جعلی ڈگری:مزید دو ارکانِ اسمبلی کو سزا

Image caption جمشید دستی نے حال ہی میں الیکشن نہ لڑنے کا اعلان بھی کیا تھا

جعلی اسناد کے مقدمات میں سابق ارکانِ اسمبلی کو عدالت سے سزائیں سنائے جانے کا سلسلہ جاری ہے اور جمعرات کو مزید دو ارکان کو عدالت نے قید اور جرمانے کی سزائیں دی ہیں۔

صوبہ پنجاب کے شہر مظفرگڑھ کی عدالت نے پاکستان پیپلز پارٹی کے سابق رکن قومی اسمبلی جمشید دستی کو جعلی ڈگری کیس میں تین سال قید کی سزا سنائی۔

انہیں پانچ ہزار روپے جرمانہ بھی ادا کرنا ہوگا اور سزا سنائے جانے کے بعد جمشید دستی کو عدالت کے احاطے سے گرفتار کر لیا گیا۔

اس سزا کے بعد جمشید دستی آئندہ انتخابات لڑنے کے لیے نااہل ہو گئے ہیں۔ انہوں نے بدھ کو آئندہ انتخابات میں حصہ نہ لینے کا اعلان کیا تھا۔

خیال رہے کہ جمشید دستی کو ڈگری جعلی ثابت ہونے کے بعد اپنی قومی اسمبلی کی نشست سے مستعفی ہونا پڑا تھا۔

تاہم بی اے کی شرط ختم ہونے کی وجہ سے انہوں نے مظفر گڑھ کے حلقہ این اے 178 سے دوبارہ ضمنی انتخابات میں حصہ لیا تھا اور ایک بار پھر رکنِ اسمبلی بنے تھے۔

ادھر پشاور میں عدالت نے جعلی ڈگری کے مقدمے میں عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما اور خیبر پختونخوا اسمبلی کے سابق رکن سید عاقل شاہ کو ایک سال قید اور تین ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی ہے۔

سید عاقل شاہ گزشتہ اسمبلی میں پشاور سے منتخب ہوئے تھے اور سابق کابینہ میں صوبائی وزیر کھیل تھے۔ انہیں جمعرات کو پشاور میں سیشن جج شہبر خان نے عوامی نمائندگی ایکٹ کی شق 82 کے تحت سزا سنائی۔

عاقل شاہ کی بی اے کی ڈگری جعلی ثابت ہوئی تھی اور انہیں اس بارے میں غلط بیانِ حلفی جمع کروانے پر یہ سزا دی گئی۔ عدالت سے سزا ملنے کے بعد عاقل شاہ کو جیل بھیج دیا گیا ہے۔

Image caption سپریم کورٹ نے مقامی عدالتوں کو جعلی ڈگریوں سے متعلق مقدمات کو چار اپریل تک نمٹانے کا حکم دے رکھا ہے

قانونی ماہرین کے مطابق عاقل شاہ اس فیصلے کے خلاف پشاور ہائی کورٹ میں اپیل کر سکتے ہیں۔ وہ خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے تیسرے رکنِ اسمبلی ہیں جنہیں رواں ہفتے اس معاملے میں سزا ہوئی ہے۔

اس سے قبل ڈیرہ اسماعیل خان سے سابق رکنِ اسمبلی خلیفہ عبدالقیوم اور صوابی سے سابق رکن اسمبلی سردار علی کو جعلی ڈگری کے مقدموں میں تین، تین سال قید اور پانچ، پانچ ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی ہے۔

یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے مقامی عدالتوں کو جعلی ڈگریوں سے متعلق مقدمات کو چار اپریل تک نمٹانے کا حکم دے رکھا ہے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق ابھی تک 189 ارکان نے ابھی تک اپنی ڈگریوں کی تصدیق نہیں کروائی اور سپریم کورٹ نے ان سابق ارکان کو پانچ اپریل تک اپنی تعلیمی اسناد کی تصدیق کروانے کی مہلت دی ہے۔

اسی بارے میں