گیس پائپ لائن:’پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں‘

آخری وقت اشاعت:  منگل 12 مارچ 2013 ,‭ 00:18 GMT 05:18 PST

بیالیس انچ قطر کی اس پائپ لائن کی کل لمبائی 2775 کلومیٹر ہے

امریکہ نے پاکستان ایران گیس لائن منصوبے پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اس منصوبے پر حقیقتاً کام آگے بڑھا تو پاکستان کو پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

پیر کو پاکستان اور ایران کے صدور نے پاکستان ایران گیس پائپ لائن منصوبے کا باضابطہ افتتاح کیا ہے۔

امریکی محکمۂ خارجہ کی ترجمان وکٹوریہ نیولینڈ نے معمول کی پریس بریفنگ کے دوران پاکستان پر پابندیوں کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ پابندیوں کے خدشات کو کم نہیں کیا جا سکتا ہے اور جیسا کے دو ہفتے قبل کہا تھا کہ اگر اس منصوبے پر حقیقت میں کام آگے بڑھا تو اس صورت میں یو ایس ایران سیکشنز ایکٹ کے تحت پابندیوں کا اطلاق ہو سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ نے اس ضمن میں اپنے خدشات کے بارے میں پاکستان کو آگاہ کر چکا ہے۔

امریکی محکمۂ خارجہ کی ترجمان نے مزید کہا کہ’ ہم نے ماضی میں دس سے پندرہ بار سن رکھا ہے کہ اس منصوبے کا اعلان کر دیا گیا ہے اور اس لیے ہمیں دیکھنا ہے کہ حقیقت میں کیا ہوتا ہے۔‘

ایک سوال کہ کیا جلد ہی پابندیاں عائد کر دی جائیں گی تو اس پر ترجمان محکمۂ خارجہ نے کہا کہ’اگر منصوبہ آگے بڑھتا ہے تو ہمیں سخت تشویش ہے کہ پابندیوں کا اطلاق ہو سکتا ہے۔‘

پاکستان کی توانائی کی ضروریات کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ایک ایسے وقت جب امریکہ توانائی کے شعبے میں پاکستان کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے اور اگر گیس پائپ لائن منصوبہ حقیقتاً آگے بڑھتا تو یہ پاکستان کو غلط سمت میں لے جائے گا۔ ‘

پاکستانی اور ایرانی صدور منصوبے کے افتتاح کے بعد دعاگو ہیں

اس سے پہلے پیر کو افتتاح کے موقع پر پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ یہ منصوبہ پاکستان کے لیے نہایت اہم ہے جبکہ ایرانی صدر نے کہا ہے اس کا ایران کے ایٹمی منصوبے سے کوئی تعلق نہیں۔

پاکستان کے سرکاری ٹی وی کے مطابق پائپ لائن کا سنگِ بنیاد رکھے جانے کی تقریب ایران اور پاکستان کے سرحدی علاقے میں گبد کے مقام پر پیر کو منعقد ہوئی۔

پاکستان کے صدر آصف علی زرداری اس تقریب کے لیے پیر کی صبح ہی ایران پہنچے جہاں ان کے ایرانی ہم منصب محمود احمدی نژاد نے ان کا استقبال کیا۔

افتتاحی تقریب میں پاکستان اور ایران کے اعلیٰ حکام کے علاوہ عرب ممالک کے نمائندے بھی موجود تھے۔

پاکستان اور ایران کے درمیان گیس پائپ لائن کے لیے سات اعشاریہ چھ ارب ڈالر کا معاہدہ طے پایا تھا جس کے تحت ایران کے جنوب میں فارس گیس فیلڈ کو بلوچستان اور پنجاب میں ملتان سے جوڑا جانا ہے۔

اس منصوبے کو ’امن پائپ لائن‘ کا نام دیا گیا ہے اور پی ٹی وی کے مطابق بیالیس انچ قطر کی اس پائپ لائن کی کل لمبائی 2775 کلومیٹر ہے جس میں سے 785 کلومیٹر طویل پائپ لائن پاکستان میں بچھے گی۔ ایران نے اب تک اپنے علاقے میں اب تک 900 کلومیٹر طویل پائپ لائن بچھا لی ہے۔

"گیس پائپ لائن منصوبہ پاکستان کے لیے نہایت اہم ہے۔۔۔دنیا کا امن پاکستان کے امن سے منسلک ہے۔ ہم اپنے ہمسائے تبدیل نہیں کر سکتے،کوئی ہمیں ہماری شناخت نہ بتائے، ہمیں بحثیت قوم اپنی طاقت کا اندازہ کرنا ہوگا اور اس سلسلےمیں ہمیں ایران سے بہت کچھ سیکھنے کی ضرورت ہے۔"

آصف علی زرداری

پاکستان اور ایران کے درمیان اس پائپ لائن معاہدے کے مطابق دسمبر سنہ دو ہزار چودہ تک اس منصوبے کی تکمیل نہ ہونے پر تاخیر کی وجہ بننے والے ملک کو بھاری جرمانہ دینا ہوگا۔

اس منصوبے کی تکمیل پر پاکستان کو روزانہ دو کروڑ پندرہ لاکھ مکعب میٹر گیس مہیا ہو سکے گی۔

افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایران کے صدر محمود احمدی نژاد کا کہنا تھا کہ گیس پائپ لائن کا ایٹمی منصوبے سے کوئی تعلق نہیں اور امن پائپ لائن معاہدہ دونوں ملکوں کو قریب لائے گا۔

پی ٹی وی کے مطابق اس موقع پر پاکستان کے صدر نے کہا کہ گیس پائپ لائن منصوبہ پاکستان کے لیے نہایت اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’دنیا کا امن پاکستان کے امن سے منسلک ہے۔ ہم اپنے ہمسائے تبدیل نہیں کر سکتے،کوئی ہمیں ہماری شناخت نہ بتائے، ہمیں بحثیت قوم اپنی طاقت کا اندازہ کرنا ہوگا اور اس سلسلےمیں ہمیں ایران سے بہت کچھ سیکھنے کی ضرورت ہے۔‘

گیس پائپ لائن

بیالیس انچ قطر کی اس پائپ لائن کی کل لمبائی 2775 کلومیٹر ہے جس میں سے 785 کلومیٹر طویل پائپ لائن پاکستان میں بچھے گی۔ ایران نے اب تک اپنے علاقے میں اب تک 900 کلومیٹر طویل پائپ لائن بچھا لی ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اسلامی ممالک کو کئی مشکلات کا سامنا ہے اور’دوسروں کی مدد کے لیے ہمیں پہلے خود اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا ہوگا۔‘

خیال رہے کہ امریکہ کی جانب سے اس منصوبے پر شدید تشویش کا اظہار کیا جاتا رہا ہے اور ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ علی خامنہ ای کہہ چکے ہیں کہ ایران اور پاکستان کو گیس پائپ لائن کی تعمیر کے سلسلے میں امریکی مخالفت اور دباؤ کو نظرانداز کرنا ہوگا۔

پاکستان کے وزیرِ اطلاعات قمر زمان کائرہ نے پاکستان کے سرکاری ٹیلی ویژن سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ منصوبہ کسی کے خلاف یا کسی کے فائدے میں نہیں ہے سوائے پاکستان کے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ نے کسی بھی فورم پر حکومتِ پاکستان کے ساتھ اس کے متعلق تحفضات کا اظہار نہیں کیا ہے اور ’اگر انہوں نے سرکاری طور پر ایسا کیا ہوتا تو حکومت اس کے متعلق ان سے مذاکرات کر سکتی تھی۔‘

ترکمانستان۔افغانستان پائپ لائن کے متعلق ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ پراجیکٹ شروع کرنا ہی بڑا مشکل ہے کیونکہ اس کو افغانستان کے امن سے جوڑا گیا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔