’لاشیں پھینکنے کا سلسلہ بند ہونا چاہیے‘

Image caption بدامنی کے واقعات میں ملوث افراد کو عدالتوں کے سامنے پیش کیا جائے: اختر مینگل

بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اخترجان مینگل نے کہا ہے کہ جب تک صوبے میں لاپتہ افراد کی مسخ شدہ لاشیں ملنے کا سلسلہ جاری ہے اور لاپتہ افراد کو منظرعام پر نہیں لایا جاتا ہے اس وقت تک انتخابات کے لیے حالات سازگار نہیں ہوسکتے ہیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے آج کراچی میں پارٹی کے مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس کے موقع پر بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے۔

کراچی میں ہونے والے بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل گروپ کے مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس کی صدارت پارٹی کے سربراہ اور سابق وزیرِ اعلیٰ بلوچستان سرداراختر جان مینگل کر رہے ہیں۔

اجلاس میں اس بات پر غور ہو رہا ہے کہ گیارہ مئی کو ملک میں ہونے والےعام انتخابات میں حصہ لیاجائے یا نہیں اور اگر حصہ لیا جائے تو کن کن جماعتوں کے ساتھ اتحاد ممکن ہے۔

بی بی سی اردو سروس سے بات کرتے ہوئے اختر مینگل نے کہا کہ صوبے میں گزشتہ دس سے پندرہ سالوں کے دوران حالات بے حد خراب کر دیےگئے ہیں اور وہاں انتخابات کے لیے حالات سازگار نہیں ہیں۔

سردار اختر مینگل سے جب پوچھاگیا کہ ان کے خیال میں حالات کوکس طرح بہتر بنایا جاسکتا ہے توان کا جواب تھا ’سب سے پہلے خفیہ اداروں کی مداخلت بند کی جائے۔ ڈیتھ سکواڈ کا خاتمہ کیاجائے۔ لاپتہ افراد کو بازیاب کرایا جائے، مسخ شدہ لاشیں پھنکنے کاسلسلہ بند کیا جائے۔اگر کوئی بدامنی کے واقعات میں ملوث ہیں توان کوعدالتوں کے سامنے پیش کیا جائے۔‘

یاد رہے کہ بلوچستان نیشنل پارٹی، پشتونخواملی عوامی پارٹی اورنیشل پارٹی نےجنرل پرویزمشرف کی فوجی حکومت پرعدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئےنہ صرف سال دوہزار آٹھ میں ہونے والے انتخابات کا بائیکاٹ کیا بلکہ سردار اخترجان مینگل چار برسوں تک خودساختہ جلاوطنی میں رہے۔

اس سے قبل بلوچستان میں بدامنی کے متعلق مقدمے میں انہوں نے سپریم کورٹ میں پیش ہوکر بھی اپنا بیان قلمبند کرایا تھا۔

اسی بارے میں