سکول بطور سیاسی رشوت

آخری وقت اشاعت:  منگل 19 مارچ 2013 ,‭ 20:08 GMT 01:08 PST

ایک طالبہ سلیٹ لیے استاد کی منتظر ہے

چار دیواری کے اندر دو بڑے کمرے، جو بند ہیں۔ دروازہ کھلتے ہی سامنے چارپائی نظر آتی ہے، جس کے پیچھے ایک بورڈ موجود ہے، جس کا رنگ کبھی سیاہ رہا ہو گا لیکن اب اس پر چونے کا لیپ کر دیا گیا ہے۔

یہ صوبہ سندھ کے صحرائے تھر کے گاؤں واھوڑی دھورا کے ایک سکول منظر ہے، سرکاری ریکارڈ کے مطابق اس گرلز پرائمری سکول میں دو ٹیچر اور 25 طالبات زیر تعلیم ہیں۔

یہاں ہماری ملاقات بند سکول کے ایک استاد ارباب علی سے ہوئی جو قریب ہی رہتے ہیں۔ انھوں نے سکول دکھانے کی ہامی بھری، سکول کے ایک کمرے میں بچے بیٹھے ہوئے تھے جبکہ دوسرے کمرے پر تالا لگا تھا۔ استاد نے جب اسے کھولا تو اندر ٹوٹی ہوئی کرسی اور ایک الماری موجود تھی جب کہ فرش پر دھول جمی تھی۔

استاد ارباب علی کا دعویٰ تھا کہ یہ سکول فعال ہے اور یہاں بچیوں کو پڑھایا جاتا ہے۔ انھوں نے بتایا گاؤں میں فوتگی ہوگئی ہے، لیڈی ٹیچر اور اکثر طالب علم اسی لیے سکول نہیں آئے۔

سکول کے قریب ہی ایک طالب علم کیلاش مینگھواڑ سے ملاقات ہوئی، جو گھر جا رہے تھے۔ کیلاش تقریباً ایک کلومیٹر دور واقع سکول میں پڑھتے ہیں حالانکہ ان کا گھر خالی سکول کے برابر میں ہے ۔

کیلاش کے والد کسان ہیں ان کے دو دوسرے بیٹے نہیں پڑھتے، صرف کیلاش پڑھنا چاہتے ہیں۔ ساتویں جماعت کے طالب علم کیلاش نے بتایا کہ ان کے پڑوس کا سکول اکثر بند ہوتا ہے یا ٹیچر پڑھاتے نہیں اسی لیے انہوں نے دوسرے سکول میں داخلہ لیا ہے۔

ہم جب کیلاش کے سکول پہنچے تو چھوٹے بڑے بچے اور بچیاں تین کمروں میں سے صرف ایک کمرے میں پڑھتے ہوئے نظر آئے۔ ریکارڈ کے مطابق یہ بوائز پرائمری سکول کی عمارت ہے لیکن عملی طور پر یہاں گرلز پرائمری سکول اور مڈل سکول کے طالب علم بھی زیرِ تعلیم ہیں۔

سکول کے پرنسپل خمیسو نہڑی کا کہنا تھا انہیں اس کی اجازت حاصل ہے: ’ایک کمرے میں میرا دفتر ہے جبکہ دو کمروں میں کلاسیں چلاتے ہیں، لڑ کیوں کے سکول کی کچی عمارت بارش میں گر گئی تھی جس وجہ سے وہ بھی یہاں پڑھتی ہیں۔‘

سکول کا ایک کمرہ بند تھا، لیکن اس کی کھڑکی میں سے اندر بیڈ، الماری اور شوکیس دیکھا جاسکتا تھا، اسی طرح پرنسپل کا دفتر فیننسی فرنیچر اور سیاسی رہنماؤں کی تصاویر سے سجا ہوا تھا، لیکن پرنسپل نے کسی سیاسی وابستگی سے لاتعلقی کا اظہار کیا۔

واھوی دھورا میں 63 پرائمری سکول ہیں، جن میں بوائز اور گرلز دونوں شامل ہیں۔

فیض محمد سوڈھو محکمۂ تعلیم تھر پارکر کے ایک ضلعی افسر ہیں۔ وہ عمارتوں کی بہتات کو سیاست رشوت سمجھتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ گذشتہ دس برسوں میں ایک بھی ایسا سکول نہیں ہے، جس کی منظوری محکمۂ تعلیم نے دی ہو، رکن اسمبلی اپنے صوابدیدی کوٹے پر یہ عمارتیں تعمیر کرواتے ہیں جنھیں بعد میں محکمۂ تعلیم کے حوالے کیا جاتا ہے۔ بعد میں ان عمارتوں کی دیکھ بھال میں مشکلات ہوتی ہے۔

"گذشتہ دس برسوں میں ایک بھی ایسا اسکول نہیں ہے، جس کی منظوری محکمۂ تعلیم نے دی ہو۔"

فیض محمد سوڈھو

واھوڑی دہورا گاؤں کی اکثریت ایک ہی برادری سے تعلق رکھتی ہے، جس کا مقامی سیاست میں بڑا اثر رسوخ ہے۔ مقامی لوگوں کو خوش رکھنے کے لیے یہاں بڑے تعداد میں سکول منظور کیے گئے اسی وجہ سے یہاں سکولوں کی عمارتوں کی تعداد میں اضافہ ہوا اور نتیجے میں لوگوں کو روزگار تو ملا لیکن سکول خالی ہیں۔

حکومت کی جانب سے شروع کی گئی تمام ہی اسکیمیں مثبت کے بجائے منفی ثابت ہوئیں۔ ورلڈ فوڈ پروگرام نے بچوں کی حاضری یقینی بنانے کے لیے پرائمری سکولوں میں کھانے کے تیل اور گندم کی فراہمی کی، جس کے زیادہ حصول کے لیے بچوں کے جعلی نام داخل کیے گئےگ

سکول کی مرمت اور نگرانی کے لیے مقامی کمیونٹی کے تعاون سے سکول مینجمنٹ کمیٹی بنائی گئیں، جس کے لیے 20 ہزار سے زائد رقم مختص کی گئی، جس نے مبینہ طور پر کرپشن کے نئے راستے کھول دیے۔ حکومت نے والنٹیئر استاد کی اسکیم متعارف کرائی، جس میں کمیونٹی نے استاد فراہم کیے اور یہ یقین دہانی کرائی کہ اس کی تنخواہیں وہ ادا کریں گے لیکن عمارت ملنے کے بعد یہ سلسلہ بند ہوگیا۔

یہ تمام کہانیاں واھواڑی دھورا میں سننے کو مل جاتی ہیں، لیکن 30 کلومیٹر دور واقع گاؤں مانجھی رند کی کہانی مختلف ہے۔ وہاں مقامی لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت ایک چھپر سکول بنایا ہے۔ یہاں طالب علموں کی تعداد بھی زیادہ ہے اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ لوگ استاد کو خود تنخواہ دیتے ہیں۔

یہاں کے لوگ زیادہ تر شیڈولڈ کاسٹ ہندو کمیونٹی سے تعلق رکھتے ہیں، پاکستان کی روایتی سیاست میں ان کا کوئی کردار نہیں۔ سکول کے استاد ہرناتھ مینگھواڑ نے بتایا کہ یہاں بچے اور ان کے والدین تعلیم میں دلچسپی رکھتے ہیں، ورنہ آس پاس کے گاؤں میں سکول تو کئی ہیں مگر استاد پڑھاتے نہیں ہیں۔

پاکستان میں صوبہ سندھ میں سب سے پہلے تعلیم مفت اور لازمی قرار دی گئی، لیکن جہاں معاشرہ سیاسی، نسلی، ذات برادری میں تقسیم ہوں وہاں تعلیم کا فروغ ناممکن نہیں دشوار ضرور ہے۔

سپریم کورٹ میں گھوسٹ سکولوں اور اساتذہ کے بارے میں رپورٹ کی تشکیل کی ہدایت کے بعد کئی سکولوں پر ضلعی سیشن ججوں نے چھاپے لگائے، لیکن مجموعی صورتحال جوں کی توں ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔