پشاور کے مضافاتی علاقوں میں سرچ آپریشن

آخری وقت اشاعت:  منگل 19 مارچ 2013 ,‭ 14:06 GMT 19:06 PST

سرچ آپریشن میں دو ہزار سے زیادہ پولیس اہلکاروں نے حصہ لیا

پشاور میں پیر کو جوڈیشل کمپلیکس پر شدت پسندوں کے حملے کے بعد پولیس اور ایف سی نے شہر کے مضافاتی علاقوں میں کارروائی کی ہے جس میں دو درجن سے زیادہ لوگ گرفتار ہوئے ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ شہر کے مضافاتی تین مختلف علاقوں میں پولیس نے شدت پسندوں کے خلاف سرچ آپریشن کیا ہے۔

پولیس اہلکاروں کے مطابق یہ کارروائی منگل کی رات شروع کی گئی اور منگل کی صُبح ختم ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ کارروائی کے دوران دو درجن سے زیادہ مشکوک افراد کو گرفتار کیا گیا۔

پولیس کا کہنا تھا جن علاقوں میں کارروائی ہوئی ہے یہ علاقے خیبر ایجنسی کے سرحد پر واقع سربند، بڈھ بیر اور متنی کے علاقے شامل ہیں اور سرچ آپریشن کے دوران مختلف مکانوں سے بھاری اسلحہ بھی برآمد ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس کارروائی میں پولیس کو فوج اور ایف سی کی مدد بھی حاصل تھی۔ اس کارروائی میں دو ہزار سے زیادہ پولیس اہلکاروں نے حصہ لیا۔ البتہ اس دوران کوئی ناخوشگوار واقع پیش نہیں آیا۔

ان کا کہنا تھا کہ پولیس کو گزشتہ روز جوڈیشل کمپلیکس پر حملے میں ملوث شدت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع ملی تھی جس پر یہ کارروائی کی گئی ہے۔

دوسری جانب پشاور جوڈیشل کمپلیکس پر حملے کے خلاف وکلاء نے آج پشاور میں عدالتوں کا بائیکاٹ کیا جبکہ حملے کا مقدمہ شرقی تھانے میں ایس آئی ظفرعلی خان کی مدعیت میں نامعلوم افراد کے خلاف درج کرلیاگیا۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز پشاور کے جوڈیشل کمپلیکس میں دو خودکش حملہ آوروں نے گھس کر فائرنگ کی اور بعد میں ان میں سے ایک نے خود کو دھماکے سے اُڑالیا۔ دوسرے خودکش حملہ آور کو سکیورٹی فورسز نے فائرنگ کرکے ہلاک کردیاتھا۔ حملے میں چار افراد ہلاک اور تیس سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔

اسی بارے میں

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔