ووٹ جو آئندہ انتخابات کے نتائج بدل سکتے ہیں

امیر جماعتِ اسلامی منور حسن
Image caption جماعت اسلامی کے امیدواروں نے 1993 میں تقریباً دس نشستوں پر فرق ڈالا اور جہاں پیپلزپارٹی اور نواز لیگ میں فرق 20 کے لگ بھگ نشستوں کا تھا وہاں یہ فرق فیصلہ کن ثابت ہوا

جماعت اسلامی پاکستان کا شمار ملک کی ان سیاسی جماعتوں میں ہوتا ہے جو انتخابی سیاست میں زیادہ کامیاب نہیں رہیں، لیکن ملک کے مختلف حِصّوں میں ان کے اتنے ووٹ ضرور ہیں کہ وہ کسی دوسری بڑی جماعت کے حکومت بنانے کے امکانات پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ مبصرین 11 مئی 2013 کے انتخابی نتائج کے بارے میں پُراعتماد پیش گوئی سے پہلے دیکھنا چاہتے ہیں کہ جماعت اسلامی جیسی جماعتیں کس کے ساتھ اتحاد کرتی ہیں یا تنہا میدان میں اترتی ہیں۔

جماعت اسلامی کے انتخابی نتائج پر اثرانداز ہونے کے امکان کا جائزہ لینے کے لیے ان کی 1993 کی کارکردگی کا ہی جائزہ لیا جا سکتا ہے، جب انہوں نے ملک کی حالیہ تاریخ میں پاکستان اسلامی فرنٹ کے نام سے تنہا انتخابات میں قسمت آزمائی کی تھی۔

یاد رہے کہ 1993 کے انتخابات میاں نواز شریف کی 1990 کو قائم ہونے والی حکومت کی برطرفی کے بعد ہوئے تھے، اور 93 کے انتخابات کے نتیجے میں بے نظیر بھٹو دوسری بار ملک کی وزیر اعظم بنی تھیں۔

1988 میں جنرل ضیاءالحق کے آمرانہ اقتدار کے خاتمے کے بعد سے چھ بار عام انتخابات ہو چکے ہیں۔ان میں سے 1988 اور 1990 میں جماعت اسلامی اسلامی جمہوری اتحاد کا حِصہ تھی۔

2002 میں اس وقت کے فوجی سربراہ جنرل پرویز مشرف کے دور میں ہونے والے انتخابات میں جماعت اسلامی نے دیگر مذہبی جماعتوں کے ساتھ مِل کر متحدہ مجلس عمل کے پلیٹ فارم سے حِصّہ لیا تھا۔2008 کے انتخابات میں انہوں نے حِصّہ ہی نہیں لیا۔ اس طرح جماعت اسلامی نے 1988 کے بعد صرف ایک بار(پاکستان اسلامی فرنٹ کے نام سے) تنہا انتخاب لڑا ہے۔

پاکستان اسلامی فرنٹ نے 1993 کے انتخابات میں قومی اسمبلی کے 93 حلقوں میں امیدوار کھڑے کیے تھے، جن میں 14 خیبر پختونخواہ، ایک اسلام آباد، 62 پنجاب، 14 سندھ اور تین بلوچستان میں تھے۔ اسے تین نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی تھی جن میں سے دو خیبر پختونخواہ اور ایک سندھ (کراچی) میں تھی۔

لیکن سب سے زیادہ قابل ذکر بات یہ ہے کہ اسے 46حلقوں میں پانچ ہزار سے زیادہ ووٹ ملے اور ان میں 17 وہ حلقے بھی شامل ہیں جن میں ان کے ووٹوں کی تعداد دس ہزار سے زیادہ تھی۔

ان چند ہزار ووٹوں کی انتخابات میں اہمیت کیا ہو سکتی ہے؟ اس کی ایک مثال ضِلع گجرات کے پانچ نشستوں کے نتائج سے ملتی ہے۔ 1993 میں ان تمام نشستوں پر پیپلز پارٹی نے کامیابی حاصل کی تھی۔اس کامیابی کی ایک وضاحت پاکستان اسلامی فرنٹ کے ووٹ ہو سکتے ہیں جو شاید اس سے پہلے دو انتخابات میں اسلامی جمہوری اتحاد کو ملے تھے۔

1993 میں گجرات کے حلقہ این اے اسّی میں پی پی پی نے نواز لیگ کو 4854 ووٹوں سے ہرایا۔ یہاں اسلامی فرنٹ کے امیدوار نے 7222 ووٹ لیے تھے۔ حلقہ این اے 81 میں پی پی پی کی برتری 3394 تھی اور یہاں سے فرنٹ کو 4141 ووٹ ملے تھے۔ این اے 82 کی نشست پی پی پی نے 1364 ووٹوں کی برتری سے جیتی تھی اور یہاں سے فرنٹ نے 8077 ووٹ لیے تھے۔

این اے 83 میں پی پی پی کی برتری 25 ہزار ووٹوں کی تھی اور یہاں اسلامی فرنٹ کے امیدوار نے 18592 ووٹ حاصل کیے تھے لیکن اس کے قریبی حلقے این اے 84 میں معاملہ اتنا واضح نہیں تھا، جہاں پی پی پی کے امیدوار نے نواز لیگ کے امیدوار کو صرف 591 ووٹوں کے فرق سے ہرایا تھا، اور یہاں پاکستان اسلامی فرنٹ کے امیدوار کے ووٹوں کی تعداد تھی 3420۔

اسی طرح فیصل آباد کے حلقے این اے 61 میں پی پی پی نے 2589 ووٹوں سے کامیابی حاصل کی تھی جبکہ اس حلقے میں اسلامی فرنٹ کے امیدوار نے 3025 ووٹ حاصل کیے تھے۔ جھنگ کے حلقے این اے 67 میں پی پی پی نے 1121 ووٹوں کی برتری سے نواز لیگ کو ہرایا تھا اور یہاں اسلامی فرنٹ کے ووٹ تھے 6665۔

سیالکوٹ کا رخ کریں تو حلقہ این سے 86 سے جونیجو لیگ نے نواز لیگ پر 4946 ووٹوں کی برتری حاصل کی تھی اور یہاں سے اسلامی فرنٹ کے امیدوار نے 6605 ووٹ لیے۔

ایک اور دلچسپ نتیجہ لاہور سے حلقہ این اے 100 کا تھا جہاں پی پی پی نے صرف 72 ووٹوں سے ن لیگ کو ہرایا تھا اور یہاں جماعت اسلامی کے سابق امیر مرحوم قاضی حسین احمد نے 11107 ووٹ حاصل کیے تھے۔

اسی طرح کے نتائج پنجاب میں ہی کم سے کم دو مزید حلقوں میں بھی تھے۔ 1993 کے انتخابات کے دوران ماحول کو سامنے رکھیں تو یہ مشکل معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت اگر جماعت اسلامی انتخابات میں نہ ہوتی تو کیا ان کے حمایتی اپنا ووٹ پیپلز پارٹی کو دیتے۔

اس طرح جماعت اسلامی کے امیدواروں نے 1993 میں تقریباً دس نشستوں پر فرق ڈالا اور جہاں پیپلزپارٹی اور نواز لیگ میں فرق 20 کے لگ بھگ نشستوں کا تھا وہاں یہ فرق فیصلہ کن ثابت ہوا۔

93 کے بعد 20 برسوں میں صورتحال بہت بدل چکی ہے۔ اس وقت کی نواز لیگ بٹ چکی ہے اور ق لیگ اور مسلم لیگ ہم خیال میں اس کے سابق ارکان شامل ہیں۔ ملک کے سابق فوجی سربراہ پرویز مشرف آل پاکستان مسلم لیگ اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان اپنی تحریکِ تحفظِ پاکستان کے ساتھ میدان میں ہیں۔

پاکستان تحریک ِانصاف اس بار بھرپور انداز میں تیسری بڑی جماعت کے طور پر انتخابات میں شرکت کر رہی ہے۔ دیگر کئی عوامل کے ساتھ اتنی جماعتوں کا میدان میں ہونا تجزیہ نگاروں کے ساتھ ساتھ بڑی سیاسی جماعتوں کے لیے بھی مشکلات پیدا کرے گا کہ کس سے اتحاد کریں کس سے نہ کریں، کیونکہ سخت مقابلوں میں کسی جماعت کے چند ہزار یا چند سو ووٹ بھی ان کی جیت کو ہار میں بدل سکتے ہیں۔

اسی بارے میں