سندھ میں گھریلو تشدد قانونی طور پر جرم

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 8 مارچ 2013 ,‭ 18:33 GMT 23:33 PST

اس قانون کے تحت کسی فرد کی اجازت یا خواہش کے برعکس اس کا تعاقب کرنا، چھیڑ چھاڑ یا آورہ گردی جرم تصور کیا جائے گا

پاکستان کے صوبے سندھ میں ایک قانون کے ذریعے گھریلو تشدد کو جرم قرار دے دیا گیا ہے۔

خواتین کے عالمی دن کے موقعے پر سندھ اسمبلی نے گھریلو تشدد سے تحفظ اور بچاؤ کا بل منظور کرلیا ہے۔

سندھ پہلا صوبہ ہے جہاں اس نوعیت کی قانون سازی کی گئی ہے۔

سیاسی وابستگی اور صنفی امتیاز سے بالاتر ہو کر تمام اراکین نے اس بل کا خیر مقدم کیا، اس بل کے تحت جذباتی، ذہنی یا زبانی طور پر کسی کی تضحیک پر کم سے کم چھ ماہ قید یا جرمانے یا دونوں سزائیں دی جا سکیں گی۔

اس قانون کے تحت کسی فرد کی اجازت یا خواہش کے برعکس اس کا تعاقب کرنا، جہاں اس کی رہائش یا کام کرنے کی جگہ ہے وہاں چھیڑ چھاڑ یا آورہ گردی جرم تصور کیا جائے گا۔

اسی طرح جنسی طور پر ہراساں کرنا، ہتک کرنا اور یہاں تک کہ اس کی عزتِ نفس کو مجروح کرنا بھی قابل گرفت جرم ہوگا، جس میں ملوث افراد کو کم سے کم دوسال قید یا جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جائیں گی، اور جرمانہ پچاس ہزار رپے سے کم نہیں ہوگا۔

بیوی کو شوہر کے علاوہ کسی غیر سے قربت اختیار کرنے پر مجبور کرنا، جنسی زیادتی کرنا یا خاندان کے کسی فرد کو جنسی طور پر ہراساں کرنا بھی جرم قرار دیا گیا ہے۔

قانون کے تحت متاثرہ فرد کی رہائشگاہ میں بلا اجازت داخل ہونا اور ایسی جگہ جانا جہاں متاثرہ فریق کام کرتا ہو یا دونوں مشترکہ طور پر رہائش نہ رکھتے ہوں کو بھی قابل جرم تصور کیا جائے گا، جس کی کم سے کم سزا ایک ماہ قید یا جرمانہ ہوسکتی ہے۔

اس قانون کے مطابق کوئی بھی فریق معاشی استحصال کرے گا یا مالی وسائل پر قدغن لگائے گا تو اس پر یہ لازم ہوگا کہ متاثرہ فریق کو وہ معاوضہ ادا کرے جو عدالت نے طے کیا ہو۔

قانون کے مطابق حکومت ضلعی سطح پر کمٹی برائے تحفظ قائم کرے گی، جس کا سربراہ سوشل ویلفیئر افسر ہوگا، جبکہ اراکین میں ڈاکٹر، نفسیاتی ماہر، سماجی کارکن، عدالت کا نمائندہ، وومین پولیس اہلکار جس کا رینک سب انسپیکٹر سے کم نہ ہو اور سول سوسائیٹی سے دو خواتین شامل ہوں گے۔کمیٹی متاثرہ فریق اور اس کے قانونی حقوق کے بارے میں آگاہ کرے گی۔

اس حالیہ قانون کے تحت حکومت ایک کمیشن تشکیل دے گی، جس کے ارکان اور چیئرپرسن اس قانون کا وقتاً فوقتاً جائزہ لےکر اس میں ترامیم تجویز کرے گا۔ کمیشن کوئی خصوصی سٹڈی یا تحقیقات طلب کرنے کا بھی مجاز ہوگا۔

بل کی منظوری کے موقعے پر سینئر صوبائی وزیر پیر مظہر الحق نے اپنی تقریر میں کہا کہ خواتین پر تشدد میں صرف مرد ہی نہیں بلکہ خواتین خود بھی ملوث ہیں، تبدیلی کے لیے معاشرے میں موجود سوچ کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔

نو منتخب قائدب حزبِ اختلاف سید سردار احمد انے واضح کیا کہ یہ گھریلو تشدد سے بچاؤ کا قانون صنفی امتیاز تک محدود نہیں ہے یہ قانون بچوں اور خاندان کے دوسرے افراد پر بھی لاگو ہوگا، جو گھریلو تشدد کا شکار ہوتے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔