ایک عدد بلاول چاہیے؟

Image caption انتخابات سے قبل بلاول بھٹو زرداری کے پارٹی معاملات پر اپنے والد اور پھوپھی سے اختلافات کی خبریں پاکستانی میڈیا میں گرم ہیں

پینتالیس سالہ پیپلز پارٹی نے پہلا الیکشن انیس سو ستر میں ایک عوامی ، خوشحال اور استحصال سے پاک پاکستان کے وعدے پر جیتا تھا۔ اس جیت پر پارٹی قیادت بھی خوش تھی اور اس کا ووٹر بھی ایک خواب ناک فضا میں ناچ رہا تھا۔

تب سے اب تک جتنے بھی انتخابات ہوئے ان میں پیپلز پارٹی نے سینہ کوبی ، نوحہ گری اور مظلومیت کو ہی اپنا پرچم بنایا۔

پچاسی کے غیر جماعتی انتخاب میں حصہ نہ لینے کا جذباتی فیصلہ اس بنیاد پر ہوا کہ بھٹو کے قاتل کے بنائے گئے انتخابی نظام کو کیسے تسلیم کیا جا سکتا ہے۔

اٹھاسی کے انتخاب پر چونکہ قاتل کا سایہ نہیں تھا لہذا ووٹروں نے مقتول کے خون کا قرض اپنی گردن پر محسوس کرتے ہوئے بےنظیر بھٹو کی دار و رسن زدہ جماعت کو ضیا کے سیاسی بچوں کے مقابلے میں اتنی اکثریت ضرور دلوادی کہ وہ ایک مخلوط حکومت تشکیل دے سکے۔

اور جب بے نظیر بھٹو کی دو حکومتیں بدانتظامی ، کرپشن اور امن و امان کی ابتری کے جھوٹے سچے الزامات لگا کر برطرف کردی گئیں اس کے بعد بھی پیپلز پارٹی کسی ٹھوس پرکشش پروگرام کی تشکیل اور تنظیم سازی میں دلچسپی لینے کے بجائے ’ہمیں تو مدت ہی پوری نہیں کرنے دی گئی‘ کے نوحے پر اٹک گئی۔

دو ہزار دو میں پیپلز پارٹی کو فوجی اسٹیبلشمنٹ نے مقدمات کی پلیٹ میں اقتدار کی گاجر اس شرط پر دکھائی اگر بھٹو خاندان حکومت سے دور رہے۔ پیپلز پارٹی نے اگرچہ اس وقت تو میاں مشرف کی گیم کا حصہ بننے سے انکار کردیا لیکن بعد ازاں بطور موثر پارلیمانی حزبِ اختلاف قانون سازی میں توانائی لگانے کے بجائے ایک روتی گاتی فرینڈلی اپوزیشن کا کردار نبھانے میں سہولت جانی۔

دو ہزار چھ میں نواز شریف کے ساتھ چارٹر آف ڈیمو کریسی پر دستخط کے باوجود دو ہزار آٹھ کے انتخابات سے پہلے مشرف بے نظیر ڈیل ہوچکی تھی لیکن یہ واضح نہیں تھا کہ اس مرتبہ اگر بےنظیر بھٹو وزیرِاعظم بن کر پرویز مشرف سے حلف لیتی ہیں تو این آر او کے سائے میں ان کی سیاسی ساکھ کا کیا ہوگا۔

چنانچہ بی بی ڈیل ہونے کے باوجود سیاسی مخمصے کا شکار ہوگئیں اور پھر سیاسی مخمصے کا شکار بی بی تاک میں بیٹھے شکاری کا شکار ہوگئیں۔

اتنے بڑے سانحے کے باوجود فروری دو ہزار آٹھ کے انتخابات میں پیپلز پارٹی راجیو گاندھی والی کانگریس نہ بن سکی جس نے انیس سو چوراسی میں اندراگاندھی کے قتل کے بعد ہونے والے عام انتخابات میں لوک سبھا کی دو تہائی سے زائد نشستیں لوٹ لی تھیں۔

وجہ کیا تھی ؟ وجہ یہ تھی کہ راجیو اندرا گاندھی کا بیٹا تھا داماد نہیں تھا ؟ چنانچہ خود کو محض اقتدار میں برقرار رکھنے کے لیے دو ہزار آٹھ کے بعد پیپلز پارٹی کو بیک وقت پانچ گیندیں پانچ برس مسلسل ہوا میں اچھالنے کا کامیاب کرتب دکھانا پڑا۔

ہمایوں کی وفات کے وقت ولی عہد کی عمر بارہ برس تھی لہذا شہزادے کو رموزِ حکمرانی سکھانے کی ذمہ داری بیرم خان پر آن پڑی ۔جب یہ بچہ بڑا ہو کر اکبرِ اعظم ہوگیا تو بیرم خان نے اقتدار کی کنجی بادشاہ کے حوالے کی ، سلام کیا اور حج پر روانہ ہوگیا۔فرض کریں بیرم خان اکڑ جاتا اور شہزادہ اکبر سے کہتا کہ آؤ تم ہندوستان کے تخت کو میرے ساتھ شیئر کرو اور شریک بادشاہ بن جاؤ تو کیا اکبر یہ مطالبہ مان لیتا۔

کیا کسی نے سنا ہے کہ اورنگ زیب نے شاہجہاں سے کبھی یہ کہا ہو کہ ابا حضور آپ ہندوستان کے بادشاہ بنے رہیں اور میں آپ کا اسٹنٹ بادشاہ لگا رہوں گا۔۔۔۔

مسئلہ یہ ہے کہ پیپلز پارٹی کے پاس حاضر سٹاک میں نہ تو کوئی بڑا شہید ہے جسے وہ آج کی انتخابی مارکیٹ میں بھنا سکے ۔نہ ہی وہ پانچ برس کی آئینی مدت پوری ہونے کے بعد قبل از وقت معزولی کا نوحہ پڑھنے کے قابل ہے۔ لہذا ایک ہی راستہ ہے اور وہ ہے بھٹو اور نصرت کے نواسے اور بے نظیر کے پچیس سالہ بیٹے بلاول کی باضابطہ تخت نشینی۔

موجودہ سیاسی فضا میں کوئی بھی تصویر اس کیپشن کے ساتھ نہیں چل سکتی کہ آصف زرداری ، آنٹی فریال تالپور اور انکل اویس ٹپی کا دیگر کے ساتھ گروپ فوٹو۔تصویر میں دائیں سے بائیں تیسرے بلاول میاں بھی کھڑے ہیں۔۔۔

کوئی بلاول کے والد ، چچا اور پھوپھی محترمہ کو یاد دلائے کہ نصرت اور بے نظیر ماں بیٹی ہونے کے باوجود پارٹی چئیر پرسن کی وکٹ پر لمبی پارٹنرشپ نہیں چلا سکیں اور ماں کو بالاخر بیٹی کے حق میں دستبردار ہونہ پڑا۔

کوئی تو انہیں مغلیہ خاندان کی ایک مستند تاریخ خرید کر ہدیہ کردے۔اس سے پہلے کہ تینوں کو سلطنتِ مغلیہ کے زوال کے اسباب پڑھنا پڑ جائیں۔

اسی بارے میں