’پولنگ مراکز میں فوج تعینات کرنے کی مخالفت‘

Image caption ملک حبیب خان کا کہنا تھا کہ فوج کوئیک رسپانس فورس کے طور پر کام کرے گی

فوج کے اعلیٰ حکام نے عام انتخابات کے دوران ہر پولنگ سٹیشن کے اندر فوجی افسران کو تعینات کرنے کی مخالفت کی ہے جبکہ نگراں وزیر داخلہ ملک حبیب خان کا کہنا ہے کہ انتخابات کے دوران فوج کی تعیناتی کا فیصلہ الیکشن کمیشن نہیں بلکہ حکومت کرے گی۔

عام انتخابات کے دوران سکیورٹی کی صورت حال اور ممکنہ حملوں سے متعلق سنیچر کو وزارتِ داخلہ میں ایک اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا جس میں ملک میں امن و امان کی مجموعی صورت حال کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں شامل ایک اعلیٰ سرکاری اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی اردو کو بتایا کہ اجلاس کے دوران فوجی اہلکار تعینات کرنے سے متعلق الیکشن کمیشن کے فیصلے پر تحفظات کا اظہار کیا گیا اور کہا گیا کہ کسی بھی پولنگ سٹیشن پر انتخابات کے دوران ممکنہ دھاندلی کی صورت میں فوج پر بھی اُنگلیاں اُٹھ سکتی ہیں۔

نامہ نگار شہزاد ملک نے بتایا کہ اہلکار کے مطابق اجلاس میں موجود ڈی جی ملٹری آپریشن نے پولنگ سٹیشن پر فوجی اہلکاروں کو تعینات کرنے کی مخالفت کی۔ نگراں وزیر داخلہ نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ فوجی حکام نے پولنگ سٹیشن پر فوجی اہلکاروں کو تعینات نہ کرنے کی حمایت کی ہے۔

خفیہ اداروں کی طرف سے عام انتخابات کے دوران شدت پسندی کے علاوہ دیگر ممکنہ خطرات کے بارے میں بھی اجلاس کے شرکاء کو آگاہ کیا گیا جس کی بنیاد پر چاروں صوبوں کی پولیس کے سربراہوں کو اس معاملے میں حکمت عملی اور ہنگامی منصوبوں سے متعلق عملی اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی گئی۔

یاد رہے کہ آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے جمعہ کو چیف الیکشن کمشنر جسٹس ریٹائرڈ فخرالدین جی ابراہیم سے ملاقات کی تھی اور اُنہیں مکمل حمایت اور تعاون کا یقین دلایا ہے۔

اجلاس کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے نگراں وزیر داخلہ ملک حبیب خان نے کہا کہ کوئی بھی ادارہ اپنے تئیں فوج کو طلب نہیں کرسکتا اور یہ اختیار حکومت کے پاس ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ انتخابات کے دوران فوج کی تعیناتی کا فیصلہ ابھی نہیں ہوا اور یہ فیصلہ نگراں حکومت، الیکشن کمیشن کی مشاورت سے کرے گی۔

وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ انتخابات کے دوران اگر پولنگ سٹیشن پر کوئی ناخوشگوار واقعہ کے دوران کسی بھی فوجی اہلکار کی اگر وردی بھی پھٹ گئی تو پوری فوج کی بدنامی ہوگی اور وہ فوج کی عزت پر آنچ نہیں آنے دیں گے۔

ملک حبیب خان کا کہنا تھا کہ فوج کوئیک رسپانس فورس کے طور پر کام کرے گی تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورت حال میں ان کو طلب کیا جاسکے۔

ایک سوال کے جواب میں اُنہوں نے کہا کہ ملک کے تمام اہم سیاست دانوں کو جنہیں سکیورٹی کے خدشات ہیں، سکیورٹی فراہم کر دی گئی ہے تاہم اُنہوں نے یہ نہیں بتایا کہ ان سیاست دانوں کو کس نوعیت کے خطرات کا سامنا ہے۔

وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ اجلاس کے دوران چاروں صوبوں کی پولیس کے سربراہوں کا کہنا تھا کہ پولیس کسی بھی سیاسی جماعت کی حمایت نہیں کرے گی۔ اُنہوں نے کہا کہ خفیہ اداروں سے بھی کہا گیا ہے کہ وو دوسرے اداروں کے ساتھ بنیادی سطح پر بھی معلومات کا تبادلہ کریں تاکہ کسی بھی خفیہ اطلاع پر فوری اقدامات کیے جاسکیں۔

اسی بارے میں