کراچی: سیف سٹی منصوبے کا تنازع

آخری وقت اشاعت:  بدھ 13 مارچ 2013 ,‭ 15:36 GMT 20:36 PST
بحریہ ٹاؤن کے مجوزہ منصوبے کی تصویر

بحریہ ٹاؤن کے مجوزہ منصوبے کی تصویر

کراچی کے متنازع جزائر بڈو اور بنڈال پر بحریہ ٹاؤن کے رہائشی منصوبے کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔ ان جزائر سے متعلق منصوبے کے خلاف ایک بار پھر سندھ میں شدید رد عمل دیکھا جا رہا ہے اور اپوزیشن اور قوم پرستوں کے علاوہ اب کچھ حکومتی اراکین بھی اس کی مخالفت کر رہے ہیں۔

پورٹ قاسم اتھارٹی نے ان جزائر کو اپنی ملکیت قرار دے کر انہیں فروخت کردیا ہے۔ اس سے پہلے گزشتہ حکومت میں بھی ان جزائر کو متحدہ عرب امارات کی ایک کمپنی کو فروخت کرنے کا کلِک معاہدہ کیا گیا تھا، لیکن سندھ کی حکومت نے اس دعوے کو مسترد کردیا اور موقف اختیار کیا تھا کہ جزائر سندھ کی ملکیت ہیں۔

اُس رہائشی منصوبے کے خلاف سندھ میں احتجاج اور ہڑتالیں کی گئیں، جن میں پاکستان پیپلز پارٹی بھی شامل تھی۔ دونوں مرتبہ غیر ملکی کمپنیوں سے ڈیل کے وقت محکمہ جہاز رانی اور بندرگاہ کے وزیر بابر غوری تھے۔

بحریہ فاونڈیشن کے سربراہ ملک ریاض کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے پورٹ قاسم کی نیلامی میں حصہ لے کر یہ زمین حاصل کی ہے اور تمام کارروائی مکمل کی ہے۔

بحریہ فاؤنڈیشن ’سیف سٹی‘ کے نام سے یہ منصوبہ امریکی کمپنی تھامس کریمر کے اشتراک سے تعمیر کرے گی۔ اس میں سوا لاکھ افراد کے آْباد ہونے کی گجائش ہوگی۔

تھامس کریمر کی ویب سائٹ

یہ خود مختار اور خود کفیل جزائر ہوں گے۔ اس منصوبے پر 20 کھرب روپے کی مالیت آئے گی، جو پاکستان میں اب تک کا مہنگا ترین منصوبہ ہے۔

بارہ سو ایکڑ پر مشتمل اس نئے شہر میں دنیا کی بلند ترین عمارت، سب سے بڑا شاپنگ مال، سپورٹس سٹی، ایجوکیشن اینڈ میڈیکل اور میڈیا سٹی موجود ہوگا۔ اس شہر کو کراچی کے دیگر علاقے سے ملانے کے لیے چھ لین کا پُل تعمیر کیا جائے گا۔

یہ علاقہ ہائی سکیورٹی زون قرار دیا جائے گا، یہاں بجلی مقامی طور پر پیدا کی جائے گی اور سمندر کا پانی صاف کر کے پینے کے قابل بنایا جائے گا۔

کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اس منصوبے کی تکمیل میں پانچ سے دس سال کا عرصہ لگ سکتا ہے لیکن یہ تین سال کے بعد رہائش کے لیے دستیاب ہوگا۔

ماضی کے مقابلے میں اس بار جزائر پر تعمیراتی منصوبوں میں سنجیدگی اور رفتار میں اضافہ نظر آتا ہے۔ بحریہ فاؤنڈیشن اور تھامس کریمر کے وفود وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف اور گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد سے ملاقات کرچکے ہیں اور دونوں نے منصوبے کا خیر مقدم کیا ہے۔

صوبائی وزیر ثقافت سسئی پلیجو کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت کو اس منصوبے کا کوئی علم نہیں تھا اور میڈیا میں خبریں آنے کے بعد ہی ان کے علم میں آیا۔ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے سوال کیا کہ وہ کون سا قانون ہے جس کے تحت اس منصوبے کی اجازت دی گئی ہے۔

اسی طرح صوبائی وزیر قانون ایاز سومرو کا کہنا ہے کہ پورٹ قاسم اتھارٹی کو اس قسم کے کسی معاہدے کا اختیار نہیں ہے اور اس بارے میں تحریری طور پر متعلقہ محکموں کو آگاہ کیا گیا ہے۔

دوسری جانب سندھ ترقی پسند پارٹی کے چیئرمین قادر مگسی کا کہنا ہے کہ سندھ کے عوام کسی صورت میں ان جزائر کی فروخت کی اجازت نہیں دیں گے، اس منصوبے کے خلاف ماضی میں بھی تحریک چلائی گئی تھی اب دوبارہ بھی چلائی جائے گی۔

سندھ کے محکمہ بورڈ آف ریوینیو کا موقف ہے کہ صوبائی حکومت نےانیس سو تہتر میں پورٹ قاسم اتھارٹی کو ساڑھے تیرہ ہزار ایکڑ زمین دی تھی۔ اس معاہدے میں ان جزائر کا کوئی ذکر نہیں تھا۔ یہ جزائر بدستور سندھ حکومت کی ملکیت ہیں۔

ماہی گیروں کی تنظیم ’فشر فوک پاکستان‘ کے رہنما محمد علی شاہ کا کہنا ہے کہ جزائر پر بڑی تعداد میں مینگروز کے درخت موجود ہیں جو مچھلی کی افزائش کا بڑا ذریعہ ہیں اور شہر بننے کے بعد یہ درخت کاٹ دیے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اس راستے سے ماہی گیر کھلے سمندر میں جاتے ہیں۔ ان جزائر پر شہر بننے کے بعد ان کا راستہ بند ہوجائےگا۔ بنڈال جزیرہ ماہی گیروں کے لیے روزگار کا ذریعہ ہیں۔

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔