قبائلی علاقے سے پہلی بار خاتون انتخابی میدان میں

پاکستان کے شورش زدہ قبائلی علاقے جو ہمیشہ امن و امان کی ابتر صورتحال اور حقوق انسانی کی خلاف ورزیوں پر خبروں میں رہتے ہیں وہاں سے اب پہلی بار ایک خاتون نے انتخاب میں حصہ لینے کا اعلان کر کے نئی تاریخ رقم کی ہے۔

باجوڑ ایجنسی کی رہائشی بادام زری نے گیارہ مئی کو ہونے والے عام انتخابات کے لیے قومی اسمبلی کی نشست این اے چوالیس سے آزاد امیدوار کے طور پر کاغذاتِ نامزدگی جمع کرائے ہیں۔

پاکستان کے قبائلی علاقوں میں سخت گیر قدامت پسند روایات کے سبب انتخابات میں خواتین کو حق رائے دہی استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی تھی۔

باجوڑ سے تعلق رکھنے والے مقامی صحافی بہاؤالدین نے بی بی سی کو بتایا کہ بادام زری کا تعلق ایجنسی کے دور افتادہ علاقے آرنگ سے ہے اور ان کے شوہر مقامی سکول کے پرنسپل ہیں۔

کاغذاتِ نامزدگی جمع کرانے کے بعد نجی ٹیلی ویژن چینل جیو نیوز سے بات کرتے ہوئے بادام زری نے کہا کہ ’وہ چاہتی ہیں کہ خواتین ہر میدان میں ترقی کریں اور مردوں کے کندھے سے کندھا ملا کر چلیں۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ وہ علاقے میں امن و امان کی صورتحال کے باوجود بھرپور تحریک چلائیں گی اور مقامی لوگوں کو درپیش مسائل کے بارے میں آگاہی حاصل کرتی رہیں گی۔

انہوں نے باجوڑ ایجنسی کے رہائشیوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ عورت کا بہت زیادہ لحاظ کرتے ہیں اور ان کے خیال میں مقامی لوگ ان کی حمایت کریں گے۔

باجوڑ ایجنسی کے حلقہ این اے چوالیس میں بادام زری کا مقابلہ سابق ایم این اے اخونزادہ چٹان سے ہوگا۔

خیال رہے کہ قبائلی علاقہ جات میں پاکستان پیپلز پارٹی کی دورِ حکومت میں پولیٹیکل پارٹی ایکٹ دو ہزار گیارہ کے نفاذ کے بعد پہلی بار اُمیدوار کسی سیاسی پارٹی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑیں گے۔

اس سیاسی آزادی کے باوجود سخت گیر معاشرے اور شدت پسندی کی وجہ سے سیکولر سیاسی جماعتیں یہاں کھلے عام سیاسی سرگرمیاں نہیں کر پا رہی ہیں تاہم مذہبی جماعتیں بالخصوص جمعیت علمائے اسلام (ف) کی سیاسی سرگرمیاں جاری ہیں۔

اسی بارے میں