بیلٹ پر ’مندرجہ بالا میں سے کوئی نہیں‘ کا خانہ

پاکستان کے الیکشن کمیشن نے گیارہ مئی کو ہونے والے عام انتخابات کے بیلٹ پیپر پر ’مندرجہ بالا میں سے کوئی نہیں‘ کا خانہ ڈالنے کے حوالے سے وزیراعظم سے آرڈیننس جاری کروانے کی درخواست کا فیصلہ کیا ہے۔

الیکشن کمیشن کے سیکریٹری اشتیاق احمد خان نے اسلام آباد میں بدھ کو میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’سپریم کورٹ نے انتخابات کے لیے بیلٹ پر ’مندرجہ بالا میں سے کوئی نہیں‘ کا اضافی خانہ ڈالنے کی ہدایت کی تھی جسے ہم نے قانون سازی کے لیے تقریباً دو ماہ پہلے وزاتِ قانون کو بھیجا تھا لیکن وہاں یہ نہیں ہو سکا۔‘

انہوں نے کہا کہ اس پر آج دوبارہ بحث ہوئی اور الیکشن کمیشن نے کہا کہ اسے وزیراعظم کے پاس بھیج دیا جائے اور اس حوالے سے وزیراعظم صدر سے آرلایننس جاری کرنے کی درخواست کریں۔

الیکشن کمیشن کے سیکریٹری نے کہا کہ بیلٹ پیپر پر خانہ بنانے کا بہت سے لوگ مطالبہ کر رہے ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ اس حوالے سے جلد فیصلہ آئے کیونکہ بیلٹ پیپر جلد ہی چھاپے جائیں گے۔

انہوں نے اس خانے کے بارے میں مزید بتایا کہ جس انتخابی حلقے میں 51 فیصد ووٹرز اس خانے پر مور لگائیں گے اس حلقے میں انتخابات دوبارہ ہو گے۔

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کی طرف سے جعلی ڈگریوں کے معاملے کو دو دنوں میں نمٹانے کی ہدایت کے بعد الیکشن کمیشن نے متعلقہ قومی و صوبائی اسمبلیوں کے سابق ممبران کو نوٹسز جاری کر دیے ہیں۔

دوسری جانب انگریزی اخبار ڈان کے مطابق چوبیس ممبران پانچ اپریل کو الیکشن کمیش کے سامنے پیش ہونگے اور چیف الیکشن کمشنر فخرالدین جی ابراہیم ان کو خود سنیں گے۔

اشتیاق احمد خان نے میڈیا کو یہ بھی بتایا کہ پاکستان پیپلز پارٹی خیبر پختون خوا کے صدر انور سیف اللہ خان نے الیکشن کمیشن کو ایک خط میں خیبر پختنو خوا کے نگراں وزیر کے بارے میں جانب داری برتنے کی شکایت کی ہے جسے الیکشن کمیشن صوبے کے وزیر اعلیٰ کے پاس بھیجے گے۔

انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے میڈیا کے لیے ضابطہ اخلاق کی بھی منظوری دی ہے جو میڈیا کے نمائندوں کی طرف سے دی گئی تجاویز اور الیکشن کمیشن کے میڈیا کے حوالے سے ضابطہ اخلاق کو ملا کر بنایا گیا ہے۔

سیکریٹری الیکشن کمیشن نے نے بتایا کہ پولنگ سٹیشنز میں ریٹرننگ آفیسرز کی ویڈیو مانیٹرنگ کرنے کے لیے بھی آئی ٹی وزارت کی مدد سے نظام مرتب کیا جارہا ہے۔

اسی بارے میں