آئینی مدت مکمل، قومی اسمبلی تحلیل ہو گئی

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 16 مارچ 2013 ,‭ 18:22 GMT 23:22 PST

پاکستان کی چھیاسٹھ سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ جمہوری دور میں قومی اسمبلی کو اپنی پانچ سالہ آئینی مدت مکمل کرنے کے بعد ایک باضابطہ نوٹیفیکیشن کے ذریعے تحلیل کر دیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ کابینہ ڈویژن کی جانب سے جاری کیے گئے ایک اور نوٹیفیکیشن کے ذریعے وفاقی کابینہ بھی تحلیل کر دی گئی اور وزراء سے مراعات واپس لے لی گئیں ہیں۔

اس سے قبل وزیر اعظم پاکستان راجہ پرویز اشرف نے اپنی الوداعی تقریر میں کہا تھا کہ نگران وزیر اعظم اور وزرائے اعلیٰ کی تعیناتی کے لیے تمام جماعتوں سے مشاورت کا عمل جاری ہے۔

راجہ پرویز اشرف نے قوم سے اپیل کی کہ انتخابی عمل کو شفاف، پرامن اور خوشگوار ماحول میں مکمل کریں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ اس حکومت نے آغاز بھی مفاہمت سے کیا اور اختتام بھی مفاہمت پر ہی کر رہی ہے۔ ’نگران وزیر اعظم اور وزرائے اعلیٰ کی تعیناتی کے لیے تمام جماعتوں سے مشاورت کا عمل جاری ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے حالات دیکھتے ہوئے انہوں نے وزرائے اعلیٰ کو ایک ہی روز قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کرانے کی تجویز پیش کی۔

’مجھے خوشی ہے کہ تمام وزرائے اعلیٰ نےاس تجویز پر اصولی طور پر اتفاق کیا۔‘

وزیر اعظم نے اپنی الوداعی تقریر میں تمام اداروں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے جمہوریت کی تقویت کے لیے حکومت کی مدد کی۔

انہوں نے کہا کہ آئندہ کوئی بھی جمہوریت پر شب خون نہیں مارے گا۔

انہوں نے اعتراف کیا کہ ان پانچ سالوں میں حکومت ملک میں دودھ اور شہد کی نہریں نہیں بہائیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس حکومت کو ورثے میں شکستہ حال اور معاشی حالات میں گھرا ہوا ملک ملا تھا۔

وزیر اعظم نے اپنی الوداعی تقریر میں حکومت کی کارکردگی اور خارجہ پالیسی کے بارے میں عوام کو مطلع کیا۔

"ان پانچ سالوں میں حکومت ملک میں دودھ اور شہد کی نہریں نہیں بہائیں۔ تاہم اس حکومت کو ورثے میں شکستہ حال اور معاشی حالات میں گھرا ہوا ملک ملا تھا۔ وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف"

وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف

بلوچستان کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اس حکومت نے پرخلوص عملی اقدامات کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ صدرِ مملکت نے بلوچ عوام سے معافی مانگی اور حقوق بلوچستان پیکج کا اعلان کیا۔

اس سے قبل وزارتِ پارلیمانی امور کی جانب سے قومی اسمبلی کی آئینی مدت کی تکمیل پر تحلیل کا نوٹیفیکیشن جاری کیا۔ وزارتِ پارلیمانی امور کے مطابق قومی اسمبلی آئین کے آرٹیکل 52 کے تحت تحلیل تصور کی جائے گی۔

واضح رہے کہ مرکز میں حکمران پیپلز پارٹی اور اپوزیشن کی مرکزی جماعت مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں نے ایک دوسرے کی جانب سے نگران وزیراعظم کے تجویز کردہ ناموں کو مسترد کردیا ہے اور بظاہر اس معاملے پر ’ڈیڈ لاک‘ پیدا ہوا گیا ہے۔

مسلم لیگ (ن) نے چند روز قبل نگران وزیراعظم کے لیے جسٹس (ر) ناصر اسلم زاہد، جسٹس (ر) میاں شاکراللہ جان اور سندھ کے قومپرست رہنما رسول بخش پلیجو کے نام تجویز کیے تھے۔ لیکن جمعہ کو وزیراعظم راجہ پرویز اشرف اور چوہدری نثار علی خان کی فون پر بات چیت کے بعد مسلم لیگ (ن) جسٹس (ر) میاں شاکراللہ جان کا نام واپس لینے کا فیصلہ کیا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔