’پاکستان ویسا نہیں رہا جیسا چھوڑ کرگیا تھا‘

آخری وقت اشاعت:  اتوار 24 مارچ 2013 ,‭ 08:02 GMT 13:02 PST

پرویز مشرف نومبر سال دو ہزار آٹھ کو بیرون ملک چلے گئے تھے اور اس کے بعد پہلی بار پاکستان پہنچ رہے ہیں

پاکستان کے سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے تقریباً چار سالہ خود ساختہ جلاوطنی کے خاتمے پر کراچی پہنچنے کے بعد کہا ہے کہ پاکستان اب ایسا نہیں رہا جیسا وہ پانچ سال پہلے چھوڑ کرگئے تھے۔

پرویز مشرف اتوار کی دوپہر کراچی پہنچے تھے۔ ان کی پاکستان آمد کے بارے میں زبردست تشہیری مہم تو چلائی گئی تھی مگر اس کے برعکس ایئر پورٹ پر ان کی جماعت کے کارکنوں اور حمایتیوں کی تعداد اتنی نہیں تھی جتنی توقع کی جا رہی تھی۔

کارکنوں کے مقابلے میں ایئر پورٹ پر سکیورٹی اہلکاروں اور میڈیا کی تعداد بہت زیادہ تھی اور پولیس، رینجرز اور ایئر پورٹ سکیورٹی فورس کے علاوہ سادہ لباس میں سینکڑوں کی تعداد میں اہلکار وہاں موجود تھے۔

ایئرپورٹ پر موجود کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے جنرل مشرف نے کہا کہ وہ ملک کو قائد اعظم کا پاکستان بنانا چاہتے ہیں اور انہیں یقین ہے کہ انہیں ملک بھر میں کامیابی ملے گی۔

کراچی میں بدامنی کے بارے میں سابق صدر نے کہا کہ شہر میں امن کے دوبارہ قیام کے لیے سب کو مل کر جدوجہد کرنا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ کراچی تمام قومیتوں کا شہر ہے اس کے امن کی خاطر آپس کے اختلافات ختم کرنے ہوں گے۔

اس سے قبل جنرل ریٹائرڈ مشرف نے دبئی میں جہاز میں سوار ہونے کے بعد مائیکرو بلاگنگ کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک ٹویٹ میں لکھا کہ ’ اپنے گھر واپس جانے کے لیے جہاز میں سیٹ پر بیٹھ گیا ہوں۔ سب سے پہلے پاکستان۔‘

پاکستان روانگی سے قبل دوبئی میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے پرویز مشرف نے کہا کہ انہیں اس بات کی خوشی ہے کہ کراچی میں انتظامیہ کو ان کی فکر ہے اور انہوں نے طالبان کی دھمکی کے پیش نظر جلسے کا مقام تبدیل کر دیا ہے۔

سابق صدر نےکراچی آمد کے بعد اتوار کی شام پانچ بجے مزارِ قائد کے قریب گراؤنڈ میں جلسے سے خطاب کرنا تھا۔ تاہم حکومت نے گذشتہ رات مزار قائد پر جلسے کا این او سی یعنی اجازت نامہ منسوخ کر دیا۔

اعلان کے مطابق پرویز مشرف کراچی ائیر پورٹ پر جلسے سے خطاب کریں گے

پرویز مشرف کی جماعت آل پاکستان مسلم لیگ کی کراچی میں ترجمان آسیہ اسحاق نے بی بی سی بات کرتے ہوئے کہا کہ’ کراچی کی انتظامیہ نے سنیچر کو رات گئے انہیں سکیورٹی خدشات کے باعث این او سی منسوخ کرنے کے بارے میں آگاہ کیا۔‘

سابق صدر کا یہ بھی کہنا تھا کہ اب وہ جس دنیا میں جا رہے ہیں وہاں بہت سارے مسائل موجود ہیں اور وہ امید کرتے ہیں کہ ان مسائل کا مقابلہ کریں گے اور ان کے حل میں اپنا کردار ادا کریں گے۔

دبئی میں بی بی سی کے نامہ نگار حسن کاظمی کے مطابق سابق صدر کی سکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے گئے اور مقامی سکیورٹی اہلکاروں کے علاوہ سول کپڑوں میں ملبوس اہلکاروں کی ایک بڑی تعداد دبئی میں ان کی رہائش گاہ سے ایئر پورٹ روانگی کے وقت ان کے ساتھ تھی۔ اس کے علاوہ میڈیا کے نمائندوں کی کثیر تعداد ان کے ہمراہ ہے۔

خیال رہے کہ جنرل پرویز مشرف نے اٹھارہ اگست دو ہزار آٹھ کو صدر پاکستان کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا اور کچھ عرصہ پاکستان میں رہنے کے بعد نومبر دو ہزار آٹھ میں بیرون ملک چلے گئے تھے۔ جلاوطنی کے دوران وہ لندن اور متحدہ عرب امارات میں رہائش پذیر رہے۔

پاکستانی واپسی پر جنرل(ر) مشرف کو متعدد مقدمات کا بھی سامنا ہے اور دو دن قبل ہی سندھ ہائی کورٹ نے تین مقدمات میں ان کی حفاظتی ضمانتیں منظور کی ہیں۔

جنرل پرویز مشرف پر خودکش حملے میں ہلاک ہونے والی سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کو مطلوبہ حفاظت فراہم نہ کرنے، بلوچستان کے قوم پرست رہنما نواب اکبر بگٹی کے قتل کی سازش کرنے اور چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سمیت ساٹھ ججوں کو حبس بےجا میں رکھنے کا الزام ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔