اسلام آباد: مشرف کی سکیورٹی کے سخت انتظامات

پرویز مشرف

سابق فوجی صدر پرویز مشرف کی اسلام آباد آمد کے موقع پر اُن کی سکیورٹی کی ذمہ داری پولیس کمانڈوز اور رینجرز کو دے دی گئی ہے۔

سکیورٹی اقدامات کی تمام تر نگرانی رینجرز کے افسران کریں گے۔ سابق صدر پیر کی رات کو کراچی سے اسلام آباد کے علاقے چک شہزاد میں واقع اپنی رہائش گاہ پہنچ گئے ہیں۔

اس سے پہلے راولپنڈی اور اسلام آباد پولیس کی سکیورٹی برانچ نے اگرچہ سابق فوجی صدر کی سکیورٹی کا شیڈول جاری کیا لیکن اُس میں صرف اسلام آباد بینظیر بھٹو ائرپورٹ کے باہر لگنے والے روٹ کی تفصیلات فراہم کی گئی ہیں جبکہ ائیرپورٹ کے اندر کی سکیورٹی کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا۔

سکیورٹی ڈویژن کے ایک اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا تھا کہ اطلاعات کے مطابق پرویز مشرف ایک چارٹرڈ طیارے کے ذریعے اسلام آباد پہنچے گے اور اُن کے لیے آنے والی بُلٹ پروف گاڑی جہاز تک لے جائی جائے گی جہاں سے اُنہیں اپنی منزل کی طرف روانہ کر دیا جائے گا جبکہ اُن کے استقبال کے لیے آنے والے افراد کو ائیرپورٹ کی حدود سے دور رکھا جائے گا۔

بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق پرویز مشرف جو کہ سابق آرمی چیف بھی ہیں، کی حفاظت کے لیے کابینہ ڈویژن نے جو بُلٹ پروف گاڑی دی ہے وہ کسی بھی ملک کے سربراہ مملکت کو پاکستان آنے پر فراہم کی جاتی ہے۔

سکیورٹی اہلکار کے مطابق سابق فوجی صدر کے لیے تین مختلف روٹس لگائے گئے ہیں جہاں پر راولپنڈی اور اسلام آباد پولیس کے اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے جبکہ رن وے کے قریبی علاقے میں سکیورٹی کی ذمہ داری رینجرز کو دی گئی ہے۔

اس کے علاوہ چک شہزاد میں سابق فوجی صدر کے فارم ہاؤس پر پولیس کی بڑی نفری تعینات کر دی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق سکیورٹی اداروں کو اس روٹ پر تعینات ہونے والے پولیس اہلکاروں اور افسران کی فہرست فراہم کر دی گئی ہے۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ائیرپورٹ کے قریبی علاقوں گلزار قائد، نئی آبادی اور ڈھوک کالا خان میں سرچ آپریشن کے دوران بیس سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔

دوسری جانب انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے میں پرویز مشرف کے خلاف کارروائی الگ کرنے سے متعلق استغاثہ کی درخواست مسترد کر دی ہے۔

عدالت کا کہنا ہے کہ سابق فوجی صدر کو اس مقدمے سے الگ کر کے مقدمے کی کارروائی کو آگے نہیں بڑھایا جا سکتا۔

اس مقدمے میں سرکاری وکیل چوہدری ذوالفقار نے بی بی سی کو بتایا کہ چونکہ سابق فوجی صدر عدالت میں پیش نہیں ہو رہے اس لیے اس مقدمے کی عدالتی کارروائی میں تاِخیر ہو رہی ہے۔

یاد رہے کہ پرویز مشرف نے عام انتخابات میں حصہ لینے کے لیے اسلام آباد کے حلقے 48 سے اپنے کاغذات نامزدگی جمع کروائے ہیں۔

انسداد دہشت گردی کی عدالت نے پرویز مشرف کو بھٹو کے مقدمے میں اشتہاری قرار دیا ہوا ہے جبکہ اُن کی اسلام آباد آمد کے موقع پر انسانی حقوق کی تنظیموں نے احتجاج کی منصوبہ بندی کی ہے۔

پاکستان میں لاپتہ افراد کے لیے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم ڈیفنس آف ہومین رائٹس کی چیئرپرسن آمنہ مسعود جنجوعہ کے مطابق سابق فوجی صدر کے آئین کو توڑنے اور لوگوں کو جبری طور پر گمشدہ کرنے کے خلاف پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے مظاہرہ کیا جائے گا۔

اسی بارے میں