پیپلز پارٹی کے جلسے اور سکیورٹی صورتِ حال

Image caption انور سیف اللہ نے کہا کہ اگر وہ عوام تک نہیں پہنچے تو یہ سیاست ہی نہ ہوئی

پاکستان پیپلز پارٹی نے خیبر پختونخوا میں اپنے انتخابی مہم کے حوالے سے صوبے میں پانچ بڑے جلسۂ عام منعقد کرنے کا اعلان تو کیا ہے لیکن امن و امان کی صورتحال کو مدِ نظر رکھتے ہوئے مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ جلسے منعقد کرنا پارٹی کے رہنماؤں کے لیے جوئے شیر لانے کے مترادف ہو گا۔

انتخابات سے پہلے بڑی تعداد میں تشدد کے واقعات کا پیش آنا تشویش کا باعث ہے ایسے میں شدت پسندوں کی جانب سے ایک یا دو سیاسی جماعتوں کے جلسوں سے لوگوں کو دور رہنے کی تاکید بھی انتخابات کو متاثر کر سکتی ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی بھی ان جماعتوں میں شامل ہے لیکن پارٹی کے صوبائی سربراہ انور سیف اللہ خان کا کہنا ہے کہ عوام تک پہنچے بغیر سیاسی عمل مکمل نہیں ہوتا۔

انھوں نے کہا کہ اگر وہ عوام تک نہیں پہنچے تو یہ سیاست ہی نہ ہوئی اس لیے وہ جلسے منعقد کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اس وقت خود لکی مروت میں موجود ہیں جہاں وہ سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔

انور سیف اللہ خان نے بی بی سی کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ انتخابات سے پہلے خیبر پختونخوا میں پانچ بڑے جلسے منعقد کیے جائیں گے جس میں مرکزی رہنما بھی شریک ہوں گے اور اس کے لیے تمام حفاظتی انتظامات کیے جائیں گے۔

پانچ سالہ دورِ اقتدار میں عوامی نیشنل پارٹی نے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی اتحادی حکومت کا حصہ رہی ہے لیکن اس جماعت کو ان پانچ سالوں میں صوبہ خیبر پختونخوا کی سطح پر نشانہ نہیں بنایا گیا۔

پیپلز پارٹی کی انتخابی مہم کے بارے میں سیاسی مبصر اور سینیئر صحافی عقیل یوسفزئی کہتے ہیں کہ یہ انتخابات خیبر پختونخوا میں عوامی نینشل پارٹی اور پیپلز پارٹی کے لیے انتہائی مشکل ہوں گے۔

انھوں نے کہا کہ شدت پسندوں نے عوامی نیشنل پارٹی کو سر فہرست قرار دیا ہے اور دوسرے نمبر پر پاکستان پیپلز پارٹی جبکہ تیسرے نمبر پر متحدہ قومی موومنٹ ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ ا طرح کی دھمکیوں سے واضح ہوتا ہے کہ ان جماعتوں کو دیوار سے لگا دیا گیا ہے۔

انتخابات کے حوالے سے سیاسی سرگرمیاں شروع ہو چکی ہیں اور سیاسی جماعتیں اپنے طور پر ووٹرز کے پاس پہنچ رہی ہیں۔ گلی محلے کی سطح پر سیاسی جماعتیں اور امیدوار جلسے منعقد کر رہے ہیں لیکن ان میں خوف کا عنصر واضح طور پر پایا جاتا ہے۔

خیبر پختونخوا میں عوامی نیشنل پارٹی اور پاکستان پیپلز پارٹی کے بارے میں مبصرین کہتے ہیں کہ ان کے لیے یہ میدان پھولوں کی سیج نہیں بلکہ کانٹوں کا بستر ثابت ہو سکتا ہے۔

اسی بارے میں