اختر مینگل کی جلاوطنی کے بعد کوئٹہ واپسی

بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کے سربراہ سردار اختر مینگل پونے چار سالہ خود ساختہ جلاوطنی کے بعد اتوار کو کوئٹہ پہنچے۔

کراچی سے جب وہ کوئٹہ کے ہوائی اڈے پر پہنچنے پر تو ان کی جماعت کے کارکنوں نے ان کا استقبال کیا ۔

سردار اختر مینگل کو موٹر سائیکلوں اور گاڑیوں کی جلوس میں سول سیکریٹریٹ کے قریب ہاکی چوک لایا گیا جہاں انہوں نے جلسے سے خطاب کیا۔

ہاکی گراؤنڈ کا انتخاب پارٹی کی جانب سے سیکورٹی خدشات کے پیش نظر کیا گیا تھا۔

سردار اختر مینگل نے اپنے خطاب میں انتخابی مہم کے حوالے سے کوئی بات کرنے کی بجائے بلوچستان کی موجودہ صورتحال پر زیادہ اظہار خیال کیا ۔

ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ 65سالوں میں جو بھی آیا اس نے بلوچوں کو لاشیں دیں۔

انہوں نے سابق جمہوری حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’جمہوریت کے دعویداروں نے بلوچستان میں دودھ اور شہد کی نہیں بلکہ بلوچوں کے خون کی ندیاں بہائیں ۔ہمارے لاپتہ بھائیوں کی لاشوں کے انبار لگائے گئے ‘۔

انہوں نے کہا کہ پارٹی کی جانب سے جو مطالبات پیش کیے گئے ہیں اگر ان کو تسلیم نہیں کیا گیا تو پارٹی پارلیمنٹ میں جانے کے فیصلے پر نظر ثانی کرسکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا ’گیارہ مئی اور آج کے دن میں ایک مہینے سے زیادہ عرصہ باقی ہے اور اگر ہمارے مطالبات کو تسلیم کیا گیا تو ہم آئندہ پارلیمنٹ میں جائیں گے ورنہ یہ پارلیمنٹ ان کو مبارک ہو‘۔

سردار اختر مینگل نے کہا کہ ہم بلوچستان میں امن چاہتے ہیں جہاں کسی بھی قوم اور مسلک سے تعلق رکھنے والے افراد کا خون نہ بہے اور بلوچ، پشتون، ہزارہ، سنی، شیعہ اور تمام مسالک کوہ چلتن کے دامن میں بلاخوف اور خطر زندگی بسر کریں ۔

جلسے میں متعدد قرار دادیں منظور کی گئیں جن میں گوادر پورٹ کو چینی کمپنی کے حوالے کرنے اور پاکستان ایران گیس پائپ لائن منصوبے کے معاہدات کو منسوخ کرنے کے مطالبات بھی شامل تھے۔

بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) نے الزام عائد کیا ہے کہ پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل پر حملے کی سازش تیار کی گئی تھی جسے پارٹی کے رضاکاروں نے ناکام بنا دیا ہے۔

اتوار کی شب کوئٹہ میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی کے سینیئر نائب صدر ڈاکٹر جہانزیب جمالدینی نے کہا کہ پارٹی قائد سردار اختر مینگل جب ریلوے ہاکی گراؤنڈ میں جلسے سے خطاب کے بعد اپنے گھر کی جانب جا رہے تھے تو جائنٹ روڈ پر ان کے قافلے میں تین مشتبہ گاڑیاں داخل ہوئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پارٹی کے رضا کاروں نے ان گاڑیوں کو روکا تو ان میں مسلح افراد سوار تھے جن کا تعلق ان کے بقول بلوچ دشمن ڈیتھ سکواڈ سے تھا۔

انہوں نے کہا کہ بعد میں ان مسلح افراد کو پولیس کی تحویل میں دیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک منظم سازش کے تحت پارٹی قائدپر قاتلانہ حملے کی کوشش کی گئی لیکن پارٹی رضا کاروں کی وجہ سے وہ ناکام ہوئی۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ جن افراد کو ولیس کے حوالے کیا گیا ان کے خلاف مقدمہ درج کرکے ان کو قرار واقعی سزا دی جائے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ پولیس اس بات کی تصد یق نہیں کر رہی تو ان کا کہنا تھا کہ یہ امر افسوسناک ہے کہ بلوچستان میں پولیس مفلوج ہوچکی ہے اور طاقتوروں پر کوئی ہاتھ نہیں ڈالتا۔

جب ایس ایچ او سول لائنز سے اس واقعے کے بارے میں وچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ایسا کوئی واقعہ ان کے نوٹس میں نہیں ۔

اسی بارے میں