’انتخابات سے امیدواروں کو باہر رکھنے کی منظم کوشش‘

پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق نے کہا ہے کہ انتخابات سے امیدواروں کو باہر رکھنے اور لوگوں کو اپنی مرضی کے امیدوار منتخب کرنے اور ان کا محاسبہ کرنے کی صلاحیت کو سبوتاژ کرنے کی منظم کوششیں ہورہی ہیں۔

کمیشن نے کہا ہے کہ اب یہ بات صاف ظاہر ہے کہ امیدواروں کی جانچ پڑتال کا تازہ ترین عمل چن چن کے سزا دینے کی مہم ہے جس کا مقصد امیدواروں کو ڈرانا اور بے عزت کرنا ہے۔

ہفتے کو لاہور میں ہونے والے کمیشن کی مجلس عاملہ کے اجلاس کے اختتام پر جاری ہونے والے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ جانچ پڑتال کا یہ عمل جمہوریت کی روح کی اہمیت کم کرتا ہے اور عوام کے اپنے نمائندوں منتخب کرنے کے حق اور صلاحیت پر عدم اعتماد کو ظاہر کرتا ہے۔

کمیشن نے کہا ہے کہ یہ عمل بظاہر قومی سیاست میں شدت پسندی کو جگہ دینے اور لوگوں پر ملائیت پر مبنی حکمرانی مسلط کرنے کے جنرل ضیاء الحق کا ایجنڈہ مسلط کرنے کی کوشش لگتی ہے۔

کمیشن نے سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی سے کہا ہے کہ وہ پاکستان میں جمہوریت کا دیوالیہ نکالنے اور غیرمنتخب حکمرانی متعارف کرانے کی ان کوششوں کے خلاف سینہ سپر ہوجائیں۔

یاد رہے کہ جمعہ کو لاہور ہائی کورٹ نے پنجاب بھر کے ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسران اور ریٹرننگ افسران کو ہدایت کی تھی کہ وہ انتخابی امیدواروں سے غیر ضروری سوالات نہ کریں اور ٹی وی چینلوں کو کمرہ عدالت سے براہ راست کوریج کی اجازت نہ دیں۔

لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس سید منصور علی شاہ نے پنجاب بھر کے ریٹرننگ افسران کو حکم دیا تھا کہ وہ امیدواروں سے کاغذات کی جانچ پڑتال کے دوران غیر متعلقہ سوالات مت پوچھیں۔

جسٹس منصور علی شاہ نے اس بات کا سخت نوٹس لیا کہ ریٹرننگ افسران امیدواروں سے غیر ضروری اور غیر متعلقہ سوال پوچھے جا رہے ہیں۔ہائی کورٹ کے جسٹس سید منصور علی شاہ نے قرار دیا کہ غیر متعلقہ باتوں اور اس طرح کے اقدامات سے عدلیہ کے تاثر خراب ہوگا۔

لاہور ہائی کورٹ کے اس عبوری فیصلے کے بعد الیکشن کمیشن نے ملک بھر کے ریٹرننگ آفیسرز کو احکامات جاری کیے ہیں کہ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کے دوران امیدواروں سے غیر ضروری سوالات نہ پوچھیں۔

اسی بارے میں