توہینِ عدالت:’چیئرمین نیب پر فردِ جرم عائد ہوگی‘

آخری وقت اشاعت:  بدھ 20 مارچ 2013 ,‭ 10:59 GMT 15:59 PST

پاکستان کی سپریم کورٹ نے توہین عدالت کے معاملے میں قومی احتساب بیورو کے چیئرمین ایڈمرل (ریٹائرڈ) فصیح بخاری پر دو اپریل کو فردِ جرم عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اگر چیئرمین نیب توہین عدالت کے مرتکب پائے گئے تو وہ اس عہدے پر کام نہیں کر سکیں گے۔

یہ فیصلہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے توہین عدالت کیس کی سماعت کے دوران دیا ہے۔

کلِک نیب چیئرمین کی عدلیہ پر تنقید، استعفے کی دھمکی

بینچ نے چیئرمین نیب کے وکیل کی جانب سے چیف جسٹس افتخار چوہدری کے بینچ سے الگ ہونے کی درخواست مسترد کر دی۔

خیال رہے کہ سپریم کورٹ نے چیئرمین نیب کو یہ نوٹس صدرِ پاکستان کو لکھے گئے ایک خط کی بنا پر دیا گیا تھا جس میں انہوں نے عدلیہ کے کردار پر تنقید کی تھی۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق منگل کو توہین عدالت کیس کی سماعت کے موقع پر چیئرمین نیب ایڈمرل ریٹائرڈ فصیح بخاری کے وکیل نوید رسول نے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے بینچ سے الگ ہونے کے متعلق دلائل دیتے ہوئے کہا کہ خط میں چیف جسٹس پر الزامات عائد کیے گئے ہیں اور بینچ کی روایت کے مطابق جس جسٹس پر الزامات ہوں تو وہ بینچ کا حصہ نہیں ہوتے۔

اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ خط میں سپریم کورٹ کا دس مرتبہ ذکر ہے اور یہ ان کا معاملہ نہیں بلکہ ادارے کی ساکھ کا معاملہ ہے۔

اس پر چیئرمین نیب کے وکیل نے عدلیہ بحالی تحریک کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کے موکل نے ججوں کی بحالی میں سرگرم کردار ادا کیا اور اس دوران مار بھی کھائی۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ یہ معاملہ الگ ہے اور ماریں کھانے کا مطلب یہ نہیں کہ توہین عدالت کے مرتکب ہوں۔

انہوں نے مزید کہا کہ چیئرمین نیب پر توہین عدالت کی نوعیت کریمنل اور سول ہے۔

ایڈووکیٹ نوید رسول نے عدالت سے استدعا کرتے ہوئے کہا کہ موکل کو عدالت میں پیش ہونے سے استثنیٰ دی جائے تو اسے چیف جسٹس نے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ سابق وزرائے اعظم بھی عدالت میں پیش ہو چکے ہیں اور اس لیے انہیں بھی عدالت میں پیش ہونا پڑے گا۔

بینچ میں شامل جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا ہے کہ چیئرمین نیب کے خط میں واضح طور پر لکھا ہے کہ عدلیہ باقاعدہ طور پر ملک میں جموریت اور جمہوری نظام کو ڈی ریل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ ان الزامات کو رد نہیں کر سکتی ہے۔

بینچ کے فیصلے کے مطابق چیئرمین نیب ایڈمرل ریٹائرڈ فصیح بخاری پر دو اپریل کو فردِ جرم عائد کی جائے گی۔

دو اپریل کو اٹارنی جنرل استغاثہ کا کردار ادا کریں گے اور اگر وہ دو اپریل کو انکار کر دیتے ہیں تو صورت میں سپریم کورٹ کو یہ اختیار حاصل ہو گا کہ وہ کسی بھی وکیل کو استغاثہ قرار دے دے۔

خیال رہے کہ عدالت نے کہا تھا کہ نیب کے چیئرمین نے خط کے ذریعے عدالت کے خلاف نفرت پھیلانے اور اسے بدنام کرنے کی کوشش کی ہے جس کی انہیں اجازت نہیں ہے۔

عدالت نے نیب کے تفتیشی افسر کامران فیصل کی ہلاکت سے متعلق کیس میں بھی چیئرمین نیب کو توہین عدالت میں اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کیا ہوا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔