نگراں وزیراعلیٰ: دوسرا اجلاس بے نتیجہ

آخری وقت اشاعت:  پير 25 مارچ 2013 ,‭ 12:10 GMT 17:10 PST
اسمبلی صوبہ پنجاب

پنجاب پاکستان کا واحد صوبہ ہے جہاں ابھی تک نگراں وزیر اعلی کی نامزدگی کا معاملہ طے نہیں ہوسکا ہے

پاکستان کے صوبہ پنجاب میں نگراں وزیر اعلیٰ کی نامزدگی کے لیے چھ رکنی کمیٹی دوسرے روز بھی کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکی۔

کیمٹی کے ارکان نے یہ امید ظاہر کی ہے کہ وہ منگل کو نگراں وزیر اعلیٰ کی نامزدگی کے بارے میں خوشخبری کا اعلان کریں گے۔

کمیٹی کے ارکان نے کہا ہے کہ اتفاق رائے نہ ہونے کی وجہ تجویز کردہ ناموں پر اعتماد کی کمی ہے۔

کمیٹی کا اجلاس پنجاب اسمبلی میں پیر کو دوبارہ شروع ہوا تو چھ رکنی کیمٹی نے ان چار ناموں پر تفیصلی غور کیا جو وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور حزب مخالف کی جماعت پیپلز پارٹی کے رہنما راجہ ریاض نے تجویر کیے تھے۔

ایڈووکیٹ جنرل پنجاب اور سیکریٹری قانون نے کمیٹی کو بتایا کہ اس مرحلے پر نگراں وزیر اعلیٰ کی نامزدگی کے لیے کوئی نیا نام شامل نہیں کیا جا سکتا۔

کمیٹی نے گزشتہ روز اتوار کو ایڈووکیٹ جنرل پنجاب اور صوبائی سیکریٹری قانون سے یہ رائے مانگی تھی کہ آیا کمیٹی نگراں وزیر اعلیٰ کے لیے کوئی نیا نام شامل کر کے اس پر غور کر سکتی۔

پنجاب ملک کا واحد صوبہ ہے جہاں ابھی تک نگراں وزیر اعلیٰ کی نامزدگی کا معاملہ طے نہیں ہو سکا۔

اجلاس کے بعد کمیٹی کے رکن چودھری ظہیر الدین نے بتایا کہ کمیٹی ابھی کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکی تاہم نگراں وزیر اعلیٰ کے معاملے پر بات مبثت انداز میں آگے بڑھ رہی ہے اور کمیٹی نتیجے کے قریب پہنچ گئی ہے۔

چودھری ظہیر الدین نے بتایا کہ منگل کو تجویز کردہ چار ناموں سے نام شاٹ لسٹ کیے جائیں گے اور وزیر اعلیٰ کی نامزدگی کے بارے میں خوشخبری سنائی جائے گی۔

مسلم لیگ نواز نے نگراں وزیر اعلیٰ پنجاب کے لیے جسٹس ریٹائرڈ عامر رضا خان اور سابق بیوروکریٹ خواجہ ظہیر کے نام جبکہ حزب مخالف کی جماعت پیپلز پارٹی کے سابق چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس زاہد حسین اور صحافی نجم سیٹھی کے نام تجویز کیے ہیں۔

لاہور سے نامہ نگار کے مطابق کمیٹی کے رکن اور سابق وزیر قانون پنجاب رانا ثناء اللہ خان نے میڈیا کو بتایا کہ حزب مخالف نے حکومت کے تجویز کردہ دو ناموں پر جو اعتراضات اٹھائے تھے ان کو دلیل کے ساتھ مسترد کر دیا ہے۔

رانا ثناء اللہ خان نے بتایا کہ ان کی جماعت نے دیگر جماعتوں کے ساتھ مشاورت کے بعد دو نام تجویز کیے ہیں اس لیے اپوزیشن ان کے ناموں سے کسی ایک نام کا انتخاب کرے۔

سابق وزیر قانون نے کہا کہ ان کی طرف سے حزب مخالف کے لیے پیش کردہ ناموں پر کوئی اعتراض نہیں اٹھایا گیا کیونکہ بقول ان کے تجویز کردہ دونوں نام ان کے تجویز کردہ ناموں کی طرح غیر جانبدار اور بے داغ ماضی رکھنے والے ہیں۔

چھ رکنی کمیٹی کے پاس ایک دن کی مہلت باقی ہے اور ناکامی کی صورت میں یہ معاملہ الیکشن کمیشن کے پاس چلا جائے گا۔

گورنر پنجاب نے بدھ کی رات پنجاب اسمبلی کو تحلیل کیا تھا اور آئین کے مطابق وزیر اعلیٰ اور حزب مخالف کی جماعت نے تین دونوں کے اندر نگراں وزیراعلیٰ کے نام اتفاق کرنا تھا لیکن وزیر اعلیٰ کی نامزدگی پر کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔