نگران وزیرِاعظم کے انتخاب میں تعطل: انا کا مسئلہ؟

آخری وقت اشاعت:  منگل 19 مارچ 2013 ,‭ 20:30 GMT 01:30 PST

نگران وزیرِاعظم کے انتخاب میں تاخیر وسوسوں کو جنم دے رہی ہے

پاکستان میں نگران وزیرِاعظم کے معاملے پر پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے درمیان تعطل بدستور برقرار ہے۔ دونوں جماعتوں کے پاس کل تک کا وقت ہے جس کے بعد یہ مسئلہ پارلیمانی کمیٹی کے پاس چلا جائے گا۔

اگر وہاں بھی تین روز میں کوئی اتفاقِ رائے حاصل نہ ہوا تو بات بالآخر انتخابی کمیشن کے پاس جائے گی جہاں پھر وہ نگران وزیرِاعظم کے نام کا فیصلہ کرے گا۔ یہ مبصرین کے مطابق ایک غیر جمہوری اقدام ہوگا۔

حکومت ختم ہوئی اور پارلیمان نے اپنی آئینی مدت پوری کر لی۔ اراکینِ قومی اسمبلی واپس اپنے حلقوں کو لوٹ چکے ہیں لیکن اس ملک کو اپنی سیاسی تاریخ کے اہم ترین عام انتخابات میں سے گزارنے کے لیے نگران وزیرِاعظم کا انتخاب ابھی تک نہیں ہوسکا۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن ایک دوسرے کے تجویز کردہ ناموں میں سے کسی ایک پر متفق نہیں ہوسکے ہیں۔

اسلام آباد کے ایک ڈھابے میں چند افراد سے بات کی تو معلوم ہوا کہ تاخیر عام لوگوں میں عجیب و غریب وسوسوں کو جنم دے رہی ہے۔ عبداللطیف قادری نے چائے پیتے ہوئے بتایا کہ انھیں محسوس ہوتا ہے کہ دونوں جماعتیں دھاندلی کا ارادہ رکھتی ہیں اس وجہ سے اپنے ہی امیدوار کو وزیرِاعظم بنانے پر زور دے رہی ہیں۔

"اگر یہ ناکام ہوتے ہیں اور معاملہ بالآخر انتخابی کمیشن کے پاس جاتا ہے تو یہ سیاستدانوں کی بدنامی کا سبب بنے گا۔ یہ جمہوریت کے لیے اچھی روایت نہیں ہوگی۔"

سیاسی مبصر ڈاکٹر حسن عسکری رضوی

عام انتخابات کی وجہ سے نگران وزیرِاعظم کی اہمیت اپنی جگہ لیکن سیاست دانوں کی جانب سے اتفاقِ رائے پر جلد نہ پہنچنا ان کی ساکھ کو مزید نقصان پہنچا سکتا ہے۔ لوگ پوچھ رہے ہیں کہ خیبر پختونخوا کی طرح مرکز اور دیگر صوبوں میں نگران حکومتوں کے لیے پہلے سے مشاورت کیوں شروع نہیں کی جا سکی؟

ماہرین کہتے ہیں کہ نگران حکومت اس لیے بھی اہم ہے کہ اسے کڑوے اقتصادی فیصلے، جیسے کہ آئی ایم ایف سے قرضے کا حصول شامل ہے، کرنے ہوں گے جو سیاستدانوں کے لیے مشکل ہوتے ہیں۔

سیاسی مبصر ڈاکٹر حسن عسکری رضوی کہتے ہیں کہ دونوں سیاسی جماعتوں نے اس کو سیاسی مسئلے سے زیادہ انا کا مسئلہ بنا دیا ہے: ’اگر یہ ناکام ہوتے ہیں اور معاملہ بالآخر انتخابی کمیشن کے پاس جاتا ہے تو یہ سیاستدانوں کی بدنامی کا سبب بنے گا۔ یہ جمہوریت کے لیے اچھی روایت نہیں ہوگی۔‘

مبصرین کے مطابق مسلم لیگ ن وفاق کے علاوہ سندھ اور بلوچستان میں بھی اپنی نگران وزرائے اعلیٰ کے انتخاب میں اپنی مرضی شامل کرنا چاہتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ وہ پنجاب اسمبلی کی تحلیل کی تاریخ کو بھی حتمی فیصلے میں بارگین چپ کے طور پر استعمال کرنا چاہ رہی ہے۔

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔