نگراں وزیراعلیٰ کے نام پر اختلافات برقرار

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 22 مارچ 2013 ,‭ 11:59 GMT 16:59 PST

شہباز شریف کے مطابق ان کے پیش کردہ ناموں سے اگر بہتر نام آئے تو وہ قبول کر لیں گے

صوبہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ شہباز شریف اور حزب مخالف کی جماعت پیپلز پارٹی کے درمیان صوبے کے نگراں وزیر اعلیٰ کے نام پر اتفاق نہیں ہوسکا ہے اور اب یہ امکان بڑھ گيا ہے کہ یہ معاملہ بھی پارلیمانی کمیٹی کے پاس غور کے لیے جائےگا۔

حزب اختلاف کی جماعت پیپلز پارٹی کے رہنما راجہ ریاض نے پارلیمانی کمیٹی کے لیے تین نام وزیر اعلیٰ پنجاب کو بھجوا دیے ہیں۔

ہمارے نامہ نگار نے بتایا کہ راجہ ریاض نے پارلیمانی کمیٹی کے لیے حزب مخالف کی جانب سے پیپلز پارٹی کے میجر ریٹائرڈ ذوالفقار گوندل ، شوکت بسرا اور مسلم لیگ قاف کے چودھری ظہیرالدین خان کے نام تجویز کیے ہیں۔

مسلم لیگ نون نے ابھی تک پارلیمانی کمیٹی کے لیے اپنے تین ناموں کا اعلان نہیں کیا ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور پیپلز پارٹی کے راجہ ریاض کی جانب سے نگراں وزیر اعلیٰ کے لیے دو، دو نام تجویز کیےگئے لیکن دو دن گزرنے کے باوجود کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی۔

گورنر پنجاب نے بدھ کی رات پنجاب اسمبلی کو تحلیل کر دیا تھا ور آئین کے مطابق وزیر اعلیْ اور حزب مخالف کی جماعت نے تین دونوں کے اندر نگراں وزیراعلیْ کے نام پر اتفاق کرنا ہے ورنہ یہ معاملہ پارلیمانی کمیٹی کے پاس چلا جائے گا۔

وزیر اعلیْ پنجاب اور حزب مخالف کی جماعت پیپلز پارٹی کے پاس نگراں وزیر اعلیٰ کے نام پر اتفاق کرنے کے لیے کل یعنی سنیچر کی رات بارہ بجے تک کا وقت ہے تاہم پارلیمانی کمیٹی کے رکن اور پیپلز پارٹی کے رہنما شوکت بسرا کے مطابق یہ معاملہ پارلیمانی کمیٹی کے پاس جائے گا۔

شوکت بسر ا نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ پارلیمانی کمیٹی صوبے کے نگراں وزیراعلیْ کے نام پر اتفاق کرنے میں کامیاب ہوجائے گی اور یہ معاملہ الیکشن کمیشن کے پاس نہیں جائےگا۔

اس سے پہلے مسلم لیگ نون کے رہنما اور وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے کہا تھا کہ صوبے میں حزب مخالف کی جماعت نے نگراں وزیر اعلیٰ کے لیے انہیں جو دو نام دیے ہیں وہ انہیں قابل قبول نہیں ہیں۔

وزیر اعلیٰ پنجاب نے یہ پیشکش بھی کی کہ اگر حزب مخالف کی جماعت ان کے پیش کردہ ناموں سے بہتر نام پیش کرے گی تو وہ ایک سیکنڈ ضائع کے بغیر اس نام کو قبول کرلیں کے۔

مسلم لیگ نون نے نگراں وزیر اعلیٰ پنجاب کے لیے جسٹس ریٹائرڈ عامر رضا خان اور سابق بیوروکریٹ خواجہ ظہیر کے نام جبکہ حزب مخالف کی جماعت پیپلز پارٹی نے سابق چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس زاہد حسین اور سابق چیف سیکرٹری پنجاب حفیظ اختر رندھاوا کے نام تجویز کیے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔