کراچی: مزید دو لاپتہ بلوچوں کی لاشیں برآمد

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 7 مارچ 2013 ,‭ 10:30 GMT 15:30 PST
احتجاج

کراچی سے لاپتہ بلوچوں کی لاشیں ملنے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی سے لاپتہ بلوچ نوجوانوں کی لاشیں ملنے کا سلسلہ جاری ہے اور جمعرات کو مزید دو لاشیں ملنے کے بعدگزشتہ دو ماہ میں شہر سے ملنے والی ایسی لاشوں کی تعداد سات ہوگئی ہے۔

ایس ایس پی غربی آصف اعجاز شیخ نے بی بی سی کو بتایا کہ دو نوجوانوں کی لاشیں ناردن بائی پاس کے قریب منگھوپیر کے علاقے سے ملی ہیں جنہیں بظاہر گلا گھونٹ کر ہلاک کیا گیا تھا کیونکہ ان کے گلے پر رسی کے نشانات پائے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دونوں نوجوانوں کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ یہ دونوں لاپتہ بلوچ نوجوان تھے جنہیں نامعلوم افراد نے اغواء کیا تھا۔ ان کے بقول ان کی لاشیں پوسٹمارٹم کے بعد ورثاء کے حوالے کر دی جائیں گی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ دو لاپتہ بلوچ نوجوانوں کے پاس سے پرچیاں برآمد ہوئی ہیں جن پر ان کے نام بابو افتخار اور مقبول لکھے ہوئے تھے۔

کراچی پریس کلب کے ساتھ لاپتہ بلوچوں کے لیے لگائے جانے والے ایک احتجاجی کیمپ میں موجود کارکن ماما قدیر نے بی بی سی کو بتایا کہ ان دو لاشوں کے بعد کراچی سے لاپتہ بلوچ افراد کی ملنے والی لاشوں کی تعداد سات ہوگئی ہے۔

ماما قدیر کا کہنا ہے کہ دونوں نوجوان کراچی میں اقراء یونیورسٹی کے طالبعلم تھے اور دو سال سے کراچی میں ہی رہائش پذیر تھے جبکہ ان دونوں کا تعلق پنجگور سے تھا۔ ان کے بقول ان نوجوانوں کو اٹھائیس جنوری کو اغواء کیا گیا تھا۔

بلوچ تنظیمیں پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں پر کراچی سے بلوچ نوجوانوں کے اغوا کے الزامات لگاتی رہی ہیں تاہم شہر سے لاپتہ ہونے والے بلوچ نوجوانوں کی لاشیں ملنے کا رجحان نیا ہے۔

وائس فار مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین قدیر ریکی نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ بلوچ نوجوانوں کو بلوچستان سے حراست میں لے کر کراچی کے عقوبت خانوں میں منتقل کیا جاتا ہے اور جب وہ تشدد میں ہلاک ہو جاتے ہیں تو ان کی لاشیں یہاں ہی پھینک دی جاتی ہیں جو پہلے صرف بلوچستان سے برآمد ہوتی تھیں۔

یاد رہے کہ پاکستان کے انٹیلیجنس ادارے اور ایف سی، بلوچ نوجوانوں کی حراست اور ان پر تشدد سے لاتعلقی کا اظہار کرتے رہے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔