سکروٹنی کا یہ عمل

الیکشن کمیشن
Image caption ریٹرننگ افسر جو سوال کر رہے ہیں اس میں ہمارا کوئی کردار نہیں: الیکشن کمیشن

پاکستان میں گیارہ مئی کے تاریخی انتخابات سے قبل ملک کے بہت سے حلقوں میں ریٹرننگ افسر جس طرح آئین کی شقوں باسٹھ اور تریسٹھ کے تحت انتخاب میں حِصّہ لینے کے خواہشمند افراد کی اہلیت جانچنے کی کوشش کر رہے ہیں اس نے ملک میں جمہوریت کے مستقبل کے بارے میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ سوال یہ اٹھایا جا رہا ہے کہ سکروٹنی کا یہ عمل انتخاب سے پہلے انتخاب تو نہیں؟

پوچھا یہ جا رہا کہ کیا یہ چند ریٹرننگ افسروں کا ذاتی فیصلہ ہے جس کے تحت وہ اپنی ہی سوچ کے مطابق چند منٹوں میں کمرۂ عدالت میں ایک، دو یا چند سوالات کے ذریعے یہ طے کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ان کے سامنے کھڑے امیدوار اچھے مسلمان اور پاکستان کے اسلامی نظریے کے حامی ہیں یا نہیں؟ یا، بصورت دیگر، یہ کارروائیاں اس سلسلے کی کڑی ہیں جس کے تحت قیامِ پاکستان کے وقت سے غیر منتخب ادارے براہ راست یا بالواسطہ طور پر ملک میں اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط رکھنا چاہتے۔

ریٹرننگ افسروں کے اس انداز کے بارے میں ماہرین کی ایک رائے تو یہ سامنے آئی ہے کہ انہیں ایک اختیار ملا ہے اور وہ اس کا مزہ لے رہے ہیں، ’شغل چل رہا ہے، میڈیا کو بھی مزہ آ رہا ہے اور دیکھنے والوں کو بھی‘، لیکن یہ بات اس سے آگے نہیں بڑھے گی، معاملات اپیل میں جائیں گے اور اخلاقی بنیادوں پر کسی امیدوار کے کاغذات مسترد نہیں ہوں گے۔

دوسری رائے قدرے مختلف ہے۔ وہ اس دلیل کو مسترد کرتی ہے کہ کوئی ایک شخص یا افسر کسی امیدوار کے اچھا مسلمان اور اچھا پاکستانی ہونے کے بارے میں فیصلہ نہیں کر سکتا، یہ لوگ اس دلیل کو بھی مسترد کرتے ہیں کہ جرم کا فیصلہ تو عدالتوں میں ہو سکتا ہے لیکن گناہ، ثواب کا فیصلہ خدا کے ہاں ہوگا۔ اس رائے کے نزدیک ان کی مخالفت کرنے والے ’پاکستان کے اسلامی نظریے‘ کے معیار پر پورا نہیں اترتے اور انہیں اسمبلیوں میں بیٹھنے کا کوئی حق نہیں۔

دوسری رائے کو اگر سنجیدگی سے لیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ صرف وہ لوگ انتخابات میں حِصّہ لے سکتے ہیں جن کی اسلام، پاکستان اور اس کی تاریخ کے بارے میں سوچ اور سمجھ ان غیر منتخب اداروں میں بیٹھے افراد کی سوچ سے مطابقت رکھتی ہے۔

پاکستان میں جمہوریت پسندوں اور غیر منتخب اداروں کے درمیان اقتدار پر کنٹرول کی یہ کشمکش ملک کے قیام کے بعد سے ہی جاری ہے، جس میں غیر منتخب اداروں کا پلڑا بھاری رہا ہے۔

انیس سو اٹھاسی میں جنرل ضیا الحق کی ہلاکت کے بعد جماعتی بنیادوں پر انتخابات کے ذریعے ایک جمہوری سفر شروع ہوا جو انیس سو ننانوے تک چلا جب میاں نواز شریف کی دوسری حکومت کو اس وقت کے فوجی سربراہ نے براہ راست مداخلت کر کے ختم کر دیا۔

اس دوران چار اسمبلیاں منتخب ہوئیں لیکن ہر بار انہیں مدت ختم کرنے سے پہلے ہی آئین کی شق اٹھاون ٹو بی کے تحت ختم کیا جاتا رہا۔ المختصر اسمبلیاں منتخب تو پاکستان کے عوام کرتے تھے لیکن ان کی کارکردگی پر فیصلہ ملک کے صدور جاری کرتے رہے اور اپنا عدم اعتماد ظاہر کر کے انہیں گھر بھیجتے رہے۔

سن دو ہزار آٹھ میں جب پاکستان کی اس برس منتخب ہونے والی قومی اسمبلی نے اپنا سفر شروع کیا تو کم ہی لوگوں کو یقین تھا کہ وہ اپنی پانچ سالہ آئینی مدت پوری کر سکے گی۔ لیکن بار بار نقصان اٹھانے کے بعد سیاستدانوں نے مل کر اٹھاون ٹو بی آئین سے نکال دی۔ پاکستان کی اس قومی اسمبلی نے سولہ مارچ سن دو ہزار تیرہ کو اپنی تاریخ میں پہلی بار یہ سنگ میل پار کر لیا۔

اب ملک دوسرے سنگِ میل کی طرف بڑھ رہا ہے جب پاکستانی عوام پہلی بار خود فیصلہ کریں گے کہ ان کی منتخب کردہ حکومت ان کی توقعات پر پورا اتری یا نہیں اور وہ آئندہ پانچ برس کے لیے نئے نمائندے منتخب کریں گے۔

اس سنگِ میل کے راستے میں باسٹھ تریسٹھ کے استعمال کی بحث آ گئی ہے۔ ان شقوں کے غلط استعمال سے صرف نظریاتی اختلاف کی بنیاد پر لوگوں کو انتخاب لڑنے سے روکا جاسکتا ہے اور یہ پاکستان کے شہریوں کی اپنے نمائندے منتخب کرنے کی صلاحیت پر شک کے مترادف ہوگا۔

اور اگر ایسا نہیں بھی تو جس انداز میں امیدواروں کی اہلیت کے بارے میں نئے نئے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں اور میڈیا پر یہ عمل نظر آ رہا ہے، اس سے سیاستدانوں اور سیاست کی ساکھ ضرور متاثر ہو رہی ہے۔ نتیجہ، آئندہ اسمبلی کی نمائندہ حیثیت پر سوالیہ نشان لگ جائےگا۔

اور ایک اور کمزور پارلیمان کا مطلب یہ ہو گا کہ غیر منتخب اداروں اور قومی اسمبلی کے درمیان کشمکش کا ایک نیا دور چلے گا جس میں نقصان عوام کا ہوگا اور ساکھ جمہوریت کی متاثر ہو گی۔

اسی بارے میں