رینٹل پاور:سابق وزیراعظم کو توہینِ عدالت کا نوٹس

پاکستان کی سپریم کورٹ نے کرائے کے بجلی گھروں کے معاملات کی تحقیق کے لیے کمیشن کی تعیناتی کےحوالے سے اس وقت کے وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کے خط کو بادی النظر میں عدالتی امور میں مداخلت کی کوشش قرار دیتے ہوئے توہینِ عدالت کے معاملے میں اظہارِ وجوہ کا نوٹس جاری کر دیا ہے۔

عدالت نے اس معاملے کی سماعت دو ہفتے کے لیے ملتوی کرتے ہوئے انہیں مقدمے کی آئندہ سماعت پر عدالت میں خود حاضر ہونے کا حکم دیا ہے۔

راجہ پرویز اشرف نے اپنی حکومت کے خاتمے سے ایک ہفتہ قبل آٹھ مارچ کو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو ایک خط تحریر کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ کرائے کے بجلی گھروں کے مقدمے میں منفی پروپیگنڈے سے انھیں مایوسی اور ان کی دل آزاری ہوئی ہے۔

انہوں نے اس خط میں عدالت کو تجویز دی تھی کہ کرائے کے بجلی گھروں کے منصوبےسے متعلق الزامات کی تحقیقات کے لیے سابق پولیس افسر شعیب سڈل کی سربراہی میں آزاد کمیشن تشکیل دیا جائے۔

جمعرات کو اسلام آباد میں چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے اس معاملے کی سماعت کی۔

ہمارے نامہ نگار کے مطابق راجہ پرویز اشرف کے وکیل وسیم سجاد نے عدالت سے کہا کہ چیف جسٹس کو پاکستانی شہری ایسے خط تحریر کرتے رہتے ہیں جس پر عدالت نے کہا کہ راجہ پرویز اشرف نے بطور وزیراعظم یہ خط لکھا اور وہ خود اس مقدمے میں نامزد ملزم بھی ہیں۔

عدالت کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ اس وقت کے وزیراعظم کو اپنے ملکی اداروں پر اعتماد نہ تھا

سماعت کے دوران عدالت کا کہنا تھا کہ اگر راجہ پرویز اشرف کی استدعا مان لی جائے تو پھر ہر وزیراعظم عدالت کو خط لکھے گا اور عوام کو یہ تاثر ملے گا کہ سپریم کورٹ وزیراعظم سے متاثر ہوئی ہے۔

اس پر وسیم سجاد نے عدالت سے استدعا کی کہ وہ چاہے تو اس خط کو مسترد کر دے تاہم عدالت نے کہا کہ یہ ججوں پر براہِ راست اثرانداز ہونے کی کوشش ہے اور کیوں نہ ان کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی کی جائے۔

Image caption ایسا دکھائی دیتا ہے کہ اس وقت کے وزیراعظم کو اپنے ملکی اداروں پر اعتماد نہ تھا: سپریم کورٹ

عدالت کا یہ بھی کہنا تھا کہ جب اس مقدمے میں فیصلے پر نظرِ ثانی کی درخواست بھی واپس لے لی گئی ہے تو پھر کسی حیثیت میں یہ خط لکھا گیا ہے۔

خیال رہے سپریم کورٹ نے کرائے کے بجلی گھروں کی تنصیب کے بارے میں از خود نوٹس لیا تھا۔ تاہم فیصل صالح حیات نے کرائے کے بجلی گھروں میں ہونے والی مبینہ بدعنوانی کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست بھی دائر کی تھی۔

فیصل صالح حیات نے اپنی درخواست میں نجی پاور کمپنیوں سے ہونے والے ان معاہدوں میں پانی و بجلی کے سابق وفاقی وزیر راجہ پرویز اشرف پر مبینہ طور پر کروڑوں روپے رشوت لینے کا الزام عائد کیا تھا۔

سپریم کورٹ نے رواں برس پندرہ جنوری کو کرائے کے بجلی گھروں کے بارے میں ہونے والے معاہدوں کے مقدمے میں وزیراعظم پاکستان راجہ پرویز اشرف سمیت 16 افراد کی گرفتاری کا حکم دے دیا تھا۔

اس سے پہلے سپریم کورٹ نے 30 مارچ سنہ 2012 کو کرائے کے بجلی گھروں کے مقدمے کے فیصلے میں تمام بجلی گھروں کے معاہدوں کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ان معاہدوں فوری طور پر منسوخ کرنے کا حکم دیا تھا اور کہا تھا کہ معاہدے کرنے والے افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔

فیصلے میں عدالت نے یہ بھی کہا تھا کہ سابق وزیر برائے پانی و بجلی راجہ پرویز اشرف اور سیکریڑی خزانہ سمیت تمام حکومتی اہلکاروں نے بادی النظر میں آئین کے تحت شفافیت کے اصول کی خلاف ورزی کی ہے لہٰذا ان افراد کی طرف سے بدعنوانی اور رشوت ستانی میں ملوث ہوکر مالی فائدہ حاصل کرنے کو خارج از امکان نہیں قرار دیا جا سکتا ہے۔

اسی بارے میں