نگراں وزیرِاعظم کے امیدوار

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 14 مارچ 2013 ,‭ 14:38 GMT 19:38 PST

پاکستان میں قومی اسمبلی کی مدت 16 مارچ کو مکمل ہو رہی ہے اور نگراں وزیراعظم کے لیے اپوزیشن کے بعد حکومت کے مجوزہ تین نام بھی سامنے آ چکے ہیں۔

وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے قومی اسمبلی میں حزب مخالف کے رہنما چوہدری نثار علی خان کو بھیجے گئے خط میں میر ہزار خان کھوسو، ڈاکٹر عشرت حسین اور ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کے نام تجویز کیے ہیں۔ ان کے پہلے امیدوار کا تعلق بلوچستان اور دیگر دو کا صوبہ سندھ سے ہے۔

مسلم لیگ (ن) نے جو تین نام دیے تھے ان میں جسٹس (ر) میاں شاکراللہ جان، جسٹس (ر) ناصر اسلم زاہد اور رسول بخش پلیجو شامل ہیں۔ ان کے پہلے امیدوار کا تعلق صوبہ خیبر پختونخوا اور دیگر دو کا صوبہ سندھ سے ہے۔

حکومت اور حزب مخالف کے چھ امیدواروں میں کوئی ایسا نہیں جس کا تعلق پنجاب سے ہو۔ جب کہ چھ میں سے چار کا تعلق سندھ سے ہے اور ماسوائے رسول بحش پلیجو کے کوئی امیدوار سیاستدان نہیں ہے۔ چھ امیدواروں میں سے تین اعلیٰ عدلیہ کے جج، دو اقتصادی ماہرین اور صرف ایک سیاستدان ہیں۔

وزیراعظم نے اپوزیشن لیڈر سے کہا ہے کہ وہ مناسب وقت پر ملاقات کر کے کسی ایک نام پر اتفاق کریں تاکہ انتخابی عمل کو آگے بڑھایا جاسکے۔

نگراں وزیراعظم کے لیے حکومت کے تجویز کردہ تین امیدواروں کے خاکے کچھ یوں ہیں۔

عبدالحفیظ شیخ

معروف اقتصادی ماہر ہیں اور وہ سیاسی منظر پر سنہ 2000 میں اس وقت آئے جب جنرل پرویز مشرف نے انہیں صوبہ سندھ میں وزیر برائے خزانہ اور منصوبہ بندی بنایا۔ بعد میں وہ وفاقی وزیر نجکاری بھی رہے اور ان کے دور میں پانچ ارب ڈالر کے 34 قومی ادارے نجی شعبے کو منتقل ہوئے۔ انہوں نے نجکاری میں عام لوگوں کو حصص فروخت کرنے کی پالیسی اپنائی اور آٹھ لوگوں کو مختلف اداروں میں حصص ملے۔

سینیٹ کے سابق چیئرمین اور سابق نگراں وزیراعظم محمد میاں سومرو کے قریبی عزیز عبدالحفیظ شیخ نے کیریئر کا زیادہ تر عرصہ عالمی مالیاتی اداروں میں بیرون ممالک میں گزارا ہے۔ وہ دنیا کے 20 کے قریب ممالک میں تعینات رہے اور ارجنٹینا کی معیشت اور اقتصادی ترقی کے بارے میں کتاب بھی لکھی۔

ڈاکٹر عشرت حسین

17 جون 1941 کو پیدا ہونے والے ڈاکٹر عشرت حسین نے 1964 میں سول سروس میں شمولیت اختیار کی اور وہ مشرقی و مغربی پاکستان میں مختلف عہدوں پر تعینات رہے۔ انہوں نے بوسٹن یونیورسٹی سے 1978 میں معاشی ترقی میں ڈاکٹریٹ کی سند لی۔ 1979 میں عالمی بینک جوائن کیا اور واشنگٹن چلے گئے۔ افریقہ اور وسطی ایشیا میں عالمی بینک کے نمائندے کے طور پر کام کیا اور جنرل پرویز مشرف کے دور میں انہیں سٹیٹ بینک کا گورنر لگایا گیا۔

معیشت کے بارے میں ایک درجن کے قریب کتاب اور پیپرز لکھنے والے عشرت حسین کی پاکستان کی معیشت کے بارے میں کتاب مشہور ہوئی۔ جس کا عنوان تھا Pakistan: The Economy of Elitist State

سنہ 2005 میں لندن سے شائع ہونے والے میگزین ’بینکر‘ نے انہیں ایشیا میں ریاستی بینکوں کا بہترین گورنر قرار دیا۔

سنہ 2006 میں وہ قومی اصلاحات کمیشن کے چیئرمین بنے۔ وہ اقوام متحدہ کے ادارے ’یو این ڈی پی‘ کےعلاقائی بورڈ اور انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ ’آئی ایم ایف‘ کے مشرق وسطیٰ کے بورڈ کے رکن بھی رہے۔وہ ایشیا کے سب سے قدیم بزنس سکول ’آئی بی اے کراچی‘ کے ڈائریکٹر بھی رہے اور آج کل بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے بورڈ کے رکن بھی ہیں۔

میر ہزار خان کھوسو

تین ستمبر 1929 کو بلوچستان کے ضلع جعفرآباد کے گاؤں اعظم خان میں پیدا ہوئے۔ 1954 میں سندھ یونیورسٹی سے گریجویشن اور دو برس بعد کراچی یونیورسٹی سے قانون کی سند حاصل کی۔

ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کے آخری ایام میں یعنی 20 جون 1977 میں بلوچستان ہائی کورٹ کے عارضی جج بنے۔ انہیں ضیاءالحق نے مستقل جج بنایا اور بطور چیف جسٹس انہوں نے 29 ستمبر 1991کو ریٹائر کیا۔ ریٹائرمنٹ کے ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں وفاقی شرعی عدالت کے جج بن گئے اور میاں نواز شریف کے دور میں 17 نومبر 1992 کو وفاقی شرعی عدالت کے چیف جسٹس بنے۔

واضح رہے کہ مسلم لیگ (ن) کے سربراہ میاں نواز شریف نے کہا تھا کہ اگر حکومت نے مناسب امیدوار کا نام پیش کیا تو وہ قبول کرلیں گے۔ امکان ہے کہ ڈاکٹر عشرت حسین یا حفیظ شیخ کے نام پر حکومت اور حزبِ مخالف میں اتفاق ہوجائے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔