’شدت پسندی کے لیے کالعدم تنظیمیں بچے استعمال کرتی ہیں‘

آخری وقت اشاعت:  بدھ 13 مارچ 2013 ,‭ 14:25 GMT 19:25 PST

یاد رہے کہ دس جنوری کو کوئٹہ کے میزان چوک پر ایک کار بم دھماکے میں بارہ افراد ہلاک اور چونتیس سے زائد زخمی ہوئے تھے

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے گیارہ ایسے بچے حراست میں لیے ہیں جو جنوری میں میزان چوک پر ہونے والے بم دھماکے میں ملوث تھے۔

کوئٹہ کے کیپیٹل سٹی پولیس چیف آفیسر میر زبیر محمود نے بدھ کو ایک پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا کہ ان بچوں کو کالعدم تنظیمیں حملوں میں استعمال کرتی ہیں۔

’پولیس نے کوئٹہ میں فائرنگ کے تبادلے کے بعد گیارہ بچوں کو حراست میں لیا ہے۔ ان بچوں کی عمریں تیرہ سال سے لے کر پندرہ سال تک ہیں جنہیں یونائیٹڈ بلوچ آرمی یعنی بی ایل اے اپنے مذموم عزائم کے لیے استعمال کر رہی تھی اور ان سے تخریب کاری کرواتی تھی۔ تاہم سات بچے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔‘

یاد رہے کہ دس جنوری کو کوئٹہ کے مرکزی علاقے میں میزان چوک پر ایک کار بم دھماکے کے نتیجے میں بارہ افراد ہلاک اور چونتیس سے زائد زخمی ہوئے تھے۔

ہلاک ہونے والوں میں ایک ایف سی کا اہلکار جبکہ دو سول ملازمین بھی شامل تھے جبکہ زخمی ہونے والوں میں ایف سی کے دس اہلکار شامل تھے۔

"پولیس نے کوئٹہ میں فائرنگ کے تبادلے کے بعد گیارہ بچوں کو حراست میں لیا ہے۔ ان بچوں کی عمریں تیرہ سال سے لے کر پندرہ سال تک ہیں جنہیں یونائیٹڈ بلوچ آرمی اپنے مذموم عزائم کے لیے استعمال کر رہی تھی۔"

زبیر محمود، سی سی پی او، کوئٹہ

تفصیلات کے مطابق اس دھماکے کا ہدف ایک ایس پی کی گاڑی تھی اور یہ دھماکا ایف سی کی ایک چوکی کے قریب ہوا۔

پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ حراست میں لیے گئے بچوں نے اعتراف کیا ہے کہ وہ میزان چوک بم دھماکے سمیت دوسری پرتشدد کارروائیوں میں ملوث رہے ہیں۔

سی سی پی او نے کہا ’یہ بہت تشویش کی بات ہے کہ کالعدم تنظیمیں شدت پسندی کے لیے معصوم اور غریب بچوں کو استعمال کر رہی ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ابتدائی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ان بچوں کو ہر کارروائی کے لیے دو ہزار سے پانچ ہزار روپے تک دیے جاتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ ان بچوں پر بچوں کی خصوصی عدالت میں مقدمات چلائے جائیں گے، اور ان کی بحالی کے لیے بلوچستان حکومت سے درخواست کی جائے گی۔

کوئٹہ کی امن و امان کی صورتحال پر انہوں نے کہا کہ شہر بھر میں سی سی ٹی وی لگائے جا رہے ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ پولیس میں ایک ہزار مزید بھرتیاں کی جا رہی ہیں۔

دوسری جانب شدت پسندوں کے ہاتھوں بچوں کے استعمال پر حکومتی ذرائع نے بتایا کہ صوبہ خیبر پختونخوا میں فوجی کارروائیوں کے دوران جہاں طالبان کے مراکز سے اسلحہ برآمد کیا گیا وہیں بچے بھی بازیاب کرائے گئے۔

ذرائع کے مطابق شدت پسند ان بچوں کو شدت پسند کارروائیوں کے لیے استعمال کرتے تھے۔ ان بچوں کی عمریں نو سال سے اٹھارہ سال تک کی تھیں۔

یاد رہے کہ ان بچوں کی تربیت کے لیے صوبہ خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقے فاٹا میں فوج کے تحت کئی مراکز قائم کیے گئے ہیں۔

ان مراکز کی سرپرستی تو فوج ہی کر رہی ہے لیکن ان میں اساتذہ اور خاص طور پر جو نفسیاتی ماہرین ہیں وہ نجی شعبوں سے وابستہ ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔