گمشدہ ماں سے ملاپ

Image caption جوان میہافیز کی والدہ ڈائین جو الزائمرز کے مرض میں مبتلا ہیں بدھ کی صبح اپنے کتوں کو سیرکرانے باہر گئیں اور گم ہو گئیں۔

شمالی آئرلینڈ کے دارالحکومت بلفاسٹ کی ایک خاتون کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا کی وجہ سے انہیں ان کی والدہ گم ہونے کے نو گھنٹے بعد مل گئیں۔

جوآن میہافیز کی والدہ ڈائین جو الزائمرز کے مرض میں مبتلا ہیں بدھ کی صبح اپنے کتوں کو سیرکرانے باہر گئیں۔

کافی دیر گزرنے کے بعد جب وہ واپس نہیں پہنچیں تو ان کے خاندان والے بہت پریشان ہوئے اور ان کی تلاش کا سلسہ شروع ہوا۔

جوآن اس وقت ڈونیگل سے ٹرین پر واپس آ رہی تھیں اور ان کے پاس کوئی چارہ نہیں تھا کیونکہ سفر کی وجہ سے وہ کچھ بھی نہیں کر پا رہی تھیں اور اوپر سے موبائل کے سگنل بھی اس قدر بہتر نہیں تھے کہ وہ کال کر سکتیں۔

تو انہوں نے اس بے یارومددگاری کے اس عالم میں سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک پیغام لکھا جسے ٹوئیٹ کہا جاتا ہے اور فیس بک پر بھی ایک پیغام چھوڑا جسے سٹیٹس اپ ڈیٹ کہا جاتا ہے۔

انہوں نے اپنے فالوورز کو استدعا کی کہ وہ ان کے پیغام کو آگے پہنچائیں اور انہیں ری ٹویٹ کریں اور انہوں نے پیغام کے ساتھ ایک عدد تصویر بھی لگائی۔

ان کی ٹویٹ کچھ یوں تھی ’یہ میری والدہ ہیں اور یہ لاپتہ ہیں۔ انہیں باحفاظت گھر واپس لانے میں میری مدد کریں‘۔

اپنی ٹویٹ کے ساتھ انہوں نے مندرجہ ذیل الفاظ ہیش ٹیگ کے ساتھ لکھے جس سے ان کی ٹویٹ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچی۔

ہیش ٹیگ کیے گئے الفاظ تھے گمشدہ، بلفاسٹ، الزائمرز اور براہ مہربانی ریٹویٹ کریں۔

جوآن نے کہا کہ ’مجھے ٹوئٹر اور فیس بک سے بہت لگاؤ ہے اور مجھے زیادہ سے زیادہ افراد درکار تھے جو میری مدد کر سکتے تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد میری ماں کی تصویر دیکھتے اور ان کی تلاش کا کام اسی طرح تیزی سے ہوتا اور مجھے علم تھا کہ مجھے یہ کام دیر کرنے کی بجائے جلدی کرنا ہو گا۔‘

انہوں نے یہ بھی کہا کہ میں نہیں چاہتی تھی کہ ہر ایک کو پتہ چلے کہ ان کو الزائمر کا مرض لاحق ہے مگر اگر کسی وجہ سے ان کی واپسی میں جلدی مدد مل سکتی تھی تو میں ضرور شیئر کرتی اسی لیے میں نے یہ لفظ شیئر کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’مجھے علم تھا کہ ٹوئٹر ایک بہت ہی طاقتور میڈیم ہے اور مجھے صرف یہ چاہیے تھا کہ کوئی ایک شخص میری ماں کو دیکھ لے اور انہیں گھر واپس لے آئے۔‘

ان کے اس پیغام کو کئی سو مرتبہ ری ٹویٹ کیا گیا مگر سب سے اہم ری ٹویٹ ایک خاتون کرسٹینا مک سٹاروِک کی نظروں سے گزری۔

کرسٹینا کا کہنا ہے کہ ’میں اپنے کمرے میں بیٹھی ٹی وی دیکھ رہی تھی کہ میں نے ایک خاتون کو دیکھا جو دو کتوں کو لے کر میرے گھر کے قریب سے گزریں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’وہ کچھ پریشان اور تھکی لگیں اور میری نظر کچھ دیر ان پر ٹھہری مگر میں نے زیادہ ان پر توجہ نہیں گی۔‘

انہوں نے کہا کہ ’تقریباً تیس سیکنڈ بھی نہیں گزرے تھے کہ میں ٹوئٹر پر جوآن کے پوسٹر کو دیکھا جو آسکر نے ری ٹویٹ کیا تھا‘۔

میں نے فوری اپنی کار نکالی اور ڈائین کے پاس پہنچی ’میں ان کے پاس سے آہستگی سے گزری کیونکہ میں انہیں ڈرانا نہیں چاہتی تھی مگر مجھے یقین ہو گیا یہ ڈائین ہی ہیں۔‘

کرسٹینا نے انتہائی شائستگی سے ڈائین کو گھر ایک کپ چائے کے لیے مدعو کیا اور اس دوران ان کے شوہر نے جوآن اور پولیس سے رابطہ کیا۔

کرسٹینا نے ہنستے ہوئے کہا کہ ’میرے شوہر ہر وقت میرے ٹوئٹر پر رہنے پر میرے پیچھے پڑے رہتے تھے اب وہ ایسا نہیں کر سکیں گے۔‘

دوسری طرف جوآن کو سوشل میڈیا پر آنے والے ردِ عمل سے بہت خوشگوار حیرت ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ ’میری والدہ آٹھ میل پیدل چلیں اور ہمیں کوئی علم نہیں تھا کہ وہ اتنی دور چلی گئی ہیں۔ میرے شوہر کہتے ہیں کہ میری والدہ ایک ٹوئٹر بیوہ ہیں مگر میں ٹوئٹر اور غیروں کی شفقت اور محبت کی ممنون ہوں جن کی وجہ سے میری والدہ گھر واپس پہنچیں۔‘

اسی بارے میں