عدلیہ سے انصاف ملنے کی پوری امید ہے:مشرف

پاکستان کے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کا کہنا ہے کہ ملک میں آئین معطل کر کے ہنگامی حالت کا نفاذ اور ججوں کو ہٹانے کا فیصلہ اس وقت کے ماحول کے مطابق ایک صحیح فیصلہ تھا۔

بی بی سی اردو کے ساتھ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ انہیں ملک کی عدلیہ پر مکمل اعتماد ہے اور وہ امید کرتے ہیں کہ ان سے انتخاب لڑنے کا حق چھینا نہیں جائے گا۔

اس سوال پر کہ ان کے خیال میں کیا آئین معطل کرنا اور ججوں کو ان کے عہدوں سے ہٹانا صحیح اقدام تھا، پرویز مشرف نے کہا کہ ’اس وقت کے ماحول میں یہ صحیح فیصلے تھے۔‘

اسلام آباد میں بی بی سی کی نامہ نگار ارم عباسی کے مطابق انہوں نے کہا کہ ’اس وقت ایک ماحول تھا جس میں میں ایک جمہوری عمل، ایک مستحکم جمہوریت قائم کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ اس دوران کچھ ایکشن لیے گئے۔ یہ سب تاریخ ہے اور یہ عدالت میں پیش کیا جائیں گے۔‘

پرویز مشرف کا کہنا تھا کہ انہیں پاکستان کی عدالتوں سے انصاف ملنے کی پوری امید ہے اور اگر وہ عدالت سے انصاف کی امید نہیں رکھیں گے تو کس سے رکھیں گے۔

سابق صدر نے کہا کہ انہیں ایک ہی وقت میں کئی محاذوں پر لڑنا پڑ رہا ہے۔ ’ملٹی پل فرنٹس ہیں جن پر لڑنا پڑے گا۔ الیکشن لڑنا سب کا حق ہے تو میرا بھی حق ہے۔‘

اسلام آباد اور کراچی سے ان کے نامزدگی فارم منسوخ کیے جانے سے متعلق سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا، آئین کے آرٹیکل 62، 63 حساب سے تو ایسا کوئی بھی معاملہ نہیں بنتا کہ ان کے کاغذاتِ نامزدگی منسوخ کیے جائیں مگر پھر بھی یہ ہوا ہے تو انہوں نے اسے چیلنج کیا ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جیتنے کی صورت میں وہ پارلیمان میں بیٹھنے کا فیصلہ حالات دیکھ کر ہی کریں گے: ’میں نہیں چاہوں گا کہ میں پارلیمان میں کسی غیر اہم پوزیشن میں بیٹھوں۔ اگر کوئی پوزیشن بنتی ہے جس میں کوئی اہم کردار کر سکوں۔ لیکن اس بارے میں الیکشن کے بعد سوچیں گے۔‘

اس سوال پر کہ عدالت نے ان کے پاکستان سے باہر جانے پر پابندی لگا دی ہے، تو کیا یہ انہیں قبول ہے، پرویز مشرف نے کہا، ’میں یہاں الیکشن لڑنے اور رہنے کے لیے آیا ہوں، اس لیے اگر مجھے باہر جانے سے منع کرنے کی بات ہے تو اس میں مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے۔‘

کراچی کی عدالت میں حاضری پر صدر پرویز مشرف نے اسے توہین آمیز قرار دیا تھا۔ اس بارے میں پوچھے گئے سوال پر ان کا کہنا تھا، ’وہ ایک ابتدائی ردعمل تھا۔ پھر میں نے اس پر سوچا اور مجھے غلطی کا احساس ہوا کیونکہ میں خود اکثر کہتا رہا ہوں کہ قانون کے سامنے سب برابر ہیں تو یہ مجھ پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ دوسرے میں نے یہ بھی محسوس کیا کہ میں کسی انسان کے سامنے نہیں بلکہ ایک ادارے کے سامنے گیا ہوں۔‘

واضح رہے کہ پاکستان کی سپریم کورٹ نے سابق فوجی حکمران جنرل پرویز مشرف کو بغاوت کے مقدمے کی درخواست کي سماعت کے دوران منگل کو خود یا وکیل کے ذریعے پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔ پرویز مشرف کے مطابق ان کے وکیل عدالتِ عظمیٰ میں ان کی نمائندگی کریں گے۔

درخواست گزار وکلاء نے عدالت میں مطالبہ کیا ہے کہ جنرل مشرف پر اپنے دور اقتدار کے دوران ایمرجنسی نافذ کرنے اور 2007 میں سینیئر ججوں کو برخاست کرنے کا مقدمہ چلایا جانا چاہیے۔

جنرل مشرف 2008 میں اقتدار سے الگ ہونے کے بعد بیرونِ ملک چلے گئے تھے اور وہ اب مئی میں ہونے والے عام انتخابات میں شرکت کرنے کے لیے واپس پاکستان آئے ہیں۔

اسی بارے میں