ملالہ کیس ناقابلِ سماعت قرار دے دیا گیا

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 7 مارچ 2013 ,‭ 11:53 GMT 16:53 PST
ملالہ

ملالہ یوسفزئی پر حملہ نو نومبر 2012 کو کیا گیا تھا جب وہ سکول سے واپس جا رہی تھیں

پاکستان میں انسدادِ دہشت گردی کی ایک عدالت کے پراسیکیوٹر نے پچھلے سال سکول کی طالبہ ملالہ یوسفزئی پر ہونے والے حملے کے کیس کو شواہد کی کمی کی بنا پر ناقابلِ سماعت قرار دے کر پولیس کو واپس کردیا ہے۔

اس حملے کے بعد اس کی کلِک ذمہ داری تحریک طالبان پاکستان نے قبول کی تھی۔ اس وقت تنظیم کے ترجمان احسان اللہ احسان نے بی بی سی کو فون پر بتایا تھا کہ ملالہ یوسف زئی پر حملہ اس لیے کیا گیا کیوں کہ ’ان کے خیالات طالبان کے خلاف تھے۔‘

کلِک ملالہ یوسفزئی پر نو اکتوبر 2012 کو مینگورہ میں اس وقت حملہ کیا گیا جب وہ وین میں سکول سے گھر واپس آرہی تھیں۔ اس حملے میں ان کی سکول کی دو ساتھیاں شازیہ رمضان اور کائنات بھی زخمی ہوئی تھیں۔

اس واقعے کی ایف آئی آر تھانہ سیدو شریف میں علت نمبر 565 نامعلوم ملزمان کے خلاف درج کی گئی تھی۔

پولیس کے مطابق انسدادِ دہشت گردی عدالت کے پراسیکیوٹر نے شہادتیں نہ ہونے کی وجہ سے اس مقدمے کی فائل کو ناقابلِ سماعت قرار دے دیا ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ پولیس کو ملالہ کا بیان ریکارڈ کرنے کا بھی کہا گیا ہے۔ اس بارے میں پبلک پراسیکیوٹر سید نعیم خان نے میڈیا کے ساتھ بات کرنے سے معذرت کر دی۔

البتہ اس کیس کے تفشیشی افسر انسپکٹر عبد الواحد نے بی بی سی کو بتایا کہ اس کیس میں ملالہ یوسفزئی کا بیان ریکارڈ کرنے کے سلسلے میں ابھی تک کوئی لائحۂ عمل طے نہیں ہوا۔

انھوں نے کہا کہ اس بات کا فیصلہ نہیں ہوا کہ آیا بیان ریکارڈ کرنے کے لیے سوات سے کوئی ٹیم لندن جائے گی یا پھر کسی اور طریقے سے ان کا بیان ریکارڈ کیا جائے گا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔