مہلت ختم، نگراں وزیراعظم کا چناؤ اب پارلیمانی کمیٹی کرے گی

آخری وقت اشاعت:  بدھ 20 مارچ 2013 ,‭ 19:30 GMT 00:30 PST

پاکستان میں نگران وزیراعظم کے نام پر وزیراعظم راجہ پرویز اشرف اور حزب اختلاف کے درمیان اتفاقِ رائے کے لیے آئینی مدت ختم ہونے پر سپیکر قومی اسمبلی نے نگران وزیراعظم کے چناؤ کے سلسلے میں آٹھ رکنی پارلیمانی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔

آئین کے مطابق نگران وزیراعظم کے نام پر اتفاق رائے کے لیے قومی اسمبلی کی تحلیل کے بعد اس اسمبلی کے قائدِ ایوان اور قائدِ حزبِ اختلاف کے پاس تین دن کا وقت ہوتا ہے اور یہ مدت 19 مارچ کو رات بارہ بجے ختم ہو گئی ہے۔

چونکہ اس وقت تک اتفاقِ رائے نہیں ہو سکا اس لیے یہ معاملہ آٹھ رکنی پارلیمانی کمیٹی کے پاس چلا گیا ہے جسے تین دن کے اندر ایک نام پر اتفاق کرنا ہوگا اور ایسا نہ ہونے کی صورت میں الیکشن کمیشن ہی یہ فیصلہ کرنے کا مجاز ہوگا کہ نگراں وزیر اعظم کون بنے گا۔

پی ٹی وی کے مطابق جس پارلیمانی کمیٹی کا نوٹیفیکیشن جاری کیا گیا ہے اس میں مسلم لیگ ن کی جانب سے سینیٹر پرویز رشید، خواجہ سعد رفیق اور سردار مہتاب عباسی اور سردار یعقوب ناصر اور حکومت کی جانب سے پیپلز پارٹی کے خورشید شاہ اور فاروق ایچ نائیک کے علاوہ اے این پی کے غلام احمد بلور اور مسلم لیگ ق کے چودھری شجاعت کے نام شامل ہیں۔

ریڈیو پاکستان کی ویب سائٹ کے مطابق قومی اسمبلی کی سپیکر ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے نگراں وزیرِاعظم کی نامزدگی کے لیے بدھ کے روز ڈھائی بجے پارلیمنٹری کمیٹی کا اجلاس طلب کیا ہے۔

اس سے قبل پاکستان مسلم لیگ نواز کے رہنما چوہدری نثار علی خان نے منگل کو لاہور میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر نگراں وزیر اعظم کا معاملہ اب حل نہیں ہوا تو پارلیمانی کمیٹی میں بھی حل نہیں ہو پائے گا۔

’اب یہ فیصلہ کمیٹی نے کرنا ہے۔ اس کے بعد میں کم از کم وفاق میں یہ کہہ سکتا ہوں اور شاید پنجاب میں بھی کہ اب میرا خیال ہے کہ کمیٹی کو ضرور یہ فیصلہ کرنا ہے۔ مگر اگر قائدِ ایوان یا سابق قائدِ ایوان اور قائدِ حزبِ اختلاف یا سابق قائدِ حزبِ اختلاف میں یہ فیصلہ نہیں ہوتا تو ظاہر ہے کہ کمیٹی میں بھی فیصلہ نہیں ہو پائے گا۔‘

وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے اس معاملے پر مشاورت کے لیے منگل کو پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنماؤں کا اجلاس بلایا تھا۔

صوبائی سطح پر بھی نگراں سیٹ اپ کے لیے مشاورت کا عمل ابھی جاری ہے اور خیبر پختونخوا کے علاوہ کسی اور صوبے میں تاحال نگران وزیراعلیٰ کے لیے کوئی متفقہ نام باقاعدہ طور پر سامنے نہیں آیا ہے۔سیاسی ذرائع کے مطابق سندھ میں نگراں وزیرِاعلیٰ کے لیے جسٹس (ر) زاہد قربان علوی کے نام پر اتفاق ہو گیا ہے تاہم اس کا باقاعدہ اعلان بدھ کے دن کیا جائے گا۔

انتخابی نشانات

پاکستان کے الیکشن کمیشن نے سیاسی جماعتوں کو انتخابی نشان الاٹ کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرینز کو تیر، مسلم لیگ نون کو شیر، مسلم لیگ قاف کو سائیکل، عوامی نیشنل پارٹی کو لالٹین، متحدہ قومی موومنٹ کو پتنگ، پختونخوا ملی عوامی پارٹی کو درخت، مسلم لیگ فنکشنل کو پھول اور جمعیت علماء اسلام ف کو کتاب کا نشان الاٹ کیا گیا ہے۔ پاکستان تحریکِ انصاف اور جماعتِ اسلامی دونوں ترازو کے نشان کی خواہشمند تھیں لیکن یہ انتخابی نشان جماعتِ اسلامی کو ملا جبکہ پاکستان تحریک انصاف کو کرکٹ کے بلے کا نشان دیا گیا ہے۔

خیبر پختونخوا میں اس عہدے کے لیے حکومت اور اپوزیشن نے چند دن قبل ہی جسٹس (ر) طارق پرویز کے نام پر اتفاق کیا تھا۔

اٹھارہ مارچ کو صوبہ بلوچستان کی اسمبلی کی تحلیل کے باوجود وہاں بھی نگران وزیراعلیٰ کے لیے کسی نام پر تاحال اتفاق نہیں ہوا ہے تاہم پاکستان کے سرکاری ٹی وی کے مطابق سندھ میں حکمراں جماعت پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ نگراں وزیراعلیٰ کے لیے جسٹس ریٹائرڈ زاہد قربان علوی کے نام پر متفق ہوگئی ہیں۔

صوبہ پنجاب کی اسمبلی جس کی آئینی مدت آئندہ ماہ نو اپریل کو پوری ہو گی، کی تحلیل اور نگران وزیراعلیٰ کے نام پر بھی کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی ہے۔

پنجاب حکومت کی جانب سے نگران وزیراعلیٰ کے لیے تاحال کوئی نام نہیں دیا گیا۔ صوبے میں حزبِ اختلاف کی جماعت پیپلز پارٹی نے عاصمہ جہانگیر، میاں عامر محمود اور حفیظ اختر رندھاوا کے نام تجویز کیے تھے جن میں سے مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق عاصمہ جہانگیر نے یہ عہدہ سنبھالنے سے پہلےہی معذرت کر لی ہے۔

دوسری جانب پاکستان کے الیکشن کمیشن نے سیاسی جماعتوں کو انتخابی نشان الاٹ کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرینز کو تیر، مسلم لیگ نون کو شیر، مسلم لیگ قاف کو سائیکل، عوامی نیشنل پارٹی کو لالٹین، متحدہ قومی موومنٹ کو پتنگ، پختونخوا ملی عوامی پارٹی کو درخت، مسلم لیگ فنکشنل کو پھول اور جمعیت علماء اسلام ف کو کتاب کا نشان الاٹ کیا گیا ہے۔

پاکستان تحریکِ انصاف اور جماعتِ اسلامی دونوں ترازو کے نشان کی خواہش مند تھیں لیکن یہ انتخابی نشان جماعتِ اسلامی کو ملا جبکہ پاکستان تحریک انصاف کو کرکٹ کے بلے کا نشان دیا گیا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔