متعدد سابق ارکان اسمبلی پارٹی ٹکٹ سے محروم

Image caption حج سکینڈل میں گرفتار ہونے والے حامد سعید کاظمی کو بھی ٹکٹ نہیں دیا گیا

پاکستان میں آنے والے انتخابات میں جہاں کئی نئے چہرے سامنے آ رہے ہیں وہاں کئی سابق ارکانِ اسمبلی پارلیمانی اکھاڑے سے باہر ہوگئے ہیں اور انہیں ان کی جماعتوں نے پارٹی ٹکٹ نہیں دیے ہیں۔

ان میں سے زیادہ تر سیاسی رہنماؤں کا تعلق سابق حکمراں جماعت پاکستان پیپلز پارٹی سے نظر آتا ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے لیے جیلیں کاٹنے اور جلاوطنی گزارنے والے پیر مظہرالحق گذشتہ صوبائی انتخابات میں دادو کی نشست سے کامیاب ہوئے اور سینیئر صوبائی وزیر اور وزیر تعلیم رہے۔ تاہم گذشتہ پانچ برس کے دوران اپنی جماعت اور اتحادیوں کی تنقید کے نشانے پر رہے۔

تاہم ان کی جماعت نے اس بار ان کی جگہ ان کے بیٹے بیرسٹر مجیب الحق کو انتخابات میں حصہ لینے کے لیے ٹکٹ دیا ہے۔

پیپلز پارٹی ہی کے رکن قومی اسمبلی اور پیر آف بھرچونڈی میاں مٹھو نے رنکل کماری کے مذہب کی تبدیلی کی کھل کر حمایت کی تھی۔ وہ گذشتہ انتخابات میں گھوٹکی سے پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر رکنِ قومی اسمبلی منتخب ہوئے تھے لیکن وہ اس بار اپنی جماعت کی نظرِ کرم سے محروم رہے۔

رنکل کماری کے اہلِ خانہ نے الزام لگایا تھا کہ ان کی بیٹی کو زبردستی اغوا کر کے اسے مذہب تبدیل کرنے پر مجبور کیا گیا اور زبردستی اس کی شادی ایک مسلمان لڑکے سے کرائی گئی۔ ان کا یہ بھی الزام تھا کہ میاں مٹھو لڑکے کی مدد کر رہے ہیں۔

پی پی پی کے سینیئر رہنما پیر آفتاب شاہ جیلانی نے میر پور خاص کی قومی اسمبلی کی نشست سے سنہ انیس سو ترانوے، ستانوے، دو ہزار دو اور سنہ دو ہزار آٹھ کے انتخابات میں کامیابی حاصل کی۔گذشتہ دورِ حکومت میں وہ مختلف وزارتوں پر فائز رہے جن میں کھیل، ثقافت، اور سائنس اینڈ ٹیکنالوجی شامل ہیں۔ انہیں بھی اس مرتبہ پیپلز پارٹی نے ٹکٹ نہیں دیا۔

ان کے والد پیر غلام رسول شاہ بھی پیپلز پارٹی سے وابستہ رہے، ان کے بھائی پیر امجد شاہ حیدرآباد کے دیہی حلقے سے صوبائی اسمبلی کی نشست پر کامیاب ہوتے رہے ہیں اس بار انہیں بھی ٹکٹ نہیں دیا گیا بلکہ سابق صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن کو نامزد کیا گیا ہے۔

گذشتہ انتخابات میں پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کی نشست جیتنے والے حامد سعید کاظمی کو وزارت مذہبی امور و حج کا قلمدان ملا تھا، وہ حج سکینڈل میں گرفتار کیے گئے تھے۔ ان پر قاتلانہ حملہ بھی کیا گیا تھا جس میں وہ بال بال بچ گئے تھے۔ تاہم اس بار پاکستان پیپلز پارٹی نے انہیں ٹکٹ دینے سے گریز کیا ہے۔

سیاست کے میدان کا بڑا نام اور پیپلز پارٹی کے سابق رہنما سردار آصف علی نے اپنی جماعت کو کوئی سوا برس پہلے خیر باد کہہ دیا تھا۔ انہوں نے گزشتہ انتخابات میں پنجاب کے شہر قصور کی قومی اسمبلی کی نشست سے کامیابی حاصل کی اور سنہ انیس سو ترانوے سے چھیانوے تک پاکستان کے اٹھارہویں وزیر خارجہ کی حیثیت سے ذمہ داری نبھائی۔

انہوں نے پچیس دسمبر سنہ دو ہزار گیارہ کو اپنی جماعت کو خیرباد کہتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی لیکن جب انہیں تحریک انصاف نے قصور سے قومی اسمبلی کی نشست کے لیے نامزد نہیں کیا اور ان پر خورشید محمود قصوری کو فوقیت دی تو انہوں نے تحریک انصاف کی رکنیت سے استعفٰی دے کر آزاد امیدوار کی حیثیت سے لڑنے کا فیصلہ کیا۔

سندھ کے شہری علاقوں کی مقبول جماعت متحدہ قومی موومنٹ کے چار اراکین حیدر عباس رضوی، رضا ہارون، عبدالمعید صدیقی، اور فرحت محمد خانہ دوہری شہریت رکھنے کے باعث آئندہ انتخابات میں حصہ لینے سے قاصر ہیں۔

حیدر عباس رضوی گذشتہ انتخابات میں این اے 244 کراچی سے منتخب ہوئے تھے اور وہ قومی اسمبلی کی مختلف کمیٹیوں کے رکن بھی رہے۔

ایم کیو ایم کے رکن رضا ہارون گذشتہ صوبائی انتخابات میں کراچی سے منتخب ہوئے اور انہوں نے انفارمیشن اینڈ ٹیکنالوجی کی صوبائی وزارت کا قلمدان سنبھالا تھا۔

گذشتہ انتخابات میں عبدالمعید صدیقی بھی ایم کیو ایم کے ٹکٹ پر جیتے تھے جبکہ فرحت خان گزشتہ انتخابات میں این اے 254 نارتھ ناظم آباد سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔

اسی بارے میں