دتہ خیل میں ڈرون حملہ، چار ’غیر مقامی‘ افراد ہلاک

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 22 مارچ 2013 ,‭ 11:05 GMT 16:05 PST

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں انتظامیہ کا کہنا ہے کہ جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب کو ایک ڈرون حملے میں چار افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

ہمارے نامہ نگار نے بتایا کہ مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ امریکی ڈرون حملے نے شمالی وزیرستان کے صدر مقام میرانشاہ سے چالیس کلومیٹر دور افغان صدر کے قریب تحصیل دتہ خیل میں کیا گیا۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ امریکی ڈرون نے ایک مکان پر دو میزائل داغے جس کے نتیجے میں چار افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے چاروں افراد مقامی نہیں تھے۔

تاہم انتظامیہ ان افراد کی شناخت کے بارے میں معلومات حاصل کر رہی ہے۔

مقامی افراد کا کہنا ہے کہ ڈرون حملے کے نتیجے میں مکان کے دو کمرے تباہ ہو گئے۔ حملے کے فوراً بعد طالبان دو گاڑیوں میں آئے اور لاشیں لے کر چلے گئے۔

یاد رہے کہ پاکستان میں ہونے والے امریکی ڈرون حملوں کے نقصان کے بارے میں تحقیقات کرنے والی اقوامِ متحدہ کی ٹیم کے سربراہ نے کہا تھا کہ ڈرون حملے پاکستان کی خود مختاری کی خلاف ورزی ہے۔

اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق اور انسدادِ دہشتگردی سے متعلق خصوصی نمائندے بین ایمرسن کا کہنا تھا کہ پاکستان حکومت نے انہیں واضح طور پر بتایا ہے کہ حملوں میں ان کی مرضی شامل نہیں ہے، جبکہ امریکی حکام اس بات سے انکار کرتے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے اعدادوشمار کے متعلق بین ایمرسن کی طرف سے جمعہ کو اے پی کو بھیجی جانے والی ایک ای میل میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی حکومت نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اس کی سرزمین پر ہونے والے ڈرون حملوں میں کم از کم 400 کے قریب عام شہری مارے جا چکے ہیں۔

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔