’پاکستان میں جبری گمشدگیوں کی 861 نئی شکایات‘

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 8 مارچ 2013 ,‭ 12:53 GMT 17:53 PST

پاکستان میں جبری گمشدگیوں پر حقوق انسانی کی مختلف بین الاقوامی تنظیمیں اپنے تحفظات کا اظہار کر چکی ہیں

پاکستان میں جبری گمشدگیوں کی تحقیقات کرنے والےحکومتی کمیشن کا کہنا ہے کہ انہیں دو برس میں ملک سے مزید آٹھ سو اکسٹھ افراد کے لاپتہ ہونے کی شکایات موصول ہوئی ہیں جس کے بعد ایسے معاملات کی تعداد 999 تک پہنچ گئی ہے۔

کمیشن کے مطابق یہ نئی شکایات یکم فروی دو ہزار گیارہ سے اٹھائیس فروری دو ہزار تیرہ کے دوران موصول ہوئیں جبکہ اس سے قبل یکم جنوری دو ہزار گیارہ تک ایسی شکایات کی تعداد 138 تھی۔

سپریم کورٹ کے جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کی سربراہی میں کام کرنے والے کمیشن کی جانب سے جمعہ کو جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ کل 999 شکایات میں سے تین سو اٹھہتر کو نمٹا دیا گیا ہے اور اس وقت چھ سو اکیس شکایات کے بارے میں تحقیقات جاری ہیں۔

کمیشن کے مطابق لاپتہ افراد کو تلاش کرنے کے لیے اسے سکیورٹی ایجنسیوں کی مدد حاصل ہے اور کمیشن نے فروری 2013 میں انیس لاپتہ افراد کو تلاش کیا جن میں سے دو افراد کی لاشیں ملیں۔

ادھر پاکستانی وزیراعظم کے مشیر برائے انسانی حقوق مصطفیٰ نواز کھوکھر نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ابھی صرف کمیشن کو درخواستیں موصول ہوئی ہیں اور ان درخواستوں کی جانچ پڑتال کرنا باقی ہے کہ ان میں جبری گمشدگیوں کے الزامات درست ہیں کہ نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’درجنوں کی تعداد میں ایسی درخواستیں موصول ہوتی ہیں کہ ان کے پیاروں کو ریاستی سکیورٹی ایجنسیاں اٹھا کر لے گئی ہیں لیکن بعد میں کئی کیسز میں ایسا ہوا کہ لاپتہ فرد بیرون ملک روزگار کے لیے افغانستان، دبئی، سعودی عرب سمیت مشرق وسطیٰ کے ممالک میں روز گار کے لیے جا چکا تھا۔‘

"گمشدگی کی نئی شکایات یکم فروی دو ہزار گیارہ سے اٹھائیس فروری دو ہزار تیرہ کے دوران موصول ہوئیں جبکہ اس سے قبل یکم جنوری دو ہزار گیارہ تک ایسی شکایات کی تعداد 138 تھی۔۔۔کل 999 شکایات میں سے تین سو اٹھہتر کو نمٹا دیا گیا ہے اور اس وقت چھ سو اکیس شکایات کے بارے میں تحقیقات جاری ہیں۔"

جبری گمشدگیوں پر کمیشن

انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ صرف صحیح درخواستوں اور جانچ پڑتال کے بعد لاپتہ افراد کے بارے میں حکومت پاکستان کو آگاہ کرتی ہے اور اس کی جانب سے اب تک ایک سو نو لوگوں کے بارے میں بتایا گیا ہے جن میں سے پندرہ معاملات کو حل کر لیا گیا جبکہ 94 کے بارے میں ابھی کام جاری ہے۔

موجودہ حکومت کے پانچ سالہ دور میں لاپتہ افراد کی تعداد میں کمی کی بجائے اضافے کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں انسانی حقوق کے مشیر مصطفیٰ نواز کھوکھر کا کہنا تھا کہ اس ضمن میں مثبت سمت پیش رفت جاری ہے۔

حکومتی اقدامات کے بارے میں انہوں نے کہا کہ لاپتہ افراد کے کمیشن کو قائم کرنا، کمشین سے تعاون کرنا، اقوام متحدہ کے ورکنگ کمیشن کو بلانا، پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں لاپتہ افراد کے بارے میں قائمہ کمیٹیاں سرگرم ہیں اور اس کے علاوہ سرگرم عدالتی موجود ہے اور یہ ایک خوش آئندہ بات ہے۔

پاکستان میں لاپتہ افراد کے اہلخانہ بھی اپنے عزیزوں کی گمشدگیوں کے خلاف احتجاج کرتے رہے ہیں

پاکستان میں لاپتہ افراد کا معاملہ نیا نہیں اور جہاں ان جبری گمشدگیوں پر حقوق انسانی کی مختلف بین الاقوامی تنظیمیں اپنے تحفظات کا اظہار کر چکی ہیں وہیں ملک کی مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے بھی اس مسئلے پر اکثر آواز بلند کی جاتی ہے۔

پاکستان میں لاپتہ افراد کے اہلخانہ بھی اپنے عزیزوں کی گمشدگیوں کے خلاف احتجاج کرتے رہے ہیں اور وہ ملک کے سکیورٹی اداروں کو ان افراد کی گمشدگیوں کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔

گزشتہ سال ستمبر میں جبری گمشدگیوں کے بارے میں تفصیلات اکٹھی کرنے کے لیے اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپ نے بھی پاکستان کا دس روزہ دورہ کیا تھا اور حکومتِ پاکستان اور عدلیہ پر لاپتہ افراد کے معاملے سے نمٹنے پر زور دیا تھا۔

اس کے بعد رواں سال جنوری میں حکومت نے سپریم کورٹ میں پہلی بار تسلیم کیا تھا کہ سات سو کے قریب مشتبہ شدت پسندوں کو بغیر کسی قانونی کارروائی کے حراست میں رکھا ہوا ہے۔

اب حکومتی کمیشن کی جانب سے یہ تازہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی سے لاپتہ ہونے والے بلوچ نوجوانوں کی لاشیں ملنے کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوا ہے اور گذشتہ دو ماہ کے دوران شہر ایسی سات لاشیں مل چکی ہیں۔

"اقوام متحدہ صرف صحیح درخواستوں اور جانچ پڑتال کے بعد لاپتہ افراد کے بارے میں حکومت پاکستان کو آگاہ کرتی ہے اور اس کی جانب سے اب تک ایک سو نو لوگوں کے بارے میں بتایا گیا ہے جن میں سے پندرہ معاملات کو حل کر لیا گیا جبکہ 94 کے بارے میں ابھی کام جاری ہے۔"

مصطفیٰ نواز کھوکر

اس سے پہلے صوبہ بلوچستان کے اکثر علاقوں اور صوبے خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور کے مضافاتی علاقوں سے لاپتہ افراد کی لاشیں ملنے کے واقعات پیش آ چکے ہیں۔

بلوچستان میں لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے کام کرنے والی تنظیم وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز اس کمیشن کی کارکردگی پر عدم اعتماد کا اظہار کر چکی ہے۔

لاپتہ افراد سے متعلق عدالتی کمیشن کے سربراہ جسٹس (ر) جاوید اقبال نے گزشتہ سال جون میں کوئٹہ میں ایک بیان میں کہا تھا کہ لاپتہ افراد کی تعداد میں وقت گزرنے کے ساتھ اضافہ ہوا ہے اور انہوں نے امید ظاہر کی تھی کہ اس مسئلے کو چار سے چھ ماہ میں حل کر لیا جائےگا۔

پاکستان میں قومی سلامتی سے متعلق پارلیمانی کمیٹی نے بھی لاپتہ افراد کا مسئلہ حل کرنے کے لیے اپنی سفارشات میں تجویز کیا تھا کہ انٹیلیجنس اور سکیورٹی ایجنسیوں کو ضابطے میں لایا جائے اور ان کی پارلیمانی نگرانی کو یقینی بنایا جائے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔