محدود مذہبی شناخت انتہاپسندی کی وجہ؟

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 16 مارچ 2013 ,‭ 15:47 GMT 20:47 PST

لاہور میں توہین رسالت کے الزام پر چند جنونی افراد نے پوری کی پوری مسیحی بستی ہی جلا ڈالی

ابھی لاہور جیسے نسبتاً آزاد خیال اور پر امن شہر میں ایک چھوٹے سے غیر اہم چوک کا نام تحریک آزادی ہند کے ہیرو بھگت سنگھ کے نام پر رکھنے کا تنازع زیادہ پرانا نہیں ہوا تھا کہ کچھ روز پہلے نہر پر موجود چند انڈر پاسز کے ناموں پر بھی کالک مل کر کسی نے ان شخصیات سے نفرت کا اظہار کردیا جن کے ناموں سے ان انڈر پاسز کو منسوب کیا گیا تھا۔

لیاقت علی خان شاہ عبدالطیف بھٹائی اور وارث شاہ کے ناموں پر سیاہی ملنے کی ذمے داری جاگ پنجابی نامی تنظیم نے ایک مقامی اخبار کو خط لکھ کر قبول کی۔ اس تنظیم نے موقف اختیار کیا کہ لاہور میں اہم شاہراوں اور چوکوں کے نام کسی غیر پنجابی شخصیت سے منسوب کرنا اس تنظیم کے لیے قابل قبول نہیں۔

لاہور کی ضلعی حکومت نے چند ہی گھنٹوں بعد سفید رنگ سے ناموں کو دوبارہ لکھ دیا لیکن یہ سفید رنگ ہمارے اندر بڑھتے ہوئے نفرت کے اندھیروں کی سیاہی کو دور کرنے کے لیے شاید کافی نہ ہو ۔

لیکن اس سے بھی زیادہ گھناؤنا واقعہ جوزف کالونی میں پیش آیا جہاں توہین رسالت کے الزام پر چند جنونی افراد نے پوری کی پوری مسیحی بستی ہی جلا ڈالی۔

مذہب کے نام پر شروع ہونے والی نفرت اور تقسیم پہلے دوسرے مذاہب، پھر فرقوں اور اب رنگ نسل قومیت اور زبان کی بنیاد پر معاشرے کو منقسم کرتی دکھائی دے رہی ہے۔ اہل دانش جانتے ہیں کہ اس نفرت کا انجام سوائے تباہی کے کچھ نہیں ۔

پاکستانی نوجوانوں میں انتہاپسندی کے موضوع پر تحقیق کرنے والے رحیم الحق کا کہنا ہے کہ پاکستان میں بچپن سے ریاستی سطح پر تشکیل دی جانے والی محدود مذہبی شاخت نے نوجوانوں کو انتہا پسندی کی طرف دھکیل دیا ہے اور خطے کے سیاسی حالات ان رجحانات کو مزید تقویت دے رہے ہیں۔

’پاکستانی ریاست نے نوجوانوں کی جو محدود مذہبی شناخت بنائی ہے اس کی وجہ سے مذہب کے نام پر نوجوان کوئی بھی سوال نہیں اٹھاتے۔ ہمارے معاشرے میں اس وقت ایک منظم تحریک موجود ہے جو اس شاخت کو بنیاد بنا کر نوجوانوں کو استعمال کررہی ہے اور اس سے سیاسی اور دہشتگردی کے مقاصد پورے کیے جا رہے ہیں۔‘

"تاریخ بتاتی ہے کہ ہمارے ہاں مذہب کو سکولوں میں پڑھانے سے فرقہ واریت بڑھی ہے۔ مذہب کی تعلیم صرف اسلامیات تک محدود نہیں بلکہ ہر مضمون میں شامل کر دی گئی ہے اور درسی کتب میں جہاں ایک طرف مذہبی تعلیم ہے وہیں دوسری طرف جنگ و جدل کی عظمت بھی بڑی بیان کی جاتی ہے اور جنگی ہیروز کے بارے میں کہانیاں بہت ہیں اس سے ایک عام تاثر جو طالب علموں کو ملتا ہے وہ یہ کہ جنگ و جدل بہت اچھی چیز ہے۔"

ڈاکٹر ایچ اے نیئر

یہ شناخت آخر تشکیل کیسے دی گئی؟

ماضی میں مدارس کو پاکستانی نوجوانوں میں بنیاد پرستی کے پرچار کا اہم ذریعہ سمجھا جاتا رہا ہے۔ لاہور میں جامعہ نعیمیہ کے ناظم اعلیٰ مولانا راغب نعیمی کے مطابق ’ کوئی ایک مدرسہ کوئی دو مدرسے یا کوئی دس بیس مدرسے ایسے نکل آئیں گے ہزاروں مدرسوں میں سے لیکن ان کی وجہ سے پوری کی پوری کمیونٹی کو بدنام نہیں کیا سکتا۔‘

سوال یہ بھی ہے کہ مدارس میں تو محض چند فیصد طلبہ زیر تعلیم ہیں پاکستان میں نوجوانوں کی اکثریت تو مدارس کے بجائے سرکاری سکولوں میں تعلیم حاصل کرتی ہے تو پھر انتہاپسندانہ ذہینت کے پرچار کی ذمےداری محض مدارس پر تو نہیں ڈالی جاسکتی ۔

ریاست کی طرف سے مذہبی شناخت کی تشکیل کا ایک اہم ذریعہ نصاب ہے ۔ پاکستان میں رائج نصاب پر تحقیق کرنے والے ڈاکٹر اے ایچ نیئر کہتے ہیں ’تاریخ بتاتی ہے کہ ہمارے ہاں مذہب کو سکولوں میں پڑھانے سے فرقہ واریت بڑھی ہے ۔ مذہب کی تعلیم صرف اسلامیات تک محدود نہیں بلکہ ہر مضمون میں شامل کردی گئی ہے اور درسی کتب میں جہاں ایک طرف مذہبی تعلیم ہے وہیں دوسری طرف جنگ و جدل کی عظمت بھی بڑی بیان کی جاتی ہے اور جنگی ہیروز کے بارے میں کہانیاں بہت ہیں اس سے ایک عام تاثر جو طالب علموں کو ملتا ہے وہ یہ کہ جنگ و جدل بہت اچھی چیز ہے۔‘

خطے کے سیاسی حالات بھی نوجوانوں کو انتہاپسندانہ سوچ کر جانب مائل کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں ۔

رحیم الحق کہتے ہیں کہ ’دہشتگردی کی عالمی جنگ کے باعث نوجوان سازشی نظریات کا شکار رہتے ہیں۔خود احتسابی کے بجائے ہر چیز باہر کی دنیا پر ڈال دیتے ہیں۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’انتہا پسندی کی تحریک اتنی طاقتور ہوچکی ہے کہ پاکستان میں دنیا کو سمجھنے کی کوئی متبادل سوچ فکر یا نظریے کو پروان ہی نہیں چڑھایا جا سکا۔‘

معلوم نہیں پاکستان اس وقت اپنی شناخت کی لڑائی لڑ رہا ہے یا اپنی بقا کی جنگ لیکن اگر عدم برداشت کے نظریات اسی طرح پروان چڑھتے رہے تو پھر اس ملک کا خدا ہی حافظ ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔