سندھ: اقلیتی نشتسوں پر اونچی ذاتیں حاوی

Image caption سندھ میں آباد ہندوؤں کی اکثریت کا تعلق نچلی ذاتوں سے ہے

سندھی زبان کے ایک کثیر الاشاعت اخبار میں گذشتہ کئی روز سے ایک اپیل شائع ہوتی رہی ہے جس میں صدر آصف علی زرداری، بلاول بھٹو اور پیپلز پارٹی کے دوسرے رہنماؤں سے گزارش کی گئی ہے کہ کامریڈ نیم داس کولھی کو اقلیتوں کی مخصوص نشست کے لیے نامزد کیا جائے لیکن یہ اپیل بے سود ثابت ہوئی۔

پاکستان پیپلز پارٹی، مسلم لیگ فنکشنل اور متحدہ قومی موومنٹ نے اقلیتوں نشستوں کے لیے اپنی نامزدگیاں جمع کرا دی ہیں، جن میں امیدواروں کی اکثریت کا تعلق ہندوؤں کی اونچی ذاتوں سے ہے، جب کہ نچلی ذاتوں والے یا شیڈولڈ کاسٹ ہندو اگرچہ آْبادی میں سب سے زیادہ ہیں، لیکن ان نامزدگیوں میں اقلیت میں ہیں۔

گذشتہ انتخابات میں بھی کچھ ایسا ہی ہوا تھا، جس کے خلاف مینگھواڑ کمیونٹی نے سندھ بھر میں احتجاج کیا تھا۔

اسی احتجاج کے نتیجے میں کھٹو مل جیون کو پہلے صوبائی مشیر تعینات کیا گیا اور پھر سینیٹر منتخب کیا گیا۔

پیپلز پارٹی نے قومی اسمبلی کے لیے پھلاج مل، ڈاکٹر کھٹو مل، کھیم چند اکرانی،مہیش ملانی اور ڈاکٹر مہر چند کو نامزد کیا ہے۔ مسلم لیگ ن نے ڈاکٹر درشن لال، ڈاکٹر رمیش وانکوانی اور بھاون داس کو نامزد کیا ہے، جب کہ متحدہ قومی موومنٹ نے سنجے پیروانی، ہرگن داس آہوجا اور سابق سٹی کاؤنسلر منگلا شرما کو نامزد کیا ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی نے صوبائی اسمبلی کے لیے ڈاکٹر لال چند اکرانی، گیان چند عرف گیانو مل، مکیش کمار چاولا اور پیسو مل اکرانی کو نامزد کیا ہے۔

پیپلز پارٹی کے امیدوار کھیم چند اکرانی، لال چند اکرانی اور پیسو مل قریبی رشتے دار اور کاروباری طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس طرح یہ امیدوار اعلیٰ ذاتوں سے تعلق رکھنے والے مالدار لوگ ہیں۔

صوبہ سندھ میں ہندو ووٹروں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے جب کہ اس سے پہلے عیسائی ووٹروں کی تعداد زیادہ تھی۔

الیکشن کمیشن کے مطابق عمرکوٹ میں49 فیصد، تھرپارکر میں 46 فیصد، میرپورخاص میں 33 فیصد، ٹنڈو الہ یار میں 26 فیصد، سانگھڑ اور بدین میں19 فیصد، ٹنڈو محمد خان میں 17 فیصد اور مٹیاری میں 13 فیصد اقلیتی ووٹر ہیں۔ ان ووٹروں کی اکثریت کا تعلق نچلی ذات کے ہندوؤں سے ہے۔

سندھ میں مخصوص نشستوں کے علاوہ عام نشستوں پر بھی ہندو کمیونٹی کے امیدوار سامنے آئے ہیں۔ زیادہ دلچسپ صورتحال تھرپارکر اور عمرکوٹ میں نظر آتی ہے۔

صحرائے تھر میں پاکستان پیپلز پارٹی نے قومی اسمبلی پر مینگھواڑ کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے کھٹو مل جیون اور ایک صوبائی نشست پر سابق رکنِ قومی اسمبلی مہیش ملانی کو امیدوار نامزد کیا ہے جن کا تعلق اپر کاسٹ سے ہے۔

پیپلز پارٹی نے ڈاکٹر کھٹو مل کو بعد میں جنرل نشست سے ہٹا کر اقلیتوں کی مخصوص نشستوں کے لیے نامزد کر دیا ہے۔ تھر سے گذشتہ تین انتخابات میں ارباب گروپ نے کامیابی حاصل کی ہے، جس کے سربراہ سابق وزیراعلیٰ ارباب غلام رحیم ہیں، جو تبلیغی جماعت کے سرگرم کارکن ہیں اور مارچ میں خود ساختہ جلاوطنی ختم کر کے واپس لوٹے ہیں۔

تھرپارکر میں 46 فیصد اقلیتی ووٹر ہونے کے باوجود ارباب گروپ نے اقلیتوں کو مکمل طور پر نظر انداز کیا ہے۔ گروپ کے امیدواروں میں سے چار کا تعلق ارباب خاندان سے ہے جب کہ دو نشستیں اتحادی برادریوں کو دی گئی ہیں۔

تھر میں متحدہ قومی موومنٹ نے بھی صوبائی اسمبلی کی عام نشست پر معصوم تھری کو امیدوار نامزد کیا ہے، جو میگھواڑ کمیونٹی سے تعلق رکھتے ہیں اور اپنی برداری میں خاصے مقبول بھی ہیں۔

سندھ سے اس وقت قومی اسمبلی کی نو اور صوبائی اسمبلی کی11 نشستیں اقلیتوں کے لیے مختص ہیں۔ اسمبلیوں کی عام نشستوں میں اضافے کے بعد اقلیتی نشستیں بھی بڑھانے کی تجویز تھی، لیکن اس پر عمل نہیں ہو سکا۔

عمرکوٹ ضلعے میں49 فیصد اقلیتی ووٹر ہیں۔ یہاں تحریکِ انصاف نے نوجوان لال چند مالھی اور متحدہ قومی موومنٹ نے پونجو بھیل وکیل کو امیدوار نامزد کیا ہے۔ مسلم لیگ ق کے سابق رکنِ قومی اسمبلی کشن چند پاروانی صوبائی اور قومی اسمبلی کے لیے آزاد امیدوار کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ یہ ملک کا واحد ضلع ہے جہاں مسلم اور ہندو ووٹر نصف ہیں، لیکن سیاسی جماعتوں کی میرٹ لسٹ میں اقلیتی جگہ حاصل نہیں کر سکے ہیں۔

لاڑکانہ کی صوبائی نشست سے ایڈووکیٹ کلپنا دیوی نے مسلم لیگ ق کی امیدوار کی حیثیت سے نامزدگی فارم جمع کرائے ہیں۔ وہ سندھ کے مشہور مزدور رہنما اور دانشور کامریڈ سوبھو گیان چندانی کی بہو ہیں۔

سندھ میں شیڈولڈ کاسٹ ہندو زیادہ تر کسان ہیں، بڑے زمینداروں کی مبینہ نجی جیلوں سے بھی ان کی رہائی عمل میں آتی رہی ہے، ایک تاثر یہ بھی ہے کہ ان کا ووٹ زمیندار کے ہاتھوں میں ہوتا ہے۔

حیدرآباد ضلعے کے دیہی صوبائی حلقے سے ویرو کولھن نامی خاتون کسان آزاد امیدوار کے طور پر سامنے آئی ہیں۔ وہ بھی ان کئی کسانوں میں شامل ہیں جو نجی جیل سے رہا ہوئے تھے۔

ویرو کولھن کی مہم مقامی غیر سرکاری تنظیمیں چلا رہی ہیں، جن کا کہنا ہے کہ وہ سیاسی جماعتوں کو اقلیتوں کا اصل چہرہ دکھانا چاہتے ہیں۔

اسی بارے میں