ایف سی کمانڈنٹ کے قافلے پر خودکش حملہ، 12 ہلاک

پشاور خودکش حملہ
Image caption دھماکے سے کمانڈر کی گاڑی سمیت قافلے میں شامل دیگرگاڑیوں کو نقصان پہنچا

پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں ایک خودکش حملے میں بارہ افراد ہلاک اور پچیس زخمی ہوگئے ہیں۔

مقامی پولیس کے مطابق یہ حملہ جمعہ کی صبح پشاور صدر کے گنجان آباد علاقے فخرِ عالم روڈ پر ہوا ہے۔

پشاور پولیس کے ایس پی خالد محمود ہمدانی نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ خودکش حملہ آور پیدل تھا اور اس نے فرنٹیئر کانسٹیبلری کے کمانڈنٹ عبدالمجید مروت کے قافلے کو نشانہ بنایا۔

پولیس افسر کے مطابق عبدالمجید مروت اس حملے میں محفوظ رہے ہیں کیونکہ جس وقت دھماکا ہوا تو ان کی گاڑی آگے نکل چکی تھی۔

انہوں نے بتایا کہ خودکش دھماکے سے کمانڈر کی گاڑی سمیت قافلے میں شامل دیگرگاڑیوں کو نقصان پہنچا۔

پولیس اہلکار کے مطابق دھماکے میں اب تک ایک ایف سی اہلکار سمیت بارہ افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ فرنٹیئر کانسٹیبلری کے چار اہلکاروں سمیت پچیس افراد زخمی ہیں۔

ہلاک ہونے والوں میں ایک خاتون اور ایک بچی بھی شامل ہیں۔

دھماکے کے فوراً بعد علاقے میں امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئیں اور زخمیوں اور لاشوں کو لیڈی ریڈنگ ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

جس جگہ یہ خودکش حملہ ہوا وہاں قریب میں فوج کی ایک شناختی چوکی قائم ہے اور وہاں سے چھاؤنی کو راستہ بھی جاتا ہے۔

دھماکے کے فوراً بعد فوج نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے اور کسی کو جائے وقوع پر جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔

کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ تنظیم کے ترجمان احسان اللہ احسان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ سکیورٹی فورسز پر حملے جاری رکھیں گے۔

اسی بارے میں