پرویز مشرف کے کاغذات منظور، پرویز اشرف کے نامنظور

Image caption پرویز مشرف کے کاغذات تین مختلف حلقوں سے نامنظور کیے جا چکے ہیں

پاکستان میں گیارہ مئی کو ہونے والے عام انتخابات میں حصہ لینے کے لیے چترال کے حلقہ این اے 32 سے سابق فوجی صدر جنرل پرویز مشرف کے کاغذاتِ نامزدگی منظور ہو گئے ہیں جب کہ سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کے این اے 51 گوجر سے کاغذاتِ نامزدگی مسترد کر دیے گئے ہیں۔

واضح رہے کہ جنرل پرویز مشرف کے کاغذاتِ نامزدگی مختلف حلقوں سے مسترد ہو چکے ہیں۔

خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق چترال سے پرویز مشرف کے کاغذات منظور کرنے والے ریٹرنگ افسر جمال خان نے کہا، ’انھیں اب تک مجرم قرار نہیں دیا گیا، اس لیے ہم انھیں نااہل نہیں قرار دے سکتے۔‘

اسی دوران اتوار کو سہ پہر این اے 48 اسلام آباد سے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے کاغذاتِ نامزدگی مسترد کر دیے گئے۔ ان کے کراچی کے حلقہ این اے 250 سے کاغذاتِ نامزدگی پہلے ہی مسترد کر دیے گئے تھے۔

صدر مشرف کی جماعت کے ایک عہدے دار نے اے ایف پی کو بتایا کہ یہ فیصلہ ’جانب دارنہ‘ ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی جائے گی۔

کراچی کے ریٹرننگ آفیسر کے بقول سابق صدر پر آئین سے انحراف اور ججوں کو نظر بند کرنے کے الزامات ہیں اس لیے وہ انتخاب میں حصہ لینے کے اہل نہیں ہیں۔

جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کراچی سے قومی اسمبلی حلقہ 250 سے امیدوار تھے اور سنیچر کو جماعتِ اسلامی کے سابق ضلعی ناظم نعمت اللہ خان نے ان کے کاغذات نامزدگی کو چیلنج کیا تھا۔

نعمت اللہ خان کے مطابق سابق فوجی صدر نے دو بار آئین توڑا ہے اس لیے وہ انتخابات میں حصہ لینے کے اہل نہیں ہیں۔

اس سے پہلے جمعہ کو پنجاب کے علاقہ قصور کے ریٹر ننگ آفیسر نے جنرل پرویز مشرف کے کاغذات نامزدگی مسترد کرتے ہوئے انہیں انتخابات میں حصہ لینے کے لیے نااہل قرار دیا تھا۔

واضح رہے کہ پاکستان کی سپریم کورٹ نے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ چلانے سے متعلق دائر کی گئی درخواست منظور کرتے ہوئے پیر سے اس کی سماعت کا اعلان کیا ہے۔

ادھر الیکشن کمیشن کے ریٹرننگ آفیسر نے قومی اسمبلی کے حلقے این اے 51 گوجر خان کے لیے راجہ پرویز اشرف کے کاغذاتِ نامزدگی مسترد کر دیے۔ ان پر اعتراضات کیے گئے تھے کہ انھوں نے اپنے دورِ اقتدار میں اپنے خاندان والوں کو نوازا اور اختیارات کا ناجائز استعمال کیا۔

مسلم لیگ (ن) کے رہنما چوہدری نثار علی خان کے اثاثوں کی درست تفصیل فراہم نہ کرنے کی بنا پر کاغذاتِ نامزدگی مسترد کردیے گئے جب کہ میاں نواز شریف، مخدوم امین فہیم، عمران خان اور دیگر رہنماؤں کے کاغدات منظور ہوگئے ہیں۔

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے پشاور، راولپنڈی، لاہور اور میانوالی سے کاغذات نامزدگی منظور ہوچکے ہیں۔

صوبہ بلوچستان سے صحافی محمد کاظم نے بتایا ہے کہ محمد خان اچکزئی، سردار اختر مینگل، مولانا محمد خان شیرانی، ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ اور دیگر کے کاغذات منظور ہوگئے ہیں۔ جبکہ بلوچستان کے سابق وزیراعلیٰ اسلم رئیسانی نے یہ کہتے ہوئے الیکشن میں حصہ نہیں لیا کہ اس سیاست سے اچھا ہے کہ وہ نسوار بیچیں۔

سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی بھی نا اہلی کی وجہ سے الیکشن میں حصہ نہیں لے رہے۔ لیکن اسلم رئیسانی اور یوسف رضا گیلانی کے بیٹے انتخاب لڑ رہے ہیں۔

گیارہ مئی کے عام انتخابات کا آج دوسرا مرحلہ یعنی کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال مکمل ہوگئی ہے۔ 24 ہزار سے زائد امیدواروں نے کاغذات نامزدگی داخل کیے جس میں سے بیسیوں امیدواروں کے کاغذات مسترد کردیے گئے ہیں۔

پاکستان کی انتخابی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں امیدواروں نے کاغدات نامزدگی داخل کیے ہیں، جس کی تعداد چوبیس ہزار سے بھی زیادہ ہے۔

الیکشن کمیشن کے ایک سینئر افسر افضل خان نے بتایا کہ ملک بھر میں سوا چار سو ریٹرننگ افسران نے ایک ہفتے تک امیدواروں کی کاغذاتِ نامزدگی کی چھان بین کی ہے۔

پاکستان کے الیکشن کمیشن کے جاری کردہ شیڈول کے مطابق اب تیسرا مرحلا ریٹرننگ افسران کی جانب سے امیدواروں کے کاغذات مسترد یا منظور کیے جانے کےخلاف اپیلیں داخل کرنے اور انہیں نمٹانے کا ہوگا۔ اپیلیں دس اپریل تک داخل ہوں گی اور 17 اپریل تک ان پر فیصلہ سنانا لازم ہوگا۔ اپیلوں کی سماعت کے چاروں صوبوں کی ہائی کورٹوں کے ججوں پر مشتمل بینچ پہلے ہی بن چکے ہیں۔

واضح رہے کہ انتخابات کے لیے امیدواروں کی حتمی فہرست انیس اپریل کو جاری ہوگی۔

اسی بارے میں