔

اس حملے کے بعد امریکہ میں پاکستان کی سفیر شیری رحمان نے واشنگٹن میں صحافیوں سے بات چیت کے دوران پاکستان کے اس موقف کو دہرایا تھا کہ پاکستان کی سرزمین پر امریکی ڈرون حملے بین الاقوامی قوانین کی خلاف وزری ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر امریکہ نے ڈرون حملے بند نہ کیے تو پاکستان امریکہ سے دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں تعاون بند کرسکتا ہے۔ انہوں نے اس بات کی بھی تردید کی تھی کہ پاکستانی سرزمین پر امریکی حملوں کو پاکستان کی خاموش تائيد حاصل ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔