پشاور کے مضافات میں شدت پسندوں کی کارروائیاں

Image caption پشاور میں گرڈ سٹیشن پر حملے میں ہلاک ہونے والے ایک شخص کی نعش کو لے جایا جا رہا ہے

پشاور کے مضافات میں متنی اور بڈھ بیر کے علاقوں میں شدت پسندوں کی کارروائیاں خطرناک حد تک بڑھ گئی ہیں۔

یہاں دسمبر کے مہینے سے اب تک پولیس تھانوں پر حملوں کے علاوہ پولیس افسران کو نشانہ بنانے اور ایف سی کے اکیس اہلکاروں کو اغوا کر کے انھیں ہلاک کرنے جیسے واقعات پیش آ چکے ہیں۔

متنی اور بڈھ بیر کے علاقے پشاور کے جنوب میں اہم شاہراہ انڈس ہائی وے پر واقع ہیں۔انڈس ہائی وے پشاور کو صوبے کے جنوبی اضلاع سے ملانے کے علاوہ آگے پنجاب اور کراچی تک جاتی ہے۔

متنی اور بڈھ بیر کے ساتھ خیبر ایجنسی کے علاقے باڑہ اور دوسری جانب درہ آدم خیل کی سرحدیں ملتی ہیں۔ خیبر ایجنسی میں چار برسوں سے فوجی آپریشن جاری ہے۔ گذشتہ سال باڑہ کے کچھ مقامات پر فوجی آپریشن شروع کیا گیا تھا۔

پیر کی رات جس گرڈ سٹیشن پر شدت پسندوں نے حملہ کیا ہے وہ انڈس ہائی وے پر پولیس اور فرنٹئیر کانسٹیبلری کی مشترکہ چوکی سیفل چیک پوسٹ کے قریب واقع ہے۔

یہ اس علاقے میں پہلا حملہ نہیں ہے۔ اس مقام پر چند ماہ میں ایسے بڑ ے حملے دیکھے گئے ہیں جن میں بڑی تعداد میں مسلح شدت پسند مقامی آبادی میں داخل ہو کر کارروائیاں کرتے ہیں، اہلکاروں کو اغوا کر کے ساتھ لے جاتے ہیں اور یا انہیں قتل کر کے فرار ہو جاتے ہیں۔

اکتوبر کے مہینے میں شدت پسندوں نے متنی کے قریب ایک پولیس تھانے پر حملہ کیا تھا جس میں سپرنٹنڈنٹ پولیس خورشید خان کو پولیس اہلکاروں سمیت ہلاک کر دیا گیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق اس حملے میں 50 سے زیادہ حملہ آوروں نے حصہ لیا تھا جنہوں نے نہ صرف پولیس پر غلبہ حاصل کیا بلکہ ان کا اسلحہ بھی ساتھ لے گئے تھے۔

دسمبر کے مہینے میں محکمۂ داخلہ کی جانب سے ایک تحریری انتباہ جاری گیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ متنی اور بڈھ بیر میں تشدد کے واقعات میں اضافے کے بعد اب قومی تنصیبات کی سکیورٹی بڑھانے کی ضرورت ہے۔

اس انتباہ میں پشاور ایئرپورٹ کا ذکر بھی تھا۔ اس خط کے چند دن بعد ہی پشاور ایئرپورٹ پر دس مسلح افراد نے دھاوا بول دیا تھا۔

Image caption 21 مارچ کو پشاور کے قریب جلوزئی کیمپ میں شدت پسندوں کے حملے میں متعدد افراد ہلاک ہو گئے تھے

دسمبر ہی میں بڑی تعداد میں مسلح افراد نے بڈھ بیر کے قریب ایف آر پشاور کے علاقے میں حسن خیل کے علاقے میں لیویز اہلکاروں کے کیمپ پر حملہ کیا تھا۔ مسلح افراد 21 غیر تربیت یافتہ نوجوان اہلکاروں کو اغوا کر کے لے گئے تھے اور اگلے روز ان کی لاشیں ملی تھیں۔

اس علاقے میں سکولوں اور پولیس چوکیوں پر متعدد حملے کیے گئے ہیں۔ انڈس ہائی وے کے اوپر واقع زنگلی اور سیفل چیک پوسٹوں پر کئی مرتبہ حملے کیے جا چکے ہیں۔

اسی شاہراہ کے قریب برساتی نالے ان شدت پسندوں کے اہم راستے بتائے جاتے ہیں، اور وہ انہیں خشک نالوں سے آ کر شہری علاقوں میں حملے کر کے فرار ہو جاتے ہیں۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ خیبر ایجنسی سے لے کر پشاور شہر تک فوج، نیم فوجی دستے، پولیس اور لیویز اہلکار مختلف مقامات پر تعینات ہیں اور اس کے باوجود اتنی بڑی تعداد میں شدت پسندوں کا شہری علاقوں میں داخل ہو کر حملہ کرنا خود سکیورٹی کے اداروں کے لیے بھی اہم ہے۔

اس علاقے میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں بھی جاری ہیں لیکن ان میں اب تک بڑے پیمانے پر کوئی گرفتاریاں عمل میں نہیں آئیں۔

اسی بارے میں