تیراہ آپریشن جاری، ’13 اہلکار، سو سے زائد جنگجو ہلاک‘

Image caption تیراہ کی سرحدیں تین قبائلی علاقوں خیبر، اورکزئی اور کُرم سے ملتی ہیں

پاکستان کے فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ قبائلی علاقے خیبر ایجنسی کی وادئ تیراہ میں سکیورٹی فورسز کے آپریشن میں تیرہ سکیورٹی اہلکار اور ایک سو سے زیادہ شدت پسند ہلاک ہوئے ہیں۔

عسکری حکام کے مطابق جمعہ سے شروع ہونے والے آپریشن میں ہلاک ہونے والوں میں ایک سو کے قریب شدت پسند اور تیرہ فوجی شامل ہیں۔

یہ آپریشن خیبر ایجنسی کے اس دورافتادہ علاقے میں تین کالعدم شدت پسند تنظیموں لشکر اسلام، انصار الاسلام اور تحریک طالبان کے مابین کئی ہفتوں سے جاری جھڑپوں کے بعد شروع کیا گیا تھا۔

اقوام متحدہ کے قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے کا کہنا ہے کہ ان جھڑپوں کے نتیجے میں تیراہ سے 40 ہزار سے زیادہ افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق مقامی آبادی میں عام تاثر یہ ہے کہ انصار الاسلام کے جنگجو اور امن لشکر کے رضا کار سکیورٹی فورسز کے ہمراہ علاقے میں امن کے قیام کے لیے لشکرِ اسلام اور تحریکِ طالبان کے جنگجوؤں سے برسرِ پیکار ہیں تاہم صورتحال مکمل طور پر واضح نہیں ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق فوجی حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ چار روزہ آپریشن میں فوج کو فضائیہ کی مدد بھی حاصل رہی اور لڑائی میں اب تک سو سے زائد شدت پسند اور تیرہ فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔

Image caption جھڑپوں کے نتیجے میں تیراہ سے 40 ہزار سے زیادہ افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں

تاہم خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے ہلاک ہونے والے فوجی اہلکاروں کی تعداد تیس اور شدت پسندوں کی تعداد ستانوے بتائی ہے۔

اے پی کے مطابق حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ زمینی آپریشن کے دوران فوج نے طالبان اور ان کے حامیوں کے زیرِ قبضہ بڑے علاقے کا کنٹرول دوبارہ حاصل کر لیا ہے تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

خیال رہے کہ حال ہی میں پاکستان کے کمیشن برائے انسانی حقوق (ایچ آر سی پی) نے بھی وادی تیراہ کی خراب صورتحال پر تشویش ظاہر کی تھی اور ایک بیان میں کہا تھا کہ یہ امر قابل افسوس ہے کہ حکومت وادی میں اپنی رٹ قائم کرنے میں ناکام ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تشدد کی حالیہ لہر کے بعد بیشتر علاقے پر حکومت کا کنٹرول ختم ہوگیا ہے۔

وادئ تیراہ تقریباً سو کلومیٹر پر پھیلا ہوا ایسا قبائلی خطہ ہے جس کی سرحدیں تین ایجنسیوں خیبر، اورکزئی اور کُرم سے ملتی ہیں۔ یہ وادی افغانستان کی سرحد سے قریب اور باڑہ سے تقریباً 65 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

اس علاقے کی دفاعی اہمیت بہت زیادہ ہے اور یہیں سے شمال میں افغانستان کی سرحد پر تعینات پاکستانی فوج کے لیے سپلائی جاتی ہے۔

اسی بارے میں