اسامہ خاندان کا ڈی این اے: برطرف اہلکار بحال

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 14 مارچ 2013 ,‭ 15:40 GMT 20:40 PST

بعض لیڈی ہیلتھ ورکرز نے اسامہ بن لادن کے خاندان کے ڈی این اے حاصل کرنے کی مہم میں مبینہ طور پر حصہ لیا تھا

پشاور ہائی کورٹ کے ایبٹ آباد بینچ نے القاعدہ کے سابق رہنما اسامہ بن لادن کے خاندان کے ڈی این اے حاصل کرنے میں معاونت کرنے کے الزام میں صوبائی محکمۂ صحت کے معطل کارکنوں کی درخواست منظور کرتے ہوئے انہیں نوکریوں پر بحال کر دیا ہے۔

ان کارکنوں کے وکیل سلطان احمد جمشید ایڈووکیٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ عدالت نے جمعرات کو ان تمام کارکنوں کی درخواست منظور کرتے ہوئے ان کی نوکریوں اور کنٹریکٹ کو بحال کر دیا ہے۔

سلطان احمد جمشید ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ عدالت نے محکمۂ صحت ایبٹ آباد کے افسر کو کہا کہ ان کارکنوں کی معطلی پشاور سے کی گئی ہے اور مقامی سطح پر ان کے خلاف کوئی باقاعدہ انکوائری نہیں کی گئی اس لیے اگر انہیں کوئی تحفظات ہیں تو مقامی سطح پر وہ کارروائی کر سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ صوبائی محکمۂ صحت کے کنٹریکٹ پر بھرتی لیڈی ہیلتھ ورکروں نے اپنی معطلی کے احکامات کو پشاور ہائی کورٹ کے ایبٹ آباد بنچ میں چیلنج کیا تھا۔

امریکی فوج نے مئی 2011 میں اسامہ بن لادن کو ایبٹ آباد میں ہلاک کیا تھا

خیال رہے کہ ایبٹ آباد میں بعض لیڈی ہیلتھ ورکروں نے ڈاکٹر شکیل آفریدی کے زیرِ انتظام شروع کی گئی ہیپاٹائٹس کی ویکسینیشن اور مبینہ طور پر اسامہ بن لادن کے خاندان کے ڈی این اے حاصل کرنے کی مہم میں حصہ لیا تھا اور گھر گھر جا کر ہیپاٹائٹس کی ویکسین کی تھی۔

سلطان احمد جمشید ایڈوو کیٹ نے بتایا کہ ہیلتھ ورکروں اور ان کے سپروائزرز کی تعداد سولہ تھی جنہیں خیبر پختونخوا حکومت نے نوکریوں سے معطل کر دیا تھا۔ ان میں بیشتر ملازمین کنٹریکٹ یا عارضی نوکریوں پر تھے۔ یہ کارکن بنیادی طور پر بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کے لیے تعینات کیے گئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ ان ہیلتھ ورکروں کا موقف تھا کہ وہ ڈاکٹر شکیل کو نہیں جانتے تھے اور انھیں ان کے افسران نے کہا تھا کہ وہ اس مہم میں کام کرنے کے لیے جائیں، انھیں یہ معلوم نہیں تھا کہ ڈاکٹر شکیل نے ہیپاٹائٹس کی جو مہم شروع کی ہے اس کا مقصد کیا ہے۔

ڈاکٹر شکیل آفریدی کو اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بیس روز بعد پشاور سے گرفتار کر گیا تھا اور اس وقت وہ سینٹرل جیل پشاور میں قید ہیں انھیں خیبر ایجنسی میں اسسٹنٹ پولیٹکل ایجنٹ کی عدالت نے شدت پسندوں کے ساتہ روابط رکھنے کے جرم میں گزشتہ سال مئی میں تینتیس سال قید کی سزا سنائی تھی۔

ڈاکٹر شکیل آفریدی نے یہ مہم مارچ سنہ دوہزار گیارہ میں شروع کی تھی جس کے بعد مئی سنہ دو ہزار گیارہ کے پہلے ہفتے میں ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کو ہلاک کر دیا گیا تھا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔