نئی حلقہ بندیوں کا فیصلہ عدالت میں چیلنج

آخری وقت اشاعت:  پير 25 مارچ 2013 ,‭ 10:23 GMT 15:23 PST

متحدہ قومی موومنٹ نے کراچی میں گیارہ حلقوں کی نئی حد بندی کرنے کے فیصلے کے خلاف سندھ ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کر دی ہے۔

سندھ ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کرنے کے بعد متحدہ قومی موومنٹ کے وکیل بیرسٹر فرغ نسیم نے بتایا کہ اس پٹیشن میں حقلہ بندیوں کے نوٹیفکیشن کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سولہ مارچ کو قومی اسمبلی اور انیس مارچ کو سندھ کی صوبائی اسمبلی تحلیل کی گئی اور اس کے بعد سترہ مارچ کو حتمی انتخابی فہرست سامنے آئی، اس کے بعد بیس مارچ کو صدر اور چاروں گورنر صاحبان نے گیارہ مئی کو عام انتخابات منعقد کرانے کا نوٹیفیکشن جاری کیا۔

فرغ نسیم نے کہا کہ حلقہ بندیوں کا نوٹیفیکشن بائیس مارچ کو آیا ہے تو اس طرح’ہر حساب سے انتخابی عمل شروع ہونے کے بعد حلقہ بندیوں کا نوٹیفیکشن کالعدم ہے۔‘

’قانون اور آئین کے بنیادی اصول کے برخلاف کسی کو کوئی نوٹس نہیں دیا گیا اور نہ ہی کوئی شنوائی ہوئی ہے۔‘

ایم کیو ایم کے رہنما فاروق ستار نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ’ایسا معلوم ہوتا ہے کراچی کی عوام کو ایم کیو ایم کا ساتھ دینے کی سزا دی جا رہی ہے اور ایم کیو ایم کے ووٹ بینک کو تقسیم کرنے کی سازش ہے۔‘

کراچی میں ووٹر فہرستوں کی تصدیق کے حوالے سے کیے جانے والے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ووٹر فہرستوں کو آویزاں کرنے میں تاخیر ہو رہی ہے، یہ بھی اسی فیصلے سے جڑا ہے کہ گھر گھر جا کر ووٹر فہرستوں کی دوبارہ تصدیق ہو گی تو وہ بھی کراچی میں ہو گی، اگر کراچی کی ووٹر فہرستوں میں کوئی کمی تھی تو اس طرح سے ملک کے تمام اضلاح میں اسی طرح کی کمی تھی۔

خیال رہے کہ 23 مارچ کو الیکشن کمیشن نے کراچی کے گیارہ حلقوں کی نئی حد بندی کا نوٹیفیکشن جاری کیا تھا۔

الیکشن کمیشن کے نوٹیفکیشن کے مطابق کراچی میں قومی اسمبلی کے تین اور صوبائی اسمبلی کے آٹھ حلقوں کی حد بندیاں کی جائیں گی۔

دوسری جانب متحدہ قومی موومنٹ نے کراچی کے گیارہ حلقوں کی نئی حد بندی کرنے پر الیکشن کمیشن پر عدم اعتماد کا اظہار کیا تھا۔

قومی اسمبلی کے جن حلقوں کی حد بندیاں کی جائیں گی ان میں این اے 239، این اے 250 اور این اے 254 شامل ہیں۔

سال 2008 کے عام انتخابات میں این اے 239 سے پیپلز پارٹی کے امیدوار نے کامیابی حاصل کی تھی جبکہ این اے 250 اور 254 سے ایم کیو ایم کے امیدوار کامیاب ہوئے تھے۔

صوبائی اسمبلی کے آٹھ حلقوں میں پی ایس 89، پی ایس 112، پی ایس 113، پی ایس 114، پی ایس 115، پی ایس 116، پی ایس 118 اور پی ایس 124 شامل ہیں۔

ان حلقوں میں پی ایس 89 کے علاوہ بقیہ سات سیٹوں سے متحدہ قومی موومنٹ کامیاب رہی تھی۔ پی ایس 89 سے پیپلز پارٹی نے کامیابی حاصل کی تھی۔

گزشتہ ماہ سپریم کورٹ نے کراچی میں انتخابی حلقہ بندیوں میں ردو بدل کا فیصلہ موخر کرنے کے بارے میں الیکشن کمیشن کی درخواست مسترد کردیی تھی اور انتخابات سے قبل منصفانہ حد بندی کا فیصلہ برقرار رکھا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔